PSL, Multan Sultans continue batting against Karachi Kings

psl-multan-sultans-continue-batting-against-karachi-kings

کراچی  پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فائیو کے کوالیفائر میچ میں ملتان سلطانز کی کراچی کنگز کیخلاف بیٹنگ جاری ہے جس نے 3 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 23 رنز بنا لئے ہیں۔

Pakistan’s most expensive wedding hit the FBR’s radar

تفصیلات کے مطابق نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جا رہے میچ میں کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کو بیٹنگ کی دعوت دی تو ذیشان اشرف اور ایڈم لیتھ نے اننگز کا آغاز کیا تو تیسرے اوور کی تیسری گیند پر ایڈم لیتھ 9 رنز بنا کر وقاص مقصود کی گیند پر شیڈوک والٹن کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

Admissions Open in Free ONLINE Courses – Regular Classes

واضح رہے کہ میچ کیلئے کراچی کنگز کی قیادت عماد وسیم کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں بابراعظم، شرجیل خان، ایلکس ہیلز، وین پارنیل، شیڈوک والٹن، محمد عامر، وقاص مقصود، شرفین ردرفورڈ، افتخار احمد اور ارشد اقبال شامل ہیں۔

Digital Marketing Course

ملتان سلطانز کی قیادت شان مسعود کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں ذیشان اشرف، ایڈم لیتھ، ریلی روسو، روی بوپارا، خوشدل شاہ، شاہد آفریدی، سہیل تنویر، محمد الیاس، عمران طاہر اور محمد عرفان شامل ہیں۔

News:مزید

Kabaddi World Cup final Pakistan beat India and won the title

Kabaddi World Cup final Pakistan beat India and won the title

لاہورمیں جاری کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں پاکستان نے بھارتی کھلاڑیوں کو پچھاڑ کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والا یہ فائنل مقابلہ بہت دلچسپ رہا۔ شائقین کے لیے سنسنی خیزی برقرار رہی۔

مقابلے کے دوران بھارتی ٹیم اورانتظامیہ کی جانب سے امپائرز کے فیصلوں پر احتجاج بھی کیا گیا۔

مقابلے کے دونوں ہاف میں ٹیمیں پوائنٹس ٹیبل پر ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرتی رہیں۔

بالآخر پاکستان نے بھارتی ٹیم کو 41 کے مقابلے میں 43 پوائنٹس سے شکست دیکر پہلی بار یہ ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

بھارتی ٹیم کبڈی ورلڈ کپ سرکل اسٹائل کے ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔

یاد رہے کہ بھارتی ٹیم چھ مرتبہ کبڈی ورلڈ کپ کی فاتح رہ چکی ہے اور یہ اس کی پہلی شکست ہے۔

دونوں روایتی حریف ٹیموں کو دو الگ پولز میں رکھا گیا تھا۔

میچ میں فتح کے بعد سٹیڈیم پرجوش نعروں سے گونج اٹھا اور کھلاڑیوں کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے کامیاب ریڈر بنیامین جبکہ ڈیفنڈر میں سجاد گجر شامل تھے۔

ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے جب کہ بھارتی ٹیم شکست کے بعد افسردہ ہوگئے اور ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

کبڈی ورلڈ کپ چیمپئن اور رنر اپ ٹیموں میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب چودھری سرور نے ٹرافیاں تقسیم کیں۔

دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ یہ کسی کی ہار جیت نہیں بلکہ کبڈی کی فتح ہے۔

یہ فائنل مقابلہ دونوں ٹیموں کے درمیان آج شام سات بجے لاہور میں شروع ہوا۔

کبڈی ورلڈ کپ 2020 کے دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان  ایران کو 30 کے مقابلے میں 52 پوائنٹس سے شکست دی اور فائنل میں پہنچا۔

پہلے سیمی فائنل میں بھارت نے آسٹریلیا کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ اس مقابلے میں بھارت نے 42  جب کہ آسٹریلیا نے 32 پوائنٹس اسکور کیے تھے۔

سینکڑوں شائقین ٹکٹوں کے باوجود پاکستان اور انڈیا کا فائنل نہ دیکھ سکے:

پاکستان کو عالمی کبڈی ٹورنامنٹ کی میزبانی ملی جس میں دنیا کی نو بہترین کبڈی ٹیموں نے حصہ لیا۔

ٹورنامنٹ 9 سے 16 فروری تک جاری رہا۔ فائنل اور دو سیمی فائنل سمیت بیشتر میچ پنجاب سٹیڈیم لاہور جب کہ دو دن فیصل آباد اور ایک دن گجرات میں بھی میچ  ہوئے۔

ابتدا میں شائقین کی عدم دلچسپی کے باعث کالجوں سے طلبہ کو بسوں پر لایا گیا تاکہ سٹیڈیم بھرا جا سکے۔

یہاں تک کہ دونوں سیمی فائنل میں بھی سٹیڈیم پوری طرح نہ بھر سکا لیکن فائنل میچ میں پاکستانی ٹیم اورروایتی حریف بھارت کی ٹیموں کے درمیان تھا تو اس وجہ سے شہریوں نے اس میچ کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سٹیڈیم کا رخ کیا۔

سینکڑوں شائقین سٹیڈیم فل ہونے کے باعث ٹکٹوں کے باوجود گیٹ سے داخل نہ ہوسکے۔

پولیس نے شائقین کے رش اور احتجاج پر انہیں واپس بھیجنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کیا جس پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان فائنل میچ دیکھنے کے لیے برطانیہ سے آئی ایم سی سی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی پہنچ گئے۔

شائقین کی بڑی تعداد نے فائنل میچ دیکھتے ہوئے خوب ہلا گلا اور نعرے بازی کی۔

ہوم گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کے حق میں زیادہ نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔

میچ میں سنسنی برقراررہی، پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان معمولی پوائنٹس کا فرق رہا۔

ایک موقعے پر جب پاکستان کے پوائنٹس کم تھے تو سٹیڈیم میں خاموشی چھا گئی۔

پھر پے در پے پاکستانی پہلوانوں نے بھارتی سورماؤں کو پچھاڑا تو بھارت کے36 پاکستان کے 37 پوائنٹ ہوگئے جس کے بعد سٹیڈیم کی فضا نعروں سے گونج اٹھی۔

آخری لمحات میں ایک ایک پوائنٹ اوپر نیچے ہوتا رہا جس سے غیر یقینی صورت حال دلچسپ مراحل میں جمی رہی۔

ایونٹ میں پنجابی کمنٹری نے بھی شائقین کا جوش وجزبہ بڑھائے رکھا۔

Another clash between Pakistan and India came from the game’s ground

Another clash between Pakistan and India came from the game's ground

لاہور: کبڈی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے ایران کو شکست دے دی، فائنل میچ اب روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان آج کھیلا جائےگا۔پنجاب اسٹیڈیم لاہور میں جاری کبڈی کے سیمی فائنل میں پاکستان نے ایران کو 30 کے مقابلے میں 52 پوائنٹس سے شکست دی جب کہ بھارت نے آسٹریلیا کو 32 کے مقابلے میں 42 پوائنٹس سے ہرایا۔ پاکستان نے ایران کے خلاف زبردست پرفارمنس دیتے ہوئے برتری ثابت کی۔

ہاف ٹائم پر پاکستان کو 17 کے مقابلے میں 29 پوائنٹس کی سبقت تھی۔ پاکستان کی جانب سے کپتان عرفان مانا، شفیق چشی، ملک بن یامین، مشرف جنجوعہ، وقاص بٹ، اکمل شہزاد ڈوگر نے ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار اداکیا۔قبل ازیں ایک اور سیمی فائنل بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا جس میں بھارتی کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کیا۔ ہاف ٹائم پر بھارت کو 14 کے مقابلے میں 28 پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی۔

اسٹیڈیم میں موجود تماشایوں کی بڑی تعداد نے دونوں ٹیموں کو عمدہ کھیل پر بھرپور داد دی۔ دوسرے ہاف میں بھی بھارتی ٹیم نے خوب داو¿ پیچ لگائے اور مدِمقابل ٹیم پر غلبہ برقرار رکھا۔فائنل جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا جب کہ رنر اپ کو 75 لاکھ روپے دئیے جائیں گے۔ اتوار کو شیڈول فائنل میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آمد متوقع ہے۔

ضرور پڑھیں: امریکی سفارتخانے کے قریب راکٹوں سے حملہ

عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹوں سے حملہ ہوا ہے جبکہ کئی راکٹ سفارتی کمپاونڈ میں امریکی سفارتخانے کے قریب گرے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغداد میں علیٰ الصبح سفاری زون میں راکٹ حملے کئے گئے ہیں جن میں سے کچھ راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب آگرے تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیاراکٹوں کا ٹارگٹ واقعی امریکی سفارتخانہ تھا یا کچھ اور۔

مزید : کھیل

Babar Azam Karachi Kings’ only hope

Babar Azam Karachi Kings' only hope

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو جتنا ٹیلنٹ کراچی اور لاہور سے ملتا ہے اتنا پورا ملک سے ملا کر بھی جمع نہیں ہو پاتا۔ روز اول سے بیٹنگ میں کراچی اور بولنگ میں لاہور نمایاں رہا۔

حنیف محمد سے لے کر ظہیر عباس اور جاوید میاں داد تک، ہر بڑے بلے باز کی نرسری ساحلی شہر کراچی رہا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں حکمرانی کراچی کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔

کراچی کنگز ٹیم تو کراچی کی ہے لیکن اس میں کراچی کا کوئی بلے باز شامل نہیں اور بولنگ میں بھی کوئی بڑا نام نظر نہیں آتا۔

ٹیم کے مالک سلمان اقبال پر ماضی میں اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے لیکن وہ ہمیشہ اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ صرف کراچی کی ٹیم ہے۔

وہ کنگز کو پورے پاکستان کی ٹیم قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ شہر کے کھلاڑیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث انھیں کراچی کی مکمل حمایت کبھی بھی نہیں مل سکی۔ کراچی میں آج بھی پشاور زلمی کا راج ہے۔

 کراچی کنگز کی امید :

ویسے تو کنگز میں کئی ٹی ٹوئنٹی سپیشلسٹ ہیں لیکن اس وقت دنیائے کرکٹ کے دمکتے ستارے بابر اعظم ہی ٹیم کی واحد امید ہیں۔

بیٹنگ میں ان کی موجودہ فارم اور رنز کی بھوک نے انھیں سب سے جدا رکھا ہوا ہے۔ ان کی بیٹنگ حملے اور دفاع کا حسین امتزاج ہے۔ وہ اچانک گیئر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر گیند پر رن لینے کے فن سے وہ ابتدا سے حریف کے لیے خطرناک بن جاتے ہیں۔

بیٹنگ کا بوجھ 

ایلکس ہیلز، شرجیل خان اور افتخار احمد کنگز کے تین اہم بلے باز ہوں گے۔ پابندی ہٹنے کے بعد پہلی دفعہ ایکشن میں دکھائی دینے والے شرجیل اپنے شاٹ سلیکشن کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہیں۔ اگر ان کا بیٹ چل رہا ہو اور قسمت کی دیوی مہربان ہو تو پھر یہ پاکستانی کرس گیل بن جاتے ہیں۔
تیز بیٹنگ کے لیے مشہور ایلکس ہیل کا بلا پچھلے کئی مہینوں سے خاموش ہے۔ افتخار بھی اچھی فارم میں ہیں وہ اور عماد وسیم آخری اوورز میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

 بولرز کا راج 

محمد عامر اور کرس جارڈن کی جوڑی کسی بھی اوپننگ پیئر کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہے۔ عامر ویسے بھی صرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کھیل رہے ہیں تو اپنی پوری طاقت سے بولنگ کریں گے۔

عامر یامین اور مکلیناگھن مڈل میں رنز روکنے کے لیے بولنگ کریں گے جبکہ عماد وسیم کی بولنگ فیصلہ کن ہوگی لیکن اصل ہتھیار لیفٹ آرم سپنر عمر خان ہوں گے جو ایمرجنگ پلیئر بھی ہیں۔ گذشتہ ایڈیشن میں متعدد بار وہ خطرناک بولنگ کرکے حریف ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کرچکے ہیں۔

کپتانی کا تاج 

کنگز نے گذشتہ سال کے کپتان عماد وسیم کو برقرار رکھا ہے۔ گذشتہ پی ایس ایل میں کراچی کنگز چوتھی پوزیشن پر رہی تھی حالانکہ اسے کئی بڑے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل تھیں لیکن ٹورنامنٹ میں اچھے آغاز کے باوجود ٹیم آخر میں مسلسل ہارتی رہی۔ اس سال ٹیم کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔
ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں میں وکٹ کیپر رضوان، سپنر بلال آصف، اسامہ میر علی خان اور ارشد اقبال شامل ہیں۔ ان میں فقط رضوان ہی ایسے ہیں جو تسلسل کے ساتھ کھیلیں گے، باقیوں کے ساتھ قسمت کھیلے گی۔
ٹیم کی کوچنگ آسٹریلین ڈین جونز کے ہاتھوں میں ہے جن کی ایک سرخ ڈائری مشہور ہے جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
اس ڈائری میں ہر کھلاڑی کا کٹھا چٹھا اور مستقبل کی منصوبہ بندی لکھی ہوتی ہے۔ وہ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ رہ چکے ہیں۔
سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم بولنگ استاد ہوں گے۔ یہ وسیم اکرم کی پی ایس ایل میں تیسری ٹیم ہے۔ اس سے قبل وہ اسلام آباد اور ملتان کے بولروں کو ٹپ دیتے نظر آئے تھے۔
ان سب کے ہوتے ہوئے کراچی اس سال مضبوط ٹیم نظر آتی ہے لیکن ہر جنگجو کی صلاحیتں صرف میدان میں کھلتی ہیں، اس لیے بڑے ناموں کی بڑی کارکردگی ہی کراچی کو وکٹری سٹینڈ پر پہنچا سکتی ہے۔
کراچی کی ٹیم گذشتہ سال غیر اخلاقی زبان اور اشاروں کی مرتکب پائی گئی تھی۔ لاہور قلندرز کے خلاف ایک میچ میں وسیم اکرم اور عماد وسیم پر لاہور قلندرز نے الزام لگایا تھا کہ انھوں نے میچ جیتنے کے بعد خواتین کی جانب اشارہ کرکے معنی خیز جملے کسے۔
اگر بابر اعظم اور بولرز اپنی سو فیصد کارکردگی دکھائیں تو اس مرتبہ کراچی کنگز کے ٹائٹل جیتنے کے امکانات 70 فیصد سے زائد لگتے ہیں۔
بہرحال کوئی کچھ کرے یا نہ کرے کراچی کنگز کا سارا درومدار بابر اعظم پر رہے گا۔
مزید : اہم خبریں

Lala shares photo of younger daughter Shahid Afridi’s fifth daughter born

Lala shares photo of younger daughter Shahid Afridi's fifth daughter born

کراچی : نامور پاکستانی کرکٹر بوم بوم آفریدی کے ہاں پانچویں بیٹی کی پیدائش ہو گئی جس پر کرکٹر نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر شاہد آفریدی نے اپنی دیگر بیٹیوں کے ہمراہ نئے مہمان کی تصویر شیئر کی ۔تصویر میں دیکھا جا سکتاہے کہ شاہد آفریدی اپنی پانچویں بیٹی کو ہاتھ میں اٹھائے بے حد خوش دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ان کی دیگر بیٹیاں بھی خوشگوار موڈ میں ہیں ۔تصویر کے ساتھ شاہد آفریدی نے پیغام میں لکھا ”مجھ پر اللہ کی بے پناہ رحمتیں اور برکتیں ہیں ،میری پہلے ہی چار بہت خوبصورت بیٹیاں ہیں اور اب اللہ نے مجھے ایک اور بیٹی سے نوازا ہے،میں اپنے تمام خیر خواہوں کے ساتھ یہ خبر شیئر کر رہا ہوں“۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ خوشخبری اپنے چاہنے والوں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہد آفریدی کی شادی نادیہ شاہد سے سال 2000 میں ہوئی تھی۔

ان کی اس سے قبل چار بیٹیاں اقصیٰ، عنشہ، اجوا اور اسمارہ ہیں۔

ویسے تو شاہد آفریدی اپنی ذاتی زندگی یا فیملی کے حوالے سے زیادہ بات کرتے نظر نہیں آتے البتہ سوشل میڈیا پر ان کی فیملی کے ساتھ کئی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال شاہد آفریدی کی سوانح حیات ’گیم چینجر‘ بھی سامنے آئی تھی۔

اس کتاب کے ذریعے شاہد آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ ‘میں نے معاشرتی اور مذہبی وجوہات کے باعث یہ فیصلہ کیا کہ میری بیٹیاں عوامی سطح کے کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گی اور ان کی والدہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا’۔

اس بیان کے بعد کھلاڑی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے باوجود شاہد آفریدی نے ٹوئٹ پر لکھا تھا کہ وہ والد ہونے کی حیثیت سے اپنی بیٹیوں کے لیے فیصلے لے سکتے ہیں۔

مزید : اہم خبریں

Fans are anxious to see the battle of Kings and Qalandars

Fans are anxious to see the battle of Kings and Qalandars

لاہور:  پی ایس ایل میں شائقین کراچی کنگز اور لاہور قلندرزکی جنگ دیکھنے کیلیے بے چین ہیں۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کا شمار روایتی حریفوں میں ہوتا ہے، ملک کے 2 بڑے شہر قومی کرکٹ کی 2 بڑی نرسریاں بھی ہیں، یہاں سے اُبھرنے والے عمران خان، جاوید میانداد، ماجد خان، ظہیر عباس، سعید انور، عبدالقادر، وسیم اکرم، یونس خان، شاہد آفریدی، معین خان اور راشد لطیف نے میدانوں پر راج کیا۔

موجودہ ستاروں بابراعظم، سرفرازاحمد، وہاب ریاض، شان مسعود، اظہر علی اور امام الحق کا تعلق بھی انہی دونوں شہروں سے ہے، مگر یہاں کی ٹیمیں گذشتہ 4 سیزنز میں کبھی فائنل میں رسائی حاصل نہیں کرسکیں۔

لاہور قلندرز تو پلے آف مرحلے کا حصہ بھی نہیں بن پائی، رواں سال کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کا پہلا ٹاکرا اتوار8 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم اور دوسرا 12 تاریخ کو نیشنل اسٹیڈیم میں ہوگا، باہمی 8میچز میں سے 5 میں کراچی کنگز اور 2 میں لاہور قلندرز نے کامیابی حاصل کی، ایک میچ برابر ہونے پر لاہور قلندرز نے سپر اوور میں فتح پائی۔

اس بار عماد وسیم کی زیر قیادت کراچی کنگز کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں دنیا کے نمبر ون بیٹسمین بابراعظم، جارح مزاج ایلکس ہیلز اور کیمرون ڈیلپورٹ کے ساتھ شرجیل خان کی خدمات حاصل ہیں، محمد عامر، عمید آصف، کرس جارڈن، مچل میکلنگن، عماد وسیم اور عمر خان جیسے بولرز کا ساتھ بھی ٹیم کومیسر ہوگا، سہیل اختر کی قیادت میں لاہور قلندرز کے بیٹسمین کرس لین، فخر زمان، محمد حفیظ، بین ڈنک اورسلمان بٹ بڑا اسکور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور عثمان شنواری پر مشتمل لاہور قلندرز کا بولنگ اٹیک بھی بڑا جاندار ہے، دونوں ٹیموں میں سخت مقابلوں کی توقع ظاہر کر دی گئی ہے۔

مزید : اہم خبریں

Shahid Afridi and Yuvraj Singh call for restoration of Pak-India cricket

Shahid Afridi and Yuvraj Singh call for restoration of Pak-India cricket

دبئی: شاہد خان آفریدی اور یوراج سنگھ دونوں نے فوری طور پر پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی پر زور دیا ہے۔

دونوں ممالک کے سابق اسٹار آل راؤنڈرز ایکسپو دبئی کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلنے کیلیے اکھٹے ہوئے تھے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اور بھارت سیریز کھیلتے ہیں تو یہ ایشز سے بھی بڑی ثابت ہوگی مگر لوگوں کے پسندیدہ کھیل کے درمیان میں سیاست آچکی۔

دوسری جانب یوراج سنگھ کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کے خلاف 2004، 2006 اور 2008 کی باہمی سیریز کھیلنا اچھی طرح یاد ہے، اگرچہ یہ چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ پاک بھارت مقابلے بذات خود کھیل کیلیے فائدہ  مند ہیں۔

مزید

پرفارمنس ملک کے نام کرتا ہوں، نسیم شاہ

نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ میرے والد کو کرکٹ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں لیکن میں نے جب انھیں بتایا کہ میں نے 3 وکٹیں لی ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے

راولپنڈی ٹیسٹ کے ہیرو نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کیخلاف اپنی شاندار پرفامنس کو پاکستان کے نام کرتا ہوں۔

نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ میرے والد کو کرکٹ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں لیکن میں نے جب انھیں بتایا کہ میں نے 3 وکٹیں لی ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے، اللہ پاک کا شکر ہے کہ پاکستان میں کرکٹ بحال ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بنگلادیش کیخلاف اپنی شاندار پرفامنس کو پاکستان کے نام کرتا ہوں، کوشش تھی کہ پانچ وکٹیں حاصل کروں لیکن انجری کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوسکا، وقار یونس سے کافی سیکھ رہا ہوں، آگے بھی سیکھتا رہوں گا، انہوں نے کہا کہ میں محنت پر یقین رکھتا ہوں۔

مزید : اہم خبریں

Dubai-based cricketer Shadab Khan accused of blackmailing

Dubai-based cricketer Shadab Khan accused of blackmailing

دبئی میں مقیم خاتون کا  کپتان شاداب خان پر بلیک میلنگ کا الزام

 پاکستان کرکٹ ٹیم کےآل راؤنڈر اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان منفی خبروں کے حوالے سے شہ سرخیوں میں ہیں۔

صفیہ نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے کپتان شاداب خان کے ساتھ طویل چیٹنگ کے اسکرین شاٹس کوپوسٹ کیا ہے۔پوسٹ میں لڑکی نے دعوی کیا ہے کہ وہ کپتان شاداب خان کے کردار اور رویے کو بے نقاب کریں گی۔

لڑکی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے کپتان شاداب خان سے کوئی تعلقات تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے امام الحق، کے بعد کپتان شاداب خان کے حالیہ اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد سینٹرل کنٹریکٹ والے تمام کھلاڑیوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ اپنی ذمے داریوں کا احساس کریں۔

پی سی بی نے کرکٹرز کو وارننگ دی ہے کہ ڈسپلن کی خلاف روزی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث کسی کھلاڑی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ کپتان شاداب خان اسلام آباد میں پاکستان سپر لیگ کے کیمپ میں شرکت کررہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کپتان شاداب خان سمیت کچھ کھلاڑیوں کو وارننگ دی گئی ہے۔کہ یہ کسی بھی کھلاڑی کا نجی معاملہ ہے۔

پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون نےورلڈ کپ کا ذکر کیا ہے لیکن ورلڈ کپ کے دوران منیجر طلعت علی ملک نے اس قسم کے کسی واقعے کو رپورٹ نہیں کیا اگر منیجر رپورٹ کرتے تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر کارروائی سکتا تھا۔

عشرینہ صفیہ کا کہنا ہے کہ میرا کپتان شاداب خان سے رابطہ پہلی بار مارچ 2019 میں ہوا تھالیکن ورلڈ کپ کے دوران ان روابط میں تیزی اورشدت آگئی۔

لڑکی کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے خرچے پر دنیا کے مختلف ان ملکوں میں سفر کرتی رہیں جن ملکوں میں کپتان شاداب خان غیر ملکی لیگز میں شرکت کررہے تھے ۔

Rawalpindi Test; Bangladesh batting in second innings

Rawalpindi Test; Bangladesh batting in second innings

Rawalpindi Test; Bangladesh batting in second innings

راولپنڈیپاکستان کے 445 رنز کے جواب میں بنگلا دیش کی دوسری اننگز میں بیٹنگ جاری ہے۔ 

راولپنڈی میں بنگلا دیش کے خلاف کھیلے جارہے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 3 وکٹوں کے نقصان پر 342 رنز کے ساتھ دوبارہ کیا تو بابر اعظم 143 اور اسد شفیق 60 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے۔

کھیل کے آغاز پر ہی پاکستان کو بابراعظم کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑا، وہ اپنے گزشتہ روز کے اسکور 143 رنز میں کوئی اضافہ نہ کرسکے۔ 355 رنز پر اسد شفیق بھی پویلین لوٹ گئے، انہوں نے 65 رنز کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی چھٹی وکٹ 374 رنز پر گر گئی، محمد رضوان 10 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔  415 رنز پر پاکستان کی ساتویں وکٹ یاسر شاہ کی صورت میں گری، انہوں نے صرف 5 رنز بنائے۔  422 رنز پر پاکستان کی آٹھویں وکٹ  گرگئی، شاہین شاہ آفریدی 3رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ 442 رنز پر پاکستان کی نویں وکٹ گری، حارث سہیل 75 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ 445 رنز پر پاکستان کی پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔

بنگلا دیش کی جانب سے  روبیل حسین اور ابوجائید نے 3،3 ، تیج الاسلام نے 2 جب کہ عبادت حسین نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 233 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی ، اس طرح پاکستان کو دوسری اننگز میں بنگلا دیش پر 212 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

مزید : اہم خبریں

Will Nasir Jamshed’s sentence change?

Will Nasir Jamshed's sentence change?

کرکٹ اور فکسنگ کا چولی دامن کاساتھ ہے جتنا فکسنگ نے کرکٹ کو پراگندہ کیا ہے اتنا ہی کرکٹ نے فکسنگ کو مالامال کیا ہے۔

مالی فوائد کے لیے میچ فکسنگ نوے کی دہائی میں شروع ہوئی اور اس نے آناً فاناً دنیا بھر کی کرکٹ کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ اچھی بھلی جیتتی ہوئی ٹیمیں جب اچانک ہارنے لگیں تو لوگوں کا ماتھا ٹھنکا اور سات پردوں میں ہونے والے معاہدے منظر عام پر آنے لگے۔

کچھ ضمیر فروشوں نے اگر کھیل کا سودا کیا تو کچھ باضمیر کھلاڑی اپنی صفوں میں ایسے عناصر کی نشاندہی کرنے لگے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میچ فکسنگ تو ختم ہوگئی مگر ساکر کی طرز پر اسپاٹ فکسنگ یعنی کھیل کی مختلف سطحوں پر جوا کھیلا جانے لگا کہ کون کس طرح آؤٹ ہوگا یا کتنی ڈاٹ گیندیں کھیلے گا کس گیند کو روکے گا اور کس کو چھوڑے گا۔

یہ ایسی فکسنگ تھی جس کو پکڑنا انتہائی مشکل اور صبر آزما ہوتا ہے تاہم فکسنگ کی لت میں مبتلا کھلاڑی ہمیشہ اپنی لاپرواہی اور معاملات کی ستر پوشی مناسب طریقے سے نہ کرنے کے باعث پکڑے جاتے ہیں۔

ماضی میں ایسے کھلاڑی فکسنگ کے باعث پابندی کا شکار ہوئے جن کا حال اور مستقبل بے حد تابناک تھا مگر لالچ نے سب کچھ چھین لیا۔

کچھ کے ہاتھ تو اس بہتی گنگا میں دھونے کے باوجود تر بھی نہ ہوسکے اور کیرئیر کی تباہی کے ساتھ مالی مشکلات کا شکار ہوگئے۔

بنگلہ دیش کے ایک انتہائی باصلاحیت کھلاڑی اور پاکستان کے ایک معروف اسپنر تو ہر گئے دن اپنی بربادی پر بین کرتے رہتے ہیں۔ ماضی کے ایک بڑے پاکستانی بلے باز اس قدر کسمپرسی میں ہیں کہ لاہور کی سڑکوں پر ایک سگریٹ کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں۔

اسپاٹ فکسنگ کے ایک کیس میں تازہ ترین سزا مانچسٹر کراؤن کورٹ نے پاکستان کے ناصر جمشید کو سنائی ہے۔ ناصر جمشید کو بنگلہ دیش پریمیر لیگ کے ایک میچ میں فکسنگ پر اکسانے اور فکسنگ نیٹ ورک کے محرک بننے پر سترہ ماہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کے ساتھ دو اور برطانوی شہریوں کو بھی ساڑھے تین سال اور ڈھائی سال کی سزا ملی ہے۔ ان دونوں اشخاص نے کئی کھلاڑیوں کو اپنے نیٹ ورک میں لیا ہوا تھا اور برطانوی تحقیقاتی ادارے کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ فکسنگ کا نظام چلارہے تھے۔

ناصر جمشید پر پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی دس سال کی پابندی لگا چکا ہے جب کہ ان کے ساتھ ملوث شرجیل خان اور خالد لطیف پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی ہے۔ شرجیل خان اور خالد لطیف پاکستان سپر لیگ میں فکسنگ میں ملوث تھے اور ملنے والے شواہد سے ثابت ہوا تھا کہ وہ ناصر جمشید کے ذریعہ فکسنگ نیٹ ورک کا حصہ ہیں تاہم شرجیل خان کے اعتراف جرم کے بعد بورڈ کو ان پر رحم آیا اور ایک بحالی کے نظام سے گزرتے ہوئے ان کی سزا ڈھائی سال پر محیط کردی گئی۔ البتہ خالد لطیف کی سزا نہ کم ہوسکی اور وہ تاریکیوں میں کھوگئے۔

 33 سالہ ناصر جمشید جو برطانوی شہریت اختیار کرچکے ہیں ایک باصلاحیت کرکٹر تھے اور محض پندرہ سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کر چکے تھے۔ وہ پاکستان کی طرف سے ساٹھ انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں اور بھارت کے خلاف دو سنچریاں بھی بنا چکے ہیں۔ اپنے عروج کے وقت میں ٹیم کے اہم رکن تھے۔

جارحانہ بیٹنگ کے باعث ٹی ٹوئنٹی لیگز میں بھی ان کی ڈیمانڈ تھی لیکن وہ لالچ میں آکر سب گنوا بیٹھے۔

میچ فکسنگ کی لعنت نے نہ صرف ناصر کا کیرئیر ختم کیا بلکہ اب عدالت کے فیصلہ کے بعد انھیں سترہ ماہ کی سزا بھی بھگتنی ہوگی۔

میچ فکسنگ کے نتیجے میں ملنے والی دولت نے کھلاڑیوں کی آنکھیں تو چکا چوند کردی ہیں لیکن کھیل اور کھیل کے شائقین کو دھوکہ دینے کے جرم میں جب پکڑے جاتے ہیں تو پھر کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہیں ہوتا۔

یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ کچھ ایسے بھی فکسر ہیں جو اپنے وقت میں فکسنگ کرتے رہے لیکن قانون میں جھول ہونے کے باعث پکڑے نہ جاسکے اور ان کی نشاندہی کرنے والے باسط علی کا کیرئیر ختم ہوگیا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ فکسنگ میں صرف وہی سزا پاتے ہیں جن کے سر پر کسی کا ہاتھ نہیں ہوتا ورنہ نوے کی دہائی کی پاکستانی ٹیم کے آدھے کھلاڑی گھر بیٹھے  ہوتے لیکن بات صرف ایک دو پر آکر ختم ہو گئی اور جرمانہ یافتہ آج کرکٹ کے کرتا دھرتا ہیں۔

کرکٹ کو کنٹرول کرنے والے ادارے آئی سی سی نے فکسنگ کے خلاف سخت انتظامات کیے ہیں اور انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں ایک ایک کھلاڑی سمیت انتظامیہ اور صحافیوں تک پر نگاہ رکھی جاتی ہے۔

اسکے ساتھ ہر ملک کی ڈومیسٹک کرکٹ اور انٹرنیشنل میچوں کا بھی بغور جائزہ لیا جاتاہے لیکن اس قدر سخت انتظامات کے باوجود فکسنگ کا وائرس کہیں نہ کہیں کسی صورت میں پہنچ جاتا ہے۔

ناصر جمشید سمیت جتنے بھی کھلاڑیوں کو آج تک سزا ہوئی ہے وہ کتنی صحیح اور کتنی غلط ہے یہ توعدالتیں جانتی ہیں لیکن کرکٹ لیگز کی بھرمار اور غیر روایتی انداز کی کرکٹ یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ اداکاروں سے سرمایہ داروں تک کا کرکٹ میں دلچسپی لینا کسی فائدے کے بغیر تو ہو نہیں سکتا تو پھر وہ کون سے عوامل ہیں جو ان کو یہاں تک لے آئے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے چند روز قبل ناصر جمشید کی سزا نے کھلاڑیوں میں خوف بٹھا دیا ہے اور صحافیوں سے دور بھاگنے والے کھلاڑی اب اپنے سائے سے بھی خوف کھانے لگے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اربوں روپے کمانے والے آرگنائزرز پر خوف کون طاری کرے گا؟

مزید : اہم خبریں