Disasters in various parts of the UK from ‘Kiara’

Disasters in various parts of the UK from 'Kiara'

بحراوقیانوس میں اٹھنے والے سمندری طوفان ’کیارا‘ نے برطانیہ کے مختلف علاقوں میں خوفناک تباہی مچا دی

اونچی لہروں کےسبب کئی ساحلی علاقوں سے لوگوں کا انخلا، 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آئی آندھی سےدرخت گرگئے۔میڈیا ذرائع کے مطابق آندھی سے مکانوں، ہوٹلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ گاڑیوں کو حادثات بھی پیش آئے ہیں، بعض علاقوں کی سڑکوں اور گلیوں میں پانی کھڑا ہوگیا۔ذرائع کے مطابق 214 فلڈوارننگ اور177 الرٹ جاری کیے گئے ، پروازیں اورٹرین سروس تاخیر کا شکارہے ۔دوسری جانب طوفان کی شدت سےجرمنی اور فرانس میں بھی پروازوں اورٹرینوں کاشیڈول متاثر ہے، جبکہ آج سے برف باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

اس سے قبل دبئی ائیرپورٹ سے بھی یورپ اور برطانیہ کے لیے کئی پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔

خراب موسم کے باعث شمالی انگلینڈ میں 140 سے زائڈ ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں جب کہ ٹرینوں کی رفتار میں غیر معمولی کمی کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے اور حکام کی جانب سے عوام اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتہائی ضرورت پڑنے پر ریل کا سفر کریں۔واضح رہے کہ برطانیہ کا شمال مغربی علاقہ طوفان سے شدید متاثر ہوا ہے، سیلفورڈ، بولٹن، راچڈیل، اولڈہم کے کئی علاقوں میں سڑکیں سیلاب کے باعث بند کردی گئی ہیں جب کہ ایم سکسٹی مڈلٹن جنکشن سیلاب کے باعث ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔موسلا دھار بارشوں کے باعث بعض نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا بھی سامنا ہے اور نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے جب کہ بہت بڑی آبادی کو بجلی کی عدم فراہمی کے خدشے کا سامنا ہے۔

One day’s work salary is 93 thousand euros

2019 was the second hottest year in history on the planet

2019 was the second hottest year in history on the planet

یورپی یونین کے موسمیاتی جائزہ کار ادارے نے کہا ہے کہ گذشتہ برس یعنی 2019 کرہ ارض پر ریکارڈ کیا جانے والا تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال تھا جبکہ گزرنے والی دہائی گرم ترین دہائی رہی۔

’کوپرنیکس کلائمنٹ چینچ سروس‘ (سی تھری ایس) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دہائی میں 2016 تاریخ کا گرم ترین سال تھا جبکہ 2019 میں ریکارڈ کیا گیا اوسط درجہ حرارت 2016 کے مقابلے میں محض ایک ڈگری کا سواں حصہ ہی کم تھا۔

یورپی سروس کے مطابق 2019 خاص طور پر براعظم یورپ کے لیے تاریخ کا گرم ترین سال رہا۔

کوپرنیکس کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دہائی کے آخری پانچ برس کرہ ارض پر ریکارڈ کیے گئے گرم ترین سال تھے۔

کوپرنیکس کے ڈائریکٹر جان نوئل تھیپو نے کہا: ’یہ بلا شبہ خوفناک علامات ہیں۔‘

2019 میں عالمی درجہ حرارت 1981 سے 2010 تک کے دوران ریکارڈ کیے گئے اوسط درجہ حرارت سے 0.6 سیلسیس زیادہ تھا۔ مزید براں گذشتہ پانچ سالوں کا درجہ حرارت صنعتی انقلاب کے دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.1 سیلسیس سے 1.2 سیلسیس زیادہ رہا ہے۔

سی تھری ایس کے سربراہ کارلو بونٹیمپو کا کہنا تھا: ’2019 غیر معمولی طور پر گرم سال رہا ہے۔ درحقیقت یہ ہمارے ریکارڈ میں تاریخ کا دوسرا سب سے زیادہ گرم سال تھا۔ جب کہ زیادہ تر انفرادی مہینوں میں تو گرمی کے کئی ریکارڈ ٹوٹے ہیں۔‘

2016 کے درجہ حرارت کو بڑھانے میں اس سال کے شدید ایل نینو کا بھی ہاتھ تھا۔ تاہم 2019 میں یہ حدت 2016 کے مقابلے میں محض 0.04 سیلسiس ہی کم تھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ درجہ حرارت میں بڑھتا ہوا رجحان جاری ہے۔

یورپی ادارے کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجہ ماحولیاتی کاربن کی کثافت کا بڑھنا ہے جو 2019 میں بھی جاری رہا اور دنیا بھر میں ریکارڈ بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔

اقوام متحدہ میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کی پیدا کردہ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں 2030 تک 7.6 فیصد تک کمی لانا ضروری ہے تاکہ حدت کے بڑھاؤ کو صنعتی انقلاب کے دور سے محض 1.5 سیلسیس زیادہ تک ہی محدود رکھا جائے تاہم فل وقت گیسوں کا اخراج اتنا زیادہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں لگتا۔

انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمنٹ چینچ (آئی پی سی سی) کا ماننا ہے کہ اگر عالمی حدت 1.5 سیلسیس تک بھی بڑھے تو بھی اس کے نمایاں منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر اس کی شدت 2.0 تک جا پہنچی تو اس کے خوفناک اثرات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ایک اندازے کے مطابق سیارے پر انسانی سرگرمیاں پہلے ہی درجہ حرارت میں 1.0 سیلسیس کے اضافے کا باعث بنی ہیں اور اگر موجودہ شرح سے انسانی سرگرمیاں ایسے ہی جاری رہیں تو 2030 سے ​​2052 کے درمیان درجہ حرارت 1.5 سیلسیس تک بڑھنے کا امکان ہے۔

برطانیہ کی حکومت کی پالیسی فی الحال 2050 تک زیرو کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہے۔

آئی پی سی سی کا کہنا ہے کہ 1.5 سیلسیس اور 2.0 سیلسیس اضافے کی حدت کے درمیان فرق تباہ کن خشک سالی، معدومیت اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرے کو کم کرے گا اور یہ کہ صحت، روزگار، فوڈ سکیورٹی، پانی کی فراہمی، انسانی تحفظ اور معاشی نمو کو ماحول سے متعلق لاحق خطرات کم شدت کے ہوں گے۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ اہم طور پر 1.5 سیلسیس اضافے سے نمٹنے کے لیے جن تبدیلیوں کی ابھی ضرورت ہوگی وہ 2.0 سیلسیس درجہ حرارت کے مقابلے میں کم شدت کے ہوں گی اور لوگوں کو ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے زیادہ وقت ملے گا۔

ایک ایسے وقت میں جب ماحولیاتی ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کو موسم کے مخصوص واقعات سے منسلک کرنے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں، 2020 کا آغاز ان قدرتی آفات سے ہوا ہے جن کا تعلق درجہ حرارت سے ہے، آسٹریلیا کے جنگلوں کی لگی آگ اور انڈونیشیا میں مہلک سیلاب ان آفات میں شامل ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی اسی طرح کی تباہ کاریوں میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔

یورپی کمیشن کی نئی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے ’گرین ڈیل‘ کو اپنی اہم پالیسی بتایا ہے جس کا مقصد 2050 تک یورپی یونین کو زیرو کاربن کے اخراج کی طرف لے کر جانا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ’وجود کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

Karachi to suffer heat spell for next 4 days

Karachi to suffer heat spell for next 4 days

محمکہ موسمیات نے شہر قائد میں آئندہ 4 روز تک شدید گرمی کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان عبدالرشید کے مطابق موسم کی تبدیلی کی وجہ سے بحیرہ عرب میں ہوا کا دباؤ کم اور ہواؤں کا رخ تبدیل ہورہا ہے جس کی وجہ سے آئندہ 4 روزتک کراچی میں شدید گرمی ہوگی اوردرجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ سکتا ہےلیکن اس کی شدت 43 ڈگری سے ہوگی۔ عبدالرشید نے کہا ہے کہ گرمی کی لہر 2 اکتوبرتک جاری رہے گی تاہم ہوا میں نمی کا تناسب معمول کے مطابق رہے گا لیکن 2 اکتوبر کے بعد موسم میں بتدریج تبدیلی آئے گی۔ واضح رہے کہ رواں برس جون میں پڑنے والی شدید گرمی نے 14 سوسے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

:مزید

اسلام آباد… سندھ و پنجاب میں بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سمیت آج ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکا ن ہے۔ خضدار شہر اور گردونواح میں رات گئے موسلاد ھار بارش ہوئی۔ سندھ میں شکار پور، لاڑکانہ اور ملحقہ علاقو ں میں ابر رحمت برسنے سے گرمی کازور ٹوٹ گیا۔ محکمہ موسمیا ت کے مطابق آج اسلام آباد، راول پنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا ڈویژن اور شمال مشرقی بلوچستان کے اکثر مقامات پر جبکہ ڈی جی خان، حیدرآباد اور لاڑکانہ ڈویژن میں کہیں کہیں بارش کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان ، ڈی آئی خان،کوئٹہ،نصیر آباد، قلات ، ژوب ڈویژن کے علاوہ سکھر اور میرپورخاص ڈویژن میں چند ایک مقامات پر موسلادھار بارش متوقع ہے۔

مزید : اہم خبریں

Heavy snowfall in Balochistan, all passengers stranded in Kan Mehtarzai

Heavy snowfall in Balochistan

چمن بلوچستان میں شدید برف باری کے بعد کان مہترزئی میں پھنسے تمام مسافروں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کان مہترزئی میں برف باری کے باعث پھنسے ہوئے مسافروں کو ایف سی قلعہ، لیویز لائن سرکٹ ہاؤس اور لیویز اہلکاروں کے مکانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن آج صبح چار بجے مکمل ہو گیا ہے، برف باری میں پھنسی 100 سے زائد گاڑیوں کو بھی نکال لیا گیا ہے، ریسکیو کیے گئے افراد کو مختلف گاڑیوں میں کوئٹہ روانہ کر دیا گیا، ریسکیو آپریشن میں پی ڈی ایم اے، ایف سی، لیویز اور ضلعی انتظامیہ نے حصہ لیا۔

قلات، زیارت، چمن، دشت کمبیلا اور مستونگ سمیت مختلف علاقوں میں شدید برف باری سے شہری محصور ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف شہری کہتے ہیں کوئٹہ مری سے کم نہیں، اتنی برف پہلے نہیں پڑی، پیرچناسی پر سفید موتی گرے، سیاحوں نے سیلیفیاں بنائیں۔

چمن سمیت شمالی بلوچستان میں بارش اور برف باری کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے باعث سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، کوڑک ٹاپ پر 2 فٹ برف پڑی، برف جم جانے کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ قلعہ عبداللہ، گلستان۔ پشین، سرانان، مسلم باغ سمیت مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے تیز اور ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ایف سی اور لیویز کے آفسران اور اہل کار بھی کوڑک ٹاپ سے برف ہٹانے کے امدادی سرگرمیوں اور پھنسی گاڑیوں کو نکالنے میں مصروف عمل رہے۔

چاغی، ماشکیل میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کیا گیا، ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا، ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرین کو کھانا، راشن، گرم کپڑے، کمبل اور دیگر سامان بھی فراہم کیا گیا۔

News :مزید

A section of Lahore-Islamabad motorway has been closed

A section of Lahore-Islamabad motorway has been closed
پنجاب کا دارالحکومت اور بیشتر شہر شدید دھند کی لپیٹ میں آگئے، ایم 2 شیخوپورہ تک بند کر دی گئی

لاہور : لاہور تا اسلام آباد موٹروے کا ایک سیکشن بند کر دیا گیا، پنجاب کا دارالحکومت اور بیشتر شہر شدید دھند کی لپیٹ میں آگئے، ایم 2 شیخوپورہ تک بند کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پنجابکا دارالحکومت لاہور اور صوبے کے بیشتر شہر شدید دھند کی لپٹ میں آگئے ہیں۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں 2 روز سے مسلسل بارش کا سلسلہ جاری تھا۔جبکہ اب منگل کی شب کو بارش کا سلسلہ کسی حد تک تھمنے کے فوری بعد صوبے کے بیشتر علاقوں کو شدید دھند نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

شدید دھند کے باعث لاہور تا اسلام آباد موٹروے کا ایک سیکشن عام ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ قومی شاہراہ پر اس وقت حد نگاہ صرف 50 سے 150 میٹر تک رہ گئی ہے۔ اسی باعث ایم 2 کا شیخوپرہ تک کا سیکشن عام ٹریفک کیلئے دھند کی صورتحال بہتر ہو جانے تک بند کر دیا گیا ہے۔

جبکہ موٹروے پولیس نے دیگر قومی شاہراہوں پر سفر کرنے والے گاڑیوں کو فوگ لائٹ استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے کئی علاقوں میں جاری بارشوں اور برفباری کا سلسلہ مزید 2 روز تک جاری رہے گا، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔

Islamabad, Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa, Punjab, Gilgit-Baltistan likely to rain (today), Meteorological Department

Islamabad, Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa, Punjab, Gilgit-Baltistan likely to rain (today), Meteorological Department

اسلام آباد ۔محکمہ موسمیات نی( آج) پیرکواسلام آباد،بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں اکثر مقامات پرجبکہ بالائی سندھ میں چند مقامات پر بارش اور پہاڑوں پر بر فباری کا امکان ظاہر کیا ہے اس دوران شمالی بلوچستان میں موسلادھار بارش اور برفباری کا بھی امکان ہے۔اتوار کو محکمہ موسمیات کی جاری رپورٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب کے میدانی علاقوں میں چند مقامات پر دھند چھائی رہی۔ کوئٹہ، دالبندین ، نوکنڈی، خضدار ، قلات، بارکھان، ڑوب، سبی،پٹن،مالم جبہ ،پشاور، بنوں ، پاراچنار، ڈی آئی خان ، سیالکوٹ، فیصل آباد، جھنگ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، بھکر، جوہرآباد، ساہیوال، اوکاڑہ، ملتان، خانیوال، بہاولنگر، بہاولپور،ڈی جی خان، کوٹ ادو، لیہ،لاڑکانہ، موہنجوداڑو اور کشمیر میں چند مقامات پر بارش ریکارڈ ہوئی۔

مزید:مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما کا گھر مسمار کردیا گیا

ملک کے دیگر علاقوں میں موسم خشک اور سرد جبکہ بالائی علاقوں میں شدید سرد رہا۔ سب سے زیادہ بارش بلوچستان: قلات17،کوئٹہ (سمنگلی11،شہر 10)، ڑوب 11،خضدار 06، بارکھان 02، پنجاب : لیہ 09،بھکر 07 ، جھنگ 04،نورپورتھل، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، خانیوال ، کوٹ ادو02، ملتان، بہاولنگر، ڈی جی خان، فیصل آباد، جوہرآباد، اوکاڑہ 01، خیبر پختونخواہ: پاراچنار 08، مالم جبہ ، ڈی آئی خان 05، بنوں 04، پٹن 01 ، سندھ: لاڑکانہ 02،کشمیر: راولاکوٹ ،کوٹلی 01ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ۔اتوار کو ریکارڈ کیے گئے کم سے کم درجہ حرارت: کالام منفی 15، اسکردو منفی 13، استور منفی 09، بگروٹ ،گوپس منفی 08، مالم جبہ منفی07، پاراچنار منفی 06اورراولاکوٹ میں منفی 05 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

Get weather conditions from around the country

Get weather conditions from around the country

لاہورپنجاب

لاہورپنجاب کے کئی شہروں میں شدید دھند سے معمولات زندگی متاثرہوگئے۔حد نگاہ انتہائی کم ہوکر رہ گئی۔تفصیلات کے مطابق پاکپتن،رینالہ خورد،اوکاڑہ،ساہیوال،ہڑپہ اورکسووال ،گوجرہ،چیچہ وطنی،میاں چنوں،خانیوال، ملتان، لودھراں اوربستی ملوک میں دھندکی وجہ سے حد نگاہ بہت کم ہوگئی ہے۔لاہور میں صبح کے وقت درجہ حرارت چھ تک گرگیا جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب چھیاسی فیصدرہا۔

ترجمان موٹر ویز کے مطابق نیشنل ہائی وے این 5 پربھی شدید دھند ہے اور حدنگاہ انتہائی کم ہے جبکہ موٹروے ایم ٹوپراسلام آبادٹول پلازہ سے چکری تک دھند کی وجہ سے حدنگاہ 80 میٹر رہ گئی۔ترجمان کے مطابق شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں جبکہ ڈرائیور دوران سفر گاڑیوں پر فوگ لائٹس آن رکھیں۔

محکمہ موسمیات

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 10ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیاگیا جبکہ زیادہ س زیادہ درجہ حرارت26ڈگری سینٹی گریڈتک بڑھنے کاامکان ہے۔ کراچی میں موسم دن بھرخشک اورسردرہنے کاامکان ہے اور ہوامیں نمی کاتناسب 50 فیصد ہے۔

اسلام آباد

میں موسم سرداور خشک رہنے کے ساتھ رات اور صبح کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کی توقع ہے۔صوبہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ کوئٹہ، قلات اور زیارت کے اضلاع میں شدید سرد رہے گا۔پنجاب کے بیشتر میدانی اضلاع (لاہور، گوجرانوالہ ،گجرات،نارووال،سرگودھا،منڈی بہاوالدین، سیالکوٹ، حافظ ا?باد، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، جھنگ ، فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال ، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور)میں رات اور صبح کے اوقات میں شدیددھند چھا ئے رہنے کے علاوہ موسم سرد اور خشک رہے گا۔

بالائی سند ھ کے اضلاع(سکھر، لاڑکانہ ، روہڑی، پڈعیدن، جیکب ا?باد) میں رات اور صبح کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔ صوبہ کے دیگر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔

خیبرپختونخواکے میدانی علاقوں(ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کرک ، صوابی، نوشہرہ، پشاور ، چارسدہ،مردان ) میں رات اور صبح کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کامکان ہے۔ صوبہ کے دیگر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی علاقوں میں شدید سرد رہے گا۔

گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں موسم شدیدسرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ کشمیر کے بیشتر اضلاع میں موسم شدیدسرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

:مزید

آج رواں سال کا سرد ترین دن ریکارڈ

 کراچی میں آج موسم سرماکا سرد ترین دن ریکارڈ کیا گیاہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج کراچی میں سب سے زیادہ سردی ہے اور یہاں کم سے کم درجہ حرارت نو ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیاہے جو کہ رواں سال کا کم ترین درجہ حرارت ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں آج کا دن رواں سال کا سرد ترین دن ریکارڈ کیاگیاہے جہاں درجہ حرارت نو ڈگری سینٹی گریڈ تک گرگیا ہے۔بعض میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کے شمال مغرب سے 30 کلو میٹر فی گھنٹا کی رفتار سے ہوا چل رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔

بارش اور دھند سے سردی کی شدت میں اضافہ

اسلام آباد محکمہ موسمیات کے مطابق آج بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری ہوسکتی ہے۔

آج وسطی/جنوبی پنجاب اور بالائی سند ھ کے اضلاع میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔پنجاب کے علاقے جڑانوالہ، کلورکوٹ، خیرپورٹامیوالی، پنڈدادنخان، شرقپور شریف، سمندری، چنیوٹ، خان پور، احمد پور شرقیہ، اوچ شریف اور ظاہرپیر میں شدید دھند کے باعث حد نگاہ کم ہو رہ گئی ہے۔

محکمہ ٹریفک پولیس نے دھندوالے علاقوں میں شہریوں کو غیرضروری طور پر سفر کرنے سے منع کیا ہے۔ذرائع موٹر وے کے مطابق دھند زیادہ ہونے کی وجہ سے کراچی موٹروے کئی جگہوں سے بند ہے۔

صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور سرد رہے گا تاہم بالائی سند ھ کے اضلاع میں صبح کے اوقات میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔کراچی میں سمندری ہوا بند ہونے کے سبب دھند پڑنے سے حد نگاہ دو کلو میٹر رہ گئی ہے تاہم ہوا چلنے کے بعد مطلع صاف ہو جائے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا میں بونیر، چترال، دیر، ما لاکنڈ، شانگلہ، سوات، ابیٹ آباد، بٹگرام، ہری پور، مانسہرہ ،کوہاٹ، ہنگو اور کرم میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر بر فباری کا متوقع ہے۔

گزشتہ 24 گھٹوں کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے اضلاع میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری ہوئی۔