One million 40,000 civil servants are involved in this illegal act

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے

کہ حکومت ان سرکاری ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کر رہی ہے جنہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غیرقانونی طور پر فوائد حاصل کئے۔تفصیلات کے مطا بق اطلاعات کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ  وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں  مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین اس غیرقانونی کاموں میں ملوث پائے گئے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ وفاقی حکومت نہ صرف ان سرکاری ملازمین سے یہ رقم برآمد کرے گی بلکہ ان کے اب خلاف مقدمات بھی درج کئے جائیں گے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے  یہ بھی کہا

کہ آزاد جموں و کشمیر میں گریڈ 17سے 22تک 9افسران ، گلگت بلتستان میں 40 ،کے پی کے میں 343،پنجاب میں 101،بلوچستان میں 537 اور سندھ میں 938 افسران نے اہلخانہ کے زریعے بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھایا۔کرپشن کی داستان کی اگلی قسط شہباز شریف کی منتظر ہے، شہزاد اکبرشہزاد اکبر کا کہنا تھا  کہ بی آئی ایس پی کے چار افسران بھی غریبوں کے پیسے لیتے رہے، وفاقی حکومت نہ صرف ان سرکاری ملازمین سے یہ رقم برآمد کی بلکہ افسران کو برطرف کر کے مقدمات درج کردیئے گئے ہیں۔

نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کایہ بھی کہنا تھا کہ ملوث افراد سے ریکوری ہوگی

اور انکے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونگے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ فنڈ خط غربت سے نیچے زندگی بسرکرنے والے افراد کی لئے قائم کیا گیا ہے کہ ان ظالموں نے غریبوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا اور مستحقین کا پیسہ انتہائی ڈھٹائی سے وصول کرتے رہے اور قوم کے بچوں سے بیرون ملک جائیدادیں خریدی گئیں ۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے مزید  کہا کہ محکمہ تعلیم کے ایک ہزار افسران مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں جبکہ  بی آئی ایس پی میں شفافیت کیلئے نادرا سےمعاونت حاصل کی جائیگی۔

Indian employee burnt his Saudi kaffel alive and stole huge cash

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *