The first phase of a new NASA rocket carrying US astronauts to the moon is complete

The first phase of a new NASA rocket carrying US astronauts to the moon is complete
ناسا کے ’میگا راکٹ‘ ایس ایل ایس کا کور سٹیج امریکہ کی ریاست نیو اورلینز کی فیکٹری سے تیار ہو کر باہر آچکا ہے اور اب اس پر اہم تجربے کیے جائیں گے تاکہ لانچ کے لیے اس کے تیار ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لیا جا سکے۔

ایس ایل ایس یعنی سپیس لانچ سسٹم خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمیس پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد 2024 تک امریکی خلابازوں کو ایک مرتبہ پھر چاند پر لے کر جانا ہے۔کور سٹیج نئے راکٹ کا مرکزی حصہ ہے اور اس پر ریاست مسیسیپی میں جامع تجربات کیے جائیں گے۔بدھ کو اسے ایک بڑی سے چوکور کشتی پر لاد کر اس کی منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا۔طیارہ ساز کمپنی بوئنگ 30 منزلہ عمارت سے زیادہ اونچا یہ راکٹ ناساے لیے تیار کر رہی ہے. ناسا کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر جم مورہارڈ بھی اس راکٹ سٹیج کے فیکٹری سے باہر آنے کے موقع پر موجود تھے جسے نیو اورلینز میں میشود اسمبلی فیسیلیٹی (ایم اے ایف) میں تیار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ راکٹ سٹیج کی تیاری ’جوش سے بھر دینے والی کامیابی ہے اور اس دوران  ناسا کی ٹیمیں لانچ پیڈ تیار کر رہی ہیں۔‘

اس پروگرام کا اعلان سنہ 2010 میں کیا گیا تھا مگر تب سے اب تک اس میں کئی مرتبہ تاخیر ہوئی جبکہ اس کی لاگت میں اضافہ ہوا۔

خلائی صنعت سے وابستہ چند افراد کا خیال ہے کہ خلا میں دور دراز تک کے سفر کے لیے بہتر ہو گا کہ کمرشل راکٹس کا استعمال کیا جائے، مگر اس پروگرام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ناسا کے پاس ایسی صلاحیت خود موجود ہونی چاہیے۔ایم اے ایف سے باہر آنے کے بعد اس کور کو . ناسا کے پیگاسس بجرے پر لادا گیا جس کے بعد یہ آبی راستے سے گزرتا ہوا مسیسیپی میں بے سینٹ لوئس کے قریب ناسا کے سٹینِس خلائی مرکز جا پہنچے گا۔ناسا  کے سٹینِس خلائی مرکز میں کی جا رہی اس آزمائشی مہم کو ’گرین رن‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں پہلی مرتبہ کور سٹیج کے تمام سسٹمز کو ایک ساتھ چلا کر دیکھا جائے گا۔چار طاقتور آر ایس 25 انجنوں کو تقریباً آٹھ منٹ یا شاید اس سے کم کے لیے مختلف تھروٹل سیٹنگز پر چلایا جائے گا۔ یہ لانچ کے دوران درکار تھرسٹ یا قوت کی نقل کرنے جیسا ہو گا۔

ایس ایل ایس کی کور سٹیج میں دو ایندھن کے ٹینک ہوں گے جس میں سے ایک میں مائع آکسیجن اور دوسرے میں مائع ہائیڈروجن ہو گی۔

مجموعی طور پر ان دونوں ٹینکوں میں سات لاکھ 33 ہزار گیلن (27 لاکھ لیٹر) ایندھن ہو گا تاکہ دونوں انجنوں کو طاقت فراہم کی جائے۔ایس ایل ایس کو 1981 سے 2011 تک چلنے والے خلائی شٹل پروگرام کے لیے تیار کی گئی ٹیکنالوجی دوبارہ استعمال کرنے کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔آر ایس 25 انجن وہی ہیں جو خلائی شٹل میں استعمال کیے گئے تھے اور ایس ایل ایس کور سٹیج کو اس بیرونی ایندھن ٹینک کی طرح تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے شٹل کے انجنوں کو ایندھن فراہم کیا جاتا تھا۔ لیکن اس میں چند تبدیلیاں ضرور کی گئی ہیں۔سپیس شٹل کو لانچ میں مدد دینے والے دو سولِڈ راکٹ بوسٹرز ایس ایل ایس کی کور کی دونوں جانب موجود ہوں گے۔یہ راکٹ ناسا کے جدید ترین خلائی جہاز اورائن کو چاند کے راستے تک پہنچائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ راکٹ کی پہلی لانچ (آرٹیمس 1) سنہ 2021 میں کی جائے گی۔

.گذشتہ برس ایس ایل ایس پروگرام میں بوئنگ کے 2015 سے سربراہ جان شینن نے بتا

’مجھے لگتا ہے کہ ایک مرتبہ ایس ایل ایس جب قومی صلاحیت بن جائے گا، تو ہمیں کئی برسوں تک کسی دوسری ہیوی لفٹ وہیکل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چنانچہ یہ واقعی بہت نایاب موقع ہے۔ اب تک ناسا  کی بنائی گئی سب سے بڑی راکٹ سٹیج ہے جس میں اپالو پروگرام کی سیٹرن فائیو راکٹ سٹیج بھی شامل ہیں۔ناسا  کی ایس ایل ایس سٹیجز مینیجر جولی بیسلر نے کہا کہ ’پرواز کے پہلے ضروری حصے کا فیکٹری سے نکلنا ناسا  کے آرٹیمس پروگرام کے لیے تاریخی موقع ہے اور اس پر کام کرنے والی ٹیم کے لیے فخر کا مقام ہے۔‘اس دوران ناسا  اور اس کے پارٹنرز نے پہلے آرٹیمس مشن کے لیے اورائن سپیس کرافٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ یہ اب ریاست اوہائیو میں پلم بروک سٹیشن میں حتمی آزمائشوں سے گزارا جا رہا ہے۔

آرٹیمس 1 مشن میں اورائن کو چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ خلا کے حالات میں اس کی کارکردگی پرکھی جائے گی۔ اس مشن میں کوئی عملہ نہیں جائے گا۔

آرٹیمس 2 وہ پہلا مشن ہو گا جس میں چار خلا بازوں پر مشتمل عملے کو بھیجا جائے گا لیکن یہ چاند پر اترنے کے بجائے صرف چاند کا چکر لگا کر واپس آ جائے گا۔آرٹیمس 3 جسے 2024 میں لانچ کرنے کی توقع کی جا رہے ہے، اس میں چاند کے جنوبی قطب پر ایک مرد اور ایک خاتون خلا باز کو اتارا جائے گا۔یہ سنہ 1972 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

news:مزید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *