Imran Khan’s remarks were to be granted

وزیراعظم عمران خان کی بیقراری دیدنی تھی،جمعیت العلمائے اسلام، جماعت اسلامی اور پختون قبائلی ارکان نے نہ صرف مسودہ قانون کی مخالفت کی اور رائے شماری کا اعلان ہونے سے قبل اس کے خلاف زبردست نعرہ بازی بھی کی۔

شاہد خاقان عباسی اور پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس میں شرکت کرنے کی بجائے حراست میں دن گزارنے کا قصد کیا۔

قومی اسمبلی نے مسلح افواج کے سربراہوں کی میعاد خدمات میں توسیع پر مبنی سروسز ایکٹ ترمیمی مسودہ قانون رضا و رغبت کے ساتھ منظور کر کے پارلیمان کے ایوان بالا کو سونپ دیاہے جہاں اسے کسی بڑے تردّد اور معمولی رَدّ و کد کے بعد منظور کرلیا جائے گا اور اس طرح ہفتہ رواں میں ہی ترمیمی قانون کتاب کا حصہ بن جائے گا اور نافذالعمل ہو جائے گا۔

اس مسودہ قانون کی قومی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کی بے قراری دیدنی تھی وہ ایوان میں اس وقت آن موجود ہوئے جب اس کی نشستوں کی جھاڑ پھونک ہی مشکل سے مکمل ہو پائی تھی ان کی آمد کے بعد اسپیکر اسد قیصر بھاگم بھاگ اپنی نشست پر پہنچے۔

ایوان میں چند درجن ارکان بھی موجود نہیں تھے کسی تاخیر کے بغیر کارروائی شروع کرا دی گئی۔

اس طرح تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے عرصہ خدمات میں توسیع کے معاملے کو نصف گھنٹے سے بھی کم وقت میں عندالطلب طور پر منظور کرلیا گیا۔

پیپلزپارٹی نے ترمیمی مسودے میں تین بنیادی نوعیت کی ترامیم لانے کا فیصلہ کر رکھا تھا جس کے لئے اسپیکر سیکرٹریٹ کو دستاویز ارسال بھی کی جا چکی تھیں۔ حکومتی اَمرت دھارے وزیر دفاع پرویز خٹک نے اجلاس سے قبل پیپلزپارٹی کے پارلیمانی گروپ لیڈرز سے ملاقات کی اور اجلاس شروع ہونے کے بعد پارٹی کے رہنما سیّد نوید قمر نے کمال سعادت مندی سے ان تجاویز کو واپس لینے کا اعلان کر دیا ۔

اس طرح ترمیمی مسودہ جس طور پر آیا تھا عین انہی لفظوں کے ساتھ پارلیمانی منظوری کا مرحلہ عبور کر گیا۔

Prime Minister Imran Khan to visit Malaysia on January 31

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *