Leading sports correspondent and author Roger Kahn passed

Finland's new prime minister, who leads the progressives in 2020

اسپورٹس کے معروف صحافی اور انگریزی زبان کی 20 بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنف، راجر کہن 92 برس کی عمر میں جمعرات کو نیو یارک شہر میں انتقال کر گئے۔

ان کی معروف تصنیف ’دی بوائز آف سمر‘ بروکلین کے ان نوجوانوں کی رومانوی داستان ہے جو بیس بال، ڈوجرز کے دلدادہ ہیں۔

یہ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ہے جس میں بیس بال کھیل اور ڈوجرز کلب سے وابستہ کھلاڑیوں کے کارناموں کی روداد تحریر کی، اس کی اشاعت کے بعد لاکھوں شائقین ان کے گرویدہ بن گئے۔ ان کی یہ معرکة الآرا کتاب 1972ء میں شائع ہوئی۔

کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ میرے والد سے میرا پیار اس لیے بڑھا کہ وہ بھی بیس بال ٹیم، ڈوجرز کے دلدادہ تھے۔

بقول ان کے، ’’ہر ایک کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لڑکپن جاتا رہتا ہے۔ لیکن، اس وقت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بڑے ہونے کی کیا ذمہ داریاں ہیں‘‘۔

وہ کہتے ہیں کہ سفر کرنا میری کمزوری تھی، اور میں نے بیس بال کی شاندار ٹیموں کے ساتھ سفر کیا اور خود زندگی کے سفر کو قریب سے پرکھا۔

اپنی یادداشت میں راجر کہن کہتے ہیں کہ ’دی بوائز آف سمر‘ دراصل لڑکپن بیتنے کی کہانی ہے۔ اس خیال کی باریکی بھانپنے کے دعوے دار، ڈان ہینلے نے، اس عنوان پر ایک نغمہ لکھا، جس میں ایک شخص اپنے ماضی کی یادوں میں جیتا ہے۔

یہ سال 1950ء کی دہائی کے اوائل کا عرصہ ہے، جسے کہن اپنی مشق سخن کی زینت بناتا ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب راجر کہن نیو یارک ہیرلڈ ٹربیون کے رپورٹر تھے۔ بیس برس بعد، بیس بال ٹیم کے تین کھلاڑی جیکی رابنسن، کارل فریلو اور روئے کمپنیلا بیمار پڑ جاتے ہیں۔

کتاب کے شائع ہونے کی دیر تھی کہ لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ساتھ ہی، ناقدین نے الزام لگایا کہ کہانی کو پرسوز بنانے کی خاطر کہن نے جذبات کا سہارا لیا ہے۔

کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے، روزنامہ نیو یارک ٹائمز سے وابستہ صحافی، کرسٹوفر لہمن نے لکھا ہے کہ ’’سب کچھ درست۔ لیکن اس کتاب نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے‘‘۔

سال 1948 میں کہن کاپی بوائے کے طور پر ٹربیون میں بھرتی ہوئے، اور چند برسوں بعد بیس بال کھیل کے رپورٹر بن گئے۔

چھبیس سال کی عمر میں وہ اخبار کے مقبول اسپورٹس رپورٹر بن چکے تھے، اور 1952ء میں ماہانہ 10000 ڈالر تنخواہ پر کام کرتے تھے۔

سال 1956 میں وہ نیوزویک میگزین کے اسپورٹس ایڈیٹر بنے، اور وہ ایوننگ پوسٹ، ایسکوائر، ٹائم اور اسپورٹس السٹریٹڈ کے لیے مضامین تحریر کیا کرتے تھے۔

مزید : اہم خبریں

Swat’s little Taekwondo champion honors nation

Swat's little Taekwondo champion honors nation

عائشہ آیاز نے کامیابی حاصل کرنے پر سجدہ شکرہ اداکیا جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں نے جشن منایا۔ عائشہ آیاز کے باپ آیاز نائیک ہی کوچ کے فرائض نبھارہے ہیں۔ عائشہ آیاز نے اپنی اس کامیابی کو سوات کے لئے بڑا اعزاز قراردیا ہے اور قوم سے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔
ملک بھر میں خوشی کی لہریں بھیجتے ہوئے پاکستان کی قدرتی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی نو سالہ بچی 31 جنوری سے 2 فروری تک متحدہ عرب امارات میں ہونے والی 8 ویں فجیرا اوپن تائیکوانڈو چیمپین شپ جیت کر گولڈ میڈل حاصل کرلیا۔یہ تمغہ پاکستان کا تمغہ ہے۔ عائشہ ایاز کے والد ایاز نائک نے اپنے بیان میں کہا کہ، “اب میری بیٹی اولمپک مقابلوں پر نگاہ ڈال رہی ہے۔“نائک، جو خود قومی سطح کے ایتھلیٹ ہیں، نے بتایا کہ عائشہ نے تین سال کی عمر سے ہی پوری دنیا میں تائیکوانڈو مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے  تربیت حاصل کی تھی۔“یہ اس کا دوسرا بین الاقوامی دورہ ہے۔
پہلے غیر ملکی دورے میں، اس نے ساتویں فوجیرہ اوپن تائیکوانڈو چیمپینشپ میں 27 کے جی کے زمرے میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔انہوں نے اپنی نو سالہ بیٹی جو سوات میں گریڈ 4 کی طالبہ ہے کے بارے میں کہا ، “اس کے لئے ایک روشن مستقبل محفوظ ہے ، اور میں آئندہ اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی لڑکی کی حیثیت سے اس کا تصور کر رہا ہوں۔نائک نے بتایا کہ عائشہ پہلے ہی مقامی ، صوبائی اور قومی سطح پر کھیلوں میں امتیاز حاصل کر چکی ہیں۔ان  کا مزید کہنا تھا کہ  ان  کی اپنی تائکوانڈو اکیڈمی اور سوات میں ایک انٹرنیشنل پبلک اسکول  ہے  جو یتیموں کو مفت تعلیم فراہم کرتا ہے۔
عائشہ کے علاوہ میرے دو بیٹے ، محمد زریاب خان اور محمد زیاب خان ہیں، جو قومی چیمپئن بھی ہیں۔ میری اہلیہ نے قومی کھیلوں میں چاندی اور سونے کے تمغے بھی حاصل کیے ہیں۔نائک نے کہا کہ 6 فروری کو پشاور جانے کے لئے اپنے طے شدہ سفر سے قبل ہی انہوں نے موصولہ مبارکبادی پیغامات سے بہت زیادہ مغلوب ہو گئے تھے۔ترقیاتی شعبے میں کام کرنے والے سوات کے رہائشی ہزار گل نے اپنے  بیان میں  کہا کہ  سوات کے عوام عائشہ کا پرتپاک استقبال کرنے کے لئے تیار ہیں جنہوں نے نہ صرف علاقے بلکہ پورے ملک میں بھی نام روشن کیا۔“ہمارے ملک کو عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو آگے بڑھانے اور غیر معمولی خصوصیات کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔

مزید : کھیل

PCB: Rs 346 million increase in 2019 revenue

PCB: Rs 346 million increase in 2019 revenue

دورہ آسٹريليا ميں قومی کرکٹ ٹيم کی ناکامی کا ملبہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نوجوان کھلاڑيوں پرڈال ديا۔ محمد حفيظ اور شعيب ملک کی واپسی سمیت دیگر اہم امور پر سی ای او نے انٹرنل آڈٹ رپورٹ 30 جنوری کے اجلاس میں پیش کردی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی انٹرنل آڈٹ رپورٹ میں سارا حساب کتاب سامنے آگیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو 2019 میں خسارے پر خسارہ ہوتا رہا لیکن ورلڈکپ کی آمدنی نے صورتحال قابو کرلی۔بنگلہ دیش کے ساتھ سیریز کے نشریاتی حقوق کا معاہدہ 6 ملین ڈالر میں ہونا تھا لیکن شیڈول ہفتہ بھر پہلے فائنل ہونے کے باعث 2.25 ملین ڈالر نقصان ہوگیا۔

سری لنکا سیریز سے آمدن کا تخمینہ 787 ملین روپے لگایا گیا تھا لیکن صرف 725 ملین روپے کمائی ہوئی۔قذافی اسٹیڈیم کی دکانوں سے آمدنی میں 90 فیصد کمی تو لوگو اور اسپانسر کے ساتھ معادے میں بھی 15 ملین روپے کا  نقصان ہوا۔اس نقصان کے باوجود پی سی بی کو سالانہ آمدن میں 346 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ ورلڈ کپ 2019 کی آمدنی کے مد میں 1015 ملین روپے ملنا ہے۔ سال بھر کی آمدنی 2166 ملین روپے کے تخمینے سے بڑھ کر 2412 ملین روپے تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں قومی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کی ناکامی کا بھی تذکرہ کیا گیا جس میں سارا ملبہ نوجوان کھلاڑیوں کے سر آیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیم میں شعیب ملک اور محمد حفیظ کی واپسی کوچ مصباح الحق اورکپتان بابراعظم  کے کہنے پر ہوئی کیوں کہ پاکستان ٹی 20 ٹیم پچھلے 9 میں سے 8 ٹی 20 میچز میں شکست کھا چکی تھی۔محمد حفيظ اور شعيب ملک کی جگہ اور کھلاڑیوں کو بھی آزمایا گیا لیکن وہ ناکام رہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی 20 ایشیا کپ اور ٹی 20 ورلڈ کپ نزدیک ہیں، ٹیم کی مضبوطی کیلئے ان کھلاڑیوں کی واپسی ناگزیر تھی۔

مزید : کھیل

Pakistan prepares for the first Kabaddi World Cup in Pakistan

Pakistan prepares for the first Kabaddi World Cup in Pakistan

پاکستان میں پہلی مرتبہ ہونے والے کبڈی ورلڈکپ کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ 9 فروری کو لاہورمیں شروع ہونے والے ورلڈکپ میں 10 کبڈی ٹیموں کے کھلاڑی پنجہ آزمائی کریں گے۔ کبڈی میچوں کے لیے ٹکٹوں کی فروخت 3 فروری سے شروع ہوگی۔

کبڈی کے عالمی میلے میں شرکت کے لیے بین الاقوامی کھلاڑی پہلی بار پاکستان آرہے ہیں۔ اس سے قبل کبڈی میلے کی میزبانی بھارت کرتا رہا ہے۔ کبڈی ورلڈکپ میں بھارت سمیت 9 غیر ملکی ٹیمیں شرکت کریں گی۔

پاکستان کبڈی فیڈریشن کے صدر چوہدری شافع حسین کا کہنا ہے کہ کبڈی مقابلے پنجاب کے تین شہروں میں ہوں گے۔

کبڈی ورلڈکپ میں شرکت کے لیے ٹیمیں 7 فروری سے لاہور پہنچنا شروع ہوجائیں گی جبکہ ورلڈکپ کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب 9 فروری کو پنجاب اسٹیڈیم میں ہوگی۔

صوبائی وزیر کھیل رائے تیمور بھٹی کا کہنا ہے کہ کبڈی میلہ پاکستانی ثقافت اور سیاحت کا سفیر ثابت ہوگا۔ کبڈی کے شائقین کا کہنا ہے کہ کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال کی طرح کبڈی بھی پاکستان کا مقبول کھیل ہے۔

لاہور۔ یکم فروری صوبائی وزیر کھیل،امور نوجوانان، آثار قدیمہ و سیاحت رائے تیمورخان بھٹی نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے کہ تاریخ میں پہلی بار کبڈی ورلڈکپ 2020 ء پاکستان میں ہورہا ہے جس میں بھارت سمیت 10ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں،کبڈی ورلڈکپ کی ٹکٹوں کی فروخت 3فروری سے شروع ہو گی،کبڈی ورلڈکپ کا پرومو جاری کردیا گیا ہے، پاکستان کبڈی فیڈریشن کے صدر چودھری شافع حسین نے کہا ہے کہ کبڈی ہمارا روایتی کھیل ہے، لوگ فیملیز کے ساتھ اس میں شرکت کریں،کبڈی ورلڈکپسے سپورٹس کی نئی راہیں کھیلیں گی، اپنے بیان میںصوبائی وزیر کھیل،امور نوجوانان، آثار قدیمہ و سیاحت رائے تیمورخان بھٹی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت، سپورٹس بورڈ پنجاب اور پاکستان کبڈی فیڈریشن مل کرمیگا ایونٹ منعقد کررہے ہیں،کبڈی ورلڈکپکا انعقاد ہمارے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے، وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق سپورٹس کے ذریعے دنیا کو امن کا پیغام دینا ہے اور سپورٹس سے دنیا بھر سے سیاحوں کو پاکستان بھی لانا ہے، صوبائی وزیر کھیل،امور نوجوانان، آثار قدیمہ و سیاحت رائے تیمورخان بھٹی نے مزید کہا ہے کہ ’’اپنی مٹی ،اپنا کھیل‘‘عوام کبڈی کے اس ایونٹ کو کامیاب بنائیں اور اپنی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔

پاکستان کبڈی فیڈریشن کے صدر چودھری شافع حسین نے کہا ہے کہکبڈی ورلڈکپکی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، کبڈی ورلڈکپ کے میچز لاہور، گجرات اور فیصل آباد میں ہوں گے،کبڈی ورلڈ کپ کے پاکستان میں ہونے سے سپورٹس کی نئی راہیں کھیلیں گی،کبڈی ہمارا روایتی کھیل ہے، لوگ فیملیز کے ساتھ اس میں شرکت کریںاور اپنی مٹی سے محبت کا ثبوت دیں، گرائونڈ میں آکر مقابلے دیکھیں۔

مزید : کھیل

Umar Akmal, Kamran Akmal And Salman Butt once again in trouble

Umar Akmal, Kamran Akmal And Salman Butt once again in trouble

مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل ایک بار پھر خبروں میں ہیں، اس بار اطلاعات ہیں کہ انہوں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں فٹنس ٹیسٹ کے دوران اسٹاف ممبرز سے بدتمیزی کی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے عمر اکمل کی جانب سے عملے سے بدتمیزی کا نوٹس لے لیا، مڈل آرڈر بیٹسمین کو اپنے خراب رویئے کے باعث ڈومیسٹک سیشن میں معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عمر اکمل کے ساتھ ساتھ ان کے بھائی کامران اکمل اور سابق کپتان سلمان بٹ کو بھی نیشنل ون ڈے کپ میں شرکت پر پابندی کا سامنا ہے، دونوں کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔

رپورٹ کے مطابق وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل اور ان کے بھائی عمر اکمل پی سی بی کے فٹنس ٹیسٹ میں بڑے مارجن سے ناکام ہوگئے ہیں جبکہ سلمان بٹ کو ٹیسٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست مسترد ہونے پر پابندی کا سامنا ہے۔

متنازع کرکٹرز کا اس ٹرائیکا نے قائد اعظم ٹرافی کے دوران سینٹرل پنجاب کو ناردرن کیخلاف فائنل میں جیت دلا کر شاندار فارم کا مظاہرہ کیا تھا۔

کامران اکمل اور سلمان بٹ ٹورنامنٹ کے دوران زیادہ رنز بنانے والوں میں دوسرے اور تیسرے نمبر تھے جبکہعمر اکملکو فائنل میں 218 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔

کرکٹر عمراکمل نے فٹنس ٹیسٹ میں ناکامی پر انوکھے انداز میں احتجاج کیا۔ذرائع کے مطابق عمر اکمل نے فٹنس ٹیسٹ کے دوران کپڑے اتار کر کہا ’دیکھ لیں چربی کہاں ہے؟‘

ان کے فٹنس ٹیسٹ کے دوران نیشنل کرکٹ اکیڈمی اور پاکستان ٹیم مینجمنٹ کا اسٹاف بھی موجود تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کرکٹر عمراکمل کے رویے سے ناخوش ہوگیا، اس حوالے سے بورڈ نے نوٹس لے لیا ہے اور امکان ہے کہ ٹیسٹ کرکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مزید : کھیل

The MCC team will visit Pakistan on February 13

The MCC team will visit Pakistan on February 13

لاہور:میلورن کرکٹ کلب(ایم سی سی)کی ٹیم 13 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گی جس پر ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کےمطابق میلورن کرکٹ کلب(ایم سی سی)کی ٹیم 13 سے 19 فروری تک پاکستان کا دورہ کرے گی۔ کمار سنگاکارا کی قیادت میں ایم سی سی کی ٹیم لاہور میں چار میچز کھیلے گی۔ایم سی سی کی ٹیم پاکستان میں تین ٹی ٹونٹی اور ایک ون ڈے میچ کھیلے گی ۔

اکستان کرکٹ بورڈ نے اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ 2019 کی فاتح ٹیم کے کپتان سعود شکیل کو ایم سی سی کے خلاف 50 اوورز پر مشتمل میچ کے لیے پاکستان شاہینز ٹیم کا کپتان مقرر کیا جب کہ قومی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن ناردرن ٹیم کے کپتان روحیل نذیر مختصر فارمیٹ کے میچز میں ٹیم کی کپتانی کریں گے۔

چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ ایم سی سی ٹیم کا 48 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنا خوش آئند ہے۔

لاہور پی سی بی اور ایم سی سی کے مابین معاملات طے پانے کے بعد اب ایم سی سی کی ٹیم آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گی۔ سری لنکا ٹیم کے سابق کپتان کمار سنگاکارا کی قیادت میں 13تا19فروری پاکستان کا دورہ کرے گی اور لاہور میں تین میچ کھیلے گی۔تفصیلات کے مطابق عالمی کرکٹ کی پاکستان میں واپسی کے سلسلہ میں پی سی بی مختلف ممالک اور ایم سی سی کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی جس کے نتیجہ میں اب ایم سی سی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان فائنل ہو گیا ہے
۔پی سی بی ترجمان کے مطابق ٹیم 13فروری کو ایک ہفتہ کے دورہ پر لاہور پہنچے گی جہاں تین میچ کھیلنے کے بعد 19فروری کو واپس روانہ ہو گی۔ آئندہ چند روز میں ٹیم کے باقاعدہ شیڈول کا اعلان کر دیا جائے گا۔ ایم سی سی ٹیم کی قیادت سنگا کارا کریں گے جبکہ کھلاڑیوں میں سابق اور موجودہ انٹرنیشنل کھلاڑی شامل ہوں گے ۔دوسری جانب ایم سی سی کرکٹ ٹیم کا مقابلہ کرنے کے لیے پی سی بی نے حکمت عملی بنالی ہے ۔ایم سی سی کے خلاف دو میچ صوبائی ٹیمیں کھیلیں گی جبکہ ایک میچ پاکستان الیون کی ٹیم کھیلے گی۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق ایم سی سی کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ قومی ٹی ٹونٹی چیمپئن ناردرن کی ٹیم کھیلے گی۔ قائداعظم ٹرافی چیمپئن سینٹرل پنجاب کی ٹیم 16 فروری کو ایم سی سی کے خلاف ون ڈے میچ کھیلے گی۔
پاکستان الیون میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا ۔ایم سی سی کا مقابلہ کرنے کے لیے ناردرن اور سینٹرل پنجاب کی ٹیموں کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا ۔ پاکستان الیون کا انتخاب قومی سلیکشن کمیٹی کرے گی۔ یاد رہے کہ ایم سی سی کے دورہ پاکستان کا مقصد انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی میں مدد دینا ہے ۔ پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے اپنے دورہ انگلینڈ کے دوران ایم سی سی انتظامیہ کو پاکستان کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی تھی جس کے جواب میں ایم سی سی نے دورہ پاکستان کرنے پر اپنی رضا مندی ظاہر کی تھی۔اب پاکستان میں اپریل تک مسلسل کھیلی جا ئے گی۔ 24تا27جنوری بنگلہدیش کی ٹیم تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کے لئے لاہور میں ہو گی۔ ٹیم7تا11فروری راولپنڈی میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔اس کے بعد ایم سی سی کی ٹیم13تا19فروری پاکستان کا دورہ کرے گی اور تین میچ لاہور میں کھیلے گی۔ اس کے بعد 20فروری تا 22 مارچ پی ایس ایل کے تمام میچ پاکستان میں کھیلے جائیں گے جس می غیر ملکی کھلاڑی بھی حصہ لیں گے ۔ پی ایس ا یل کے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم ایک ون ڈے اور اور ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے پاکستان آ ئے گی اور 3اپریل کو کراچی میں ایک روزہ میچ کھیلے گی جبکہ 5سے 9اپریل دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔

مزید : کھیل

“Misbah-ul-Haq has begun to do so under pressure of defeats” Ramiz Raja said that Hafiz and Shoaib Malik would be stunned to hear that.

"Misbah-ul-Haq has begun to do so under pressure of defeats" Ramiz Raja said that Hafiz and Shoaib Malik would be stunned to hear that.

لاہور:سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ اپنا بہترین وقت گزار چکے، 40، 40سال کے یہ کرکٹرز آسٹریلوی کنڈیشنز میں ورلڈکپ کے دوران کیا کردار ادا کرسکیں گے۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ شکستوں کے دبائو میں مصباح الحق نے پیچھے مڑکر دیکھنا شروع کردیا،ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کیلیے ٹیموں میں نئے ٹیلنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر نے اس کوشش کو ترک کرتے ہوئے سینئرز کی جانب مڑکر دیکھنا شروع کردیا ہے، شعیب ملکاور محمد حفیظ اپنا بہترین وقت گزار چکے، 40، 40سال کے یہ کرکٹرز آسٹریلوی کنڈیشنز میں ورلڈکپ کے دوران کیا کردار ادا کرسکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جیت ہمیشہ اعتماد میں اضافہ کرتی ہے لیکن اس کوشش میں پاکستان نے مستقبل کی تیاریوں کو نظر انداز کردیا، بابر اعظم کو نوجوان کرکٹرز کی خدمات حاصل اور انھیں ایک بے خوف کپتان ہونا چاہیے۔

:یہ بھی پڑھیں

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد یہ جیت پاکستان کرکٹ کیلئے بہت ضروری تھی، اس سے ہم سب کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا اور کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، شعیب ملک اور محمد حفیظ نے اپنے تجربے کو بروئے کارلاکر فتح میں اہم کردار اداکیا۔ پہلے بھی کہا تھا کہ کسی بھی کرکٹر پر ٹیم کے دروازے بند نہیں کیے، ہم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل اپنے وسائل چیک کررہے تھے، احساس ہوا کہ ٹیم کو تجربے کی ضرورت ہے، بابر اعظم بھی سینئرز کی واپسی کے حامی تھے۔

انہوں نے کہا دونوں نے اہم اننگز کھیلیں، کوئی بھی کھلاڑی فارم میں اور فٹ ہوتو اسے قومی ٹیم کیلئے کھیلنا چاہیے۔ ایک سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ پاور ہٹرکی تلاش میں آصف علی کو موقع دیا،ان کی فارم سامنے نہ آ سکی، افتخار احمد بھی ساتھ ہیں، نوجوان کرکٹرز اسپنرز کا سامنا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

مزید : کھیل

I’ll bat at the top in the PSL: Sarfraz Ahmed

I'll bat at the top in the PSL: Sarfraz Ahmed

کراچی: قومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے. کہ وہ پی ایس ایل میں اوپر کے نمبروں پر بیٹنگ کریں گے، کوشش ہوگی کہ اس ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاکر پاکستان ٹیم میں کم بیک کریں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں سرفراز احمد نے کہا کہ وہ پچھلی بار بھی پی ایس ایل میں شروع کے نمبروں پر بیٹنگ کرنے آئے تھے اور اس بار بھی وہ اوپر کے نمبروں پر ہی بیٹنگ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی بھی کھلاڑی ٹیم سے ڈراپ ہوتا ہے تو اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں پرفارمنس دے کر ٹیم میں واپسی کی راہیں ہموار کرے اور پاکستان سپر لیگ میں ان کی بھی یہی کوشش ہوگی کہ بہتر سے بہتر پرفارمنس دے کر قومی ٹیم میں واپس آئیں۔

کراچی: سابق ٹیسٹ کپتان و سابق چیف سلیکٹر معین خان نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کے طریقہ انتخاب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔کوئٹہ گلیڈیٹر کے ہیڈ کوچ کی زمہ داری اداکرنے والے معین خان نے فرنچائز کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے کھلاڑیوں کو عہدوں پر نہیں ہونا چاہیے جو اپنی بات سمجھا نہ سکیں، جب ہار کا ڈر رہے گا تو ہارنا ہی ہے۔سابق ٹیسٹ کپتان و سابق چیف سلیکٹر معین خان نے پاکستانکرکٹ ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کے طریقہ انتخاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں بچوں کو کھیلانا تھا وہاں سینیئرز کو ٹیم میں شامل کیا گیا، موجودہ سلیکشن کمیٹی نے بنگلا دیش کے خلاف 2 سینیئرز کو کم بیک کرایا۔

سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ قیادت سے الگ کیے جانے والے قومی کپتان سرفراز احمد کا پاکستان ٹیم کو بلندی تک لے جانے میں کردار رہا ہے، ان کو قومی اسکواڈ سے الگ کرنے کا جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ اچھا نہیں تھا، سرفراز احمد کی موجودہ حالات میں پاکستان ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ بنتی ہے، پی ایس ایل فائیو میں سرفراز احمد کے لیے بہترین موقع ہوگا کہ وہ اپنی بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کرکے پاکستان ٹیم میں جگہ بنائیں۔

مزید : کھیل

Where is fast bowler Harris Rauf? The news arrived

Where is fast bowler Harris Ruff? The news arrived

لاہور پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر حارث رﺅف بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کیخلاف ٹی 20 سیریز کھیلنے کے بعد بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں شرکت کیلئے دوبارہ آسٹریلیا روانہ ہو گئے ہیں۔

فاسٹ باؤلر حارث رؤف کو بگ بیش لیگ میں میلبورن سٹارز کی جانب سے عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر بنگلا دیش کیخلاف ٹی 20 سیریز کیلئے پاکستانی سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا. انہوں نے پہلے میچ میں 32 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی. جبکہ دوسرے میچ میں 27 رنز کے بدلے میں ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

میلبورن سٹارز نے حارث رؤف کا خلاءپر کرنے کیلئے لاہور قلندرز ہی کی ایک اور دریافت دلبر حسین کا انتخاب کیا تھا.

جو ڈیبیو میچ میں مہنگے ثابت ہوئے تاہم حارث رؤف کی واپسی کے باوجود وہ سکواڈ کیساتھ ہی موجود رہیں گے جس کے باعث انہیں عمدہ کارکردگی دکھانے کیلئے مزید مواقع ملنے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ میلبورن سٹارز نے بگ بیش کوالیفائر میں جمعے کو سڈنی سکسرز کا سامنا کرنا ہے. جس میں کامیابی کی صورت میں فائنل میں رسائی مل جائے گی جو 8 فروری کو کھیلا جائے گا۔

.ڈیوڈ ہسی نے کہاکہ فاسٹ بولر میں انٹرنیشنل سطح پر بھی کارنامے انجام دینے کی صلاحیت موجود ہے

، جس طرح کی انھوں نے بگ بیش میں پرفارمنس دی مجھے امید ہے. کہ وہ پاکستان کی 100 ٹیسٹ، 400 ٹوئنٹی 20 اور 150 ون ڈے میچز میں نمائندگی کریں گے، وہ ہر میچ میں اپنی پوری کوشش کرتے ہیں،حارث ہماری ٹیم میں بڑی عمدگی سے فٹ ہوگئے۔

اس میچ میں میلبورن سٹارز کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں 8 فروری کو شیڈول فائنل میں پہنچ جائے گی لیکن اگر شکست کا سامنا کرنا پڑا تو بھی اسے فائنل میں پہنچنے کیلئے ایک اور موقع ملے گا۔ اس لئے میلبورن سٹارز کیلئے یہ دونوں میچز ہی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور تمام تر نگاہیں پاکستانی فاسٹ باﺅلر حارث رﺅف پر مرکوز ہیں۔

میلبورن سٹارز کے کوچ ڈیوڈ ہسی نے انکشاف کیا ہے کہ لیگ سپنر سندیپ لامی چانے قومی فرائض کی انجام دہی کیلئے نیپال واپس جا چکے ہیں جو اومان اور امریکہ کیخلاف ٹرائی سیریز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کریں گے اس لئے اب تمام نگاہیں پاکستانی فاسٹ باﺅلر حارث رﺅف پر ہیں اور ہم پرامید ہیں کہ وہ کوالیفائنگ فائنل میچ کیلئے دستیاب بھی ہوں گے۔

مزید : کھیل

Shoaib Malik is the eighth cricketer in the world to play international cricket in 4 decades

Shoaib Malik is the eighth cricketer in the world to play international cricket in 4 decades
شعیب ملک 4 دہائیوں میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے دنیا کے آٹھویں کرکٹر

کراچی / کولمبو:  شعیب ملک 4 دہائیوں میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے دنیا کے آٹھویں کرکٹر بن گئے، پاکستانی اسٹارکی عمرتو 38 برس ہے مگر تکنیکی طور پر انھیں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہوئے چوتھی دہائی شروع ہو چکی۔

شعیب ملک نے ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو 1999 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ میں کیا

جبکہ ٹیسٹ کیریئر کا آغاز بنگلادیش کے خلاف ملتان میں 2001 میں کیا۔ 1999 میں ایک دہائی کا اختتام ہورہا تھا، 2009 میں دوسری، 2019  میں تیسری دہائی ختم ہوئی اور اب سابق پاکستانی کپتان کے انٹرنیشنل کیریئر کی چوتھی دہائی شروع ہوچکی ہے، جس میں انھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف لاہور میں 2 ٹوئنٹی 20 میچز کھیلے۔

اس منفرد کلب میں شعیب ملک نے ویلفریڈ رہوڈز، ڈینس برین کلوز، فرینک وولی، سچن ٹنڈولکر، جیک ہوبز، گریگ گن اور سنتھ جے سوریا کو جوائن کرلیا۔ سری لنکا کے سابق کپتان بھی شعیب ملک کی صلاحیتوں کے معترف اور ان کی فٹنس کو سراہتے ہیں۔ 

جے سوریا نے کہاکہ شعیب ملک ایک ورسٹائل پلیئر ہیں،

انھوں نے ہمیشہ ہی ہمارے خلاف اچھا پرفارم کیا اور بے تحاشا رنز بنائے، وہ ہمیشہ ہی گیند کے ساتھ بھی ہمارے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوئے، اتنے طویل عرصے تک انٹرنیشنل کرکٹ جاری رکھنے میں ان کی فٹنس کا کافی عمل دخل ہے، اپنے کیریئر کو اتنا آگے لے آنا بھی بہت بڑی بات ہے۔

بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان ہواتو اس میں شعیب ملک اور محمد حفیظ کے نام دیکھ کر سابق کپتان رمیز راجہ کا شدید ردعمل سامنے آیا تھا کہ 38 سال کے یہ دونوں کھلاڑی اپنی بہترین کرکٹ کب کی کھیل چکے ہیں۔

Muhammad Hafeez announced the retirement of World T20