Loved reading news, became an actress

Loved reading news, became an actress

ڈراما انڈسٹری میں اپنی اداکاری کا سکہ جمانے والی پاکستان کی نامور اداکارہ ’’صباحت بخاری‘‘ نے پی ٹی وی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سپر اسٹار بن گئیں۔ آج کل ہر دوسرے سیریل میں اپنے جوہر دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے جہاں ماں کے دِل چھولینے والے کردار بھی کئے وہیں منفی کردار بھی کیے۔

موسیقی کی شوقین حباحت نے گٹار اور پیانو بجانا صرف اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ اس میں ناخنوں کی قربانی دینا پڑتی تھی۔ اداکارہ بننے کے لیے ٹیچنگ، ٹیوشنز ، ایئر ہوسٹس ، ایکٹنگ ، نیوز اینکر ، انائونسر اور مارننگ شوز کی میزبانی سے لے کر پروڈکشن تک میں قسمت آزمائی۔ اُنہوں نے ’’جیو ٹی وی ‘‘ کے کئی اہم سیریلز میں بھی اپنی یاد گار اداکاری کے نقش چھوڑے ہیں جن میں ’’ماسی اور ملکہ ‘‘ اور ’’نیک پروین ‘‘ سر فہرست ہیں۔
اِن کے دیگر ڈراموں میں تیسرا پہر، شناخت، پاکیزہ، طائر لاہوتی، کنکر، تھوڑی سی بے وفائی، دیوانگی، دوسرا آسمان، بلبلے، مہربان ہاؤس، منی کی بٹیا، زرد زمانوں کا سویرا، محبت کھیل تماشہ ، قسمت کا لکھا، بے بی، چڑیوں کا چنبہ، سکھ جوڑا، زندگی مجھے تیرا پتہ چاہئے، راجو راکٹ، بیٹی جیسی، چاندنی، پیارے میاں بے چین وغیرہ میں اپنی اداکاری کے خوب جوہر دکھائے۔ صباحت ایک فلم ’’مان جاؤ ناں‘‘ میں بھی اپنی اداکاری کے جلوے دکھا چکی ہیں۔

ہنس مُکھ، خوش گفتار، نرم مزاج اور دوستانہ مزاج رکھنے والی پاکستان کی نامور اداکارہ سے گذشتہ دِنوں ہماری ملاقات ہوئی۔ اُن کی زندگی کے اُتار چڑھاؤ اور فنی مصروفیات سے متعلق ہمارے سوالات کے جواب میں جو کچھ اُنہوں نے کہا، وہ نذرِ قارئین ہے۔

اداکاری کا سکہ جمانے والی پاکستان کی نامور اداکارہ

٭… کیا اداکاری کا شوق بچپن سے ہے؟

صباحت بخاری …جی ہاں! یہ شوق بچپن ہی میں پروان چڑھا، شوبز کی دنیا میں آنے کے لیے والدین سے مار بھی بہت کھائی لیکن اپنے شوق سے باز نہ آئی۔

٭…آپ کافی عرصے سے اداکاری کر رہی ہیں لیکن اب تک ہیروئن کا کردار نہیں کیا، جب کہ ماں کے کردار خوب کیے؟
صباحت بخاری …ایسا نہیں ہے، میرا پہلا سٹ کام ڈرامہ 1995؁ء میں پی ٹی وی پر حیدرامام رضوی کے ساتھ تھا ، اس کا نام تھا ’’اب کیا ہوگا‘‘۔ اس میں ہیروئن ہی تھی۔ اس کے علاوہ ابتدائی دور میں ہیروئن کے کردار کافی کیے ہیں، البتہ ماں کے روپ میں کچھ زیادہ ہی اسکرین پر نظر آتی ہوں۔ ماں کے کردار کرتے ہوئے اب مجھے تقریباً 10برس ہوگئے ہیں۔

دراصل بات یہ ہے کہ، ہمارے معاشرے میں ’’ینگ مدرز‘‘ کا ٹرینڈ نہیں تھا لیکن جب ’’اسٹار پلس‘‘ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوا تو اس کے بعد یہاں بھی وہی ٹرینڈ شروع ہوگیا۔ مجھ سے پہلے ماں کے کردار ذہین آپا (مرحومہ) اور سینئرز اداکارہ کرتی تھیں۔ لیکن ’’ینگ مدرز ‘‘ کا رجحان شروع ہوا تو پھر مجھ جیسی خواتین کو یہ کردار ادا کرنا پڑے اور ہم اب تک کررہے ہیں۔
٭… کچھ اہل خانہ کے بارے میں بتائیں؟

صباحت بخاری …ہم دوبہنیں اور ایک بھائی ہے، شوبز میں میرے علاوہ کوئی بھی نہیں آیا البتہ میرے بیٹے کا موسیقی کی طرف کافی رجحان ہے۔ اسے اداکاری کا شوق نہیں، البتہ میرے ڈرامے ضرور دیکھتا ہے، اس کے علاوہ ایک ڈرامہ تھا ’’میرا سائیں ‘‘ اس کے سیزن ون میں میرے بیٹے نے فہد مصطفی کے بچپن کا رول کیا تھا۔

٭… سنا ہے آپ کو موسیقی کا شوق ہے؟

صباحت بخاری …بہت شوق تھا لیکن میں اُس فیلڈ میں کچھ کر نہیں سکی۔ گٹار اور کی بورڈ بجاتی تھی۔ اپنی تنخواہ سے کچھ پیسے جمع کرکے گٹار بھی خریدار لیکن بعد میں پتہ چلا کہ گٹار بجانے کے لیے ناخنوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اس لیے چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ اس دور میں موسیقی کو اچھا بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔
٭… ڈراموں کے معیار سے مطمئن ہیں؟

صباحت بخاری …جہاں تعداد زیادہ ہو جائے وہاں معیار کم ہو جاتا ہے۔ ڈراموں میں کونٹینٹ کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اِس دور میں اچھے رائٹرز کی کمی ہے، جو نوجوان رائٹر ہیں اُن میں بہت کم اچھا لکھتے ہیں، ہمیں تو اب ڈرامے کا اسکرپٹ پڑھنے کے بعد ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ تو ہم نے پہلے بھی پڑھا ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ڈراموں میں وہ دل چسپی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *