Political scenario and tickets in pakistan elections

پاکستان الیکشن کی تاریخ کے اعلان ہونے کے ساتھ ہی مختلف پارٹیوں نے اپنے ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہاں یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ ہر علاقہ اور پارٹی رہنماؤں کی یہ کوشش جاری ہے  کہ ان کو خود یا ان کے سپورٹر حضرات کو  پارٹی ٹکٹ جاری ہو سکے ۔  سیاسی جماعتوں میں متحرک بہت سے دھڑے اور لابیز اس کوشش میں ہے کہ صورت حال پر نظر رکھتے ہوئے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب کرایا جا سکے۔ جب کہ اس مرحلہ پر ملکی مقبول پارٹیز جن میںPTI  ظاہری طور پر سرفہرست ہے اور چونکہ سب سے زیادہ نئے سیاسی رہنما بھی اسی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں، اس پارٹی سے انتخابی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے زیادہ  کشمکش دیکھنے میں نظر آرہی ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہے پرانے تمام ایسے سیاسی رہنما یا گراس روٹ لیول پر کام کرنے والے کارکنان جنہوں نے پارٹی کے لیے بہت سی قربانیاں دی اور پارٹی کو نئے علاقوں میں متعارف کروایا اب ان کی جگہ نئے آنے والے سیاسی فصلی بٹیروں نے لے لی ہے، جس سے لامحالہ طور پر پارٹی کے اندر شدید تناؤ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں حیران کن طور پر ہر علاقے سے اپنا امیدوار کھڑا کرنے میں بھی کافی مشکلات میں گھری نظر آتی ہیں ۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگی سی بڑی پارٹیوں کو شاید سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا متفقہ امیدوار  کھڑے نہ کرنے پڑ جائیں۔ مزید برآں ان پارٹیز نے پہلے مربوط منصوبہ بندی پنجاب ممبران کو اعتماد میں لینے کی زیادہ کوشش بھی نہیں کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کی شروع سے یہ بدقسمتی رہی ہے کے چند مخصوص گھرانوں اور مخصوص خاندانوں نے حکمرانی کی اور اب وہ ہر صورت اپنے سیاسی ورثا کو بادشاہت نظام کی طرح اپنا  نیا جانشین مقرر کرنا چاہتے ہیں یا کم ازکم پیش کر چکے ہیں ۔
 اب عوامی سطح پر بھی لوگوں کو سوچنے اور سیاسی بصیرت کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب دقیانوسی خیالات چھوڑ کر عوام کو اپنے اندر ہی سے اپنے مسائل کو سمجھنے والے ، حقیقی نمائندوں کی ضرورت ہے۔ جبکہ پارٹی رہنماؤں کو تھوڑی سی سیاسی بصیرت اور ہمت دکھاتے ہوئے نئے لوگوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔ اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے، کہ کسی بھی نئی ابھرتی ہوئی پارٹی کو تمام نئے چہرے متعارف کرا کر مکمل کامیابی شاید نہ مل سکے ، پر تجرباتی طور پر متحرک نئے چہروں کو سیاست میں شامل کرنے سے عوام اور لوگوں کا اعتماد یقیناً پارٹیوں پر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جائے گا۔  جبکہ سیاسی پارٹیوں کو عام کارکنان اور گراس روٹ لیول پر محنت کرنے والے ورکرز کو بھی آگے آکر جماعت کی نمائندگی کرنے کا موقع ضرور دینا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *