There are only Pakistani ‘orphans’ in China, students

چین کے شہر ووہان میں مہلک وائرس کے باعث اب تک 170 افراد ہلاک ہوگئے ہیں

جبکہ 7700 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا ہے اور امریکا، کنیڈا، دبئی سمیت دیگر ممالک میں بھی 100 افراد کرونا وائرس کا نشانہ بن چکے ہیں۔دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو چین سے نکالنے یا ووہان شہر سے دوسرے مقامت پر منتقل کرنے کیلئے اقدامات کیے ہیں مگر ووہان کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے پاکستانی طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ ’یتیم‘ ہیں اور کوئی ان کا پوچھنے والا نہیں ہے۔سماء ٹی وی کے اینکر پرسن ندیم ملک نے وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کو اپنے پروگرام میں مدعو کیا اور چین میں محصور دو طلبہ نے بھی اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔

ندیم ملک نے کہا کہ چین سے طلبہ نے پیغامات ارسال کیے ہیں

کہ انہیں ووہان سے نکالا جائے مگر وزیر صحت کا خیال ہے کہ محصور پاکستانیوں کو فی الحال چین میں رکھا ہی سب کے مفاد میں ہے۔زلفی بخاری نے وزیر صحت کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چین سے بہتر کوئی بھی ملک اس وائرس سے نہیں نمٹ سکتا۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے کہ 10 دن تو متاثرہ شخص کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ اگر جلد بازی میں ہم نے کوئی قدم اٹھایا اور کرونا وائرس پاکستان میں پھیل گیا تو ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ اس کو کنٹرول کرسکیں۔ووہان یونیورسٹی کے ایک طالب علم وقار خان نے بتایا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک اپنے شہریوں کو نکال رہے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ صرف پاکستانی ہی یتیم ہیں۔ باقی تمام ممالک اپنے شہریوں کیلئے اقدامات کر رہے ہیں

۔زلفی بخاری نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا

کہ ابھی تک امریکااور کینیڈا نے بھی اپنے شہریوں کو نہیں نکالا۔ دیگر ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو محفوظ بنانے کیلئے ان کو الگ رکھا ہے۔زلفی بخاری نے کہا کہ دفتر خارجہ سمیت چینی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ چین میں موجود شہریوں کیلئے رابطہ نمبر اور ای میل ایڈریس بھی جاری کیا ہے۔ ان کی ہر ممکن مدد یقینی بنائیں گے۔ تین وقت کا مفت کھانا اور اضافی وظیفہ بھی یقینی بنائیں گے۔

I’ll bat at the top in the PSL: Sarfraz Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *