The worst case of female violence

ملازمت کے نام پر خاتون کو پنجرے میں بند کرنے، تشددکرنے، پاؤں پر گرم پانی پھینکنے اور ہاتھوں پر چھریاں مارنے کے کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کو پیشرفت رپورٹ کے ساتھ ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق 27مارچ 2019کو متاثرہ خاتون شریفہ مائی کو ملزم ذیشان شاہ نے بلایا۔ ملزم اور اس کی بیوی نے متاثرہ خاتون کو پنجرے میں بند کرکے رکھا ہوا تھا۔ پولیس نے خاتون کو بازیاب کرایا تو وہ پنجرے میں بند تھی۔

خاتون نے بتایا کہ ملزم اور اس کی بیوی مجھ سے گھر کا کام کرانے کے بعد مجھے پنجرے میں بند کردیتے تھے اور جب میں شور کرتی تھی تو مجھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے، میرے پاؤں پر گرم پانی پھینکتے تھے اور ہاتھوں پر چھریاں مارتے تھے۔

پولیس نے متاثرہ خاتون کا میڈیکل کروا کے ایف آئی آر نمبر 06/2020 درج کرکے اس کے بیٹے کے حوالے کردیا۔

پولیس نے متاثرہ خاتون کے بیٹے ابوبکر کی شکایت پر ملزم ذیشان کے گھرپر چھاپہ مار کر خاتون کو زخمی حالت میں برآمد کیا۔ ملزم نے خاتون کے بال بھی کاٹے ہوئے تھے۔ ملزم موقع سے فرار ہوگیا تھا۔

بعدازاں ملزم نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی تھی۔

اسی دوران متاثرہ خاتون نے اپنے وکیل لیاقت علی خان ایڈووکیٹ کے توسط سے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو 164 کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے درخواست دی جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو پابند کیا کہ 16جنوری کو پیشرفت رپورٹ بمعہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند کیا جاسکے۔ ملزمان کے خلاف تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج ہے۔

Jordanian princess became a pilot

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *