Former Prime Minister Nawaz Sharif was rushed to hospital

Nawaz Sharif was taken to hospital with sudden severe kidney problems

نواز شریف کو گردے میں اچانک شدید تکلیف کے باعث اسپتال لے جایا گیا

سابق وزیراعظم نواز شریف کے گردے میں اچانک شدید تکلیف کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔
نواز شریف کا اسپتال میں خون کا ٹیسٹ اور سی ٹی اسکین کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق نوازشریف گردےکی تکلیف کےسبب بہترمحسوس نہیں کررہےتھے جس کی وجہ سے انہیں اسپتال لے جایا گیا۔

اسپتال میں نواز شریف کے گردے میں پتھری کا علاج جاری ہے۔
اس حوالے سے نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے تصدیق کی کہ ان کے والد کو گردے کی شدید تکلیف کی وجہ سے اچانک اسپتال جانا پڑا جس کی وجہ سے وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔

مریم نے کہا کہ اجلاس میں وہ اپنے والد کی نمائندگی کررہی ہیں۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف گزشتہ برس نومبر سے علاج کی غرض سے لندن میں ہیں۔

The former prime minister also fell victim to Corona

the-former-prime-minister-also-fell-victim-to-corona

اسلام آباد پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف بھی کورونا کا شکار ہوگئے۔

سابق وزیر اعظم کے صاحبزادے خرم پرویز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان کے والد راجہ پرویز اشرف کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے جس کے بعد انہوں نے گھر میں خود کو قرنطینہ کرلیا ہے اور تمام مصروفیات ترک کردی ہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے راجہ پرویز اشرف کی صحتیابی کیلئے دعاؤں کی اپیل بھی کی۔

Pakistan’s most expensive wedding hit the FBR’s radar

خیال رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کا جمعرات کی شب کورونا کے باعث انتقال ہوا ہے۔ وہ گزشتہ 10 روز سے اسلام آباد کے کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

The crazy girl in love with the boy got emotional and climbed on the billboard

علاوہ ازیں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کا 9 نومبر کو کورونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد سے وہ آئسولیشن میں ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق جنرل محمد افضل کا علاج بریگیڈیئر ارشد کر رہے ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم اے آئسولیشن کے دوران گھر سے کام جاری رکھیں گے۔

News:مزید

Shahbaz Sharif family money laundering case, indicted

http://www.ilmeasy.com/?p=4467&preview=true

لاہوراحتساب عدالت نے شہبازشریف فیملی منی لانڈرنگ کیس میں فردجرم عائد کردی،شہبازشریف نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق احتساب عدالت میں شہبازشریف فیملی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی،پولیس نے شہبازشریفکو بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کیا،جس پر لیگی کارکن بکتر بند گاڑی پر چڑھ گئے ،پولیس ن لیگی کارکنوں کوروکنے کی کوشش کرتی رہی،اس موقع پر ن لیگی کارکنوں کی پولیس کے ساتھ ہاتھ پائی بھی ہوئی ۔

Corona has become a vaccine but it is impossible for it to come to Pakistan.

شہبازشریفنے کہاکہ فزیو تھراپسٹ ابھی تک نہیں ملا،میری کمر کا درد بہت بڑھ چکا ہے،آج سماعت تھی اس لئے کل مجھے ہسپتال لے گئے ،میں نے کہاکہ مجھے ایمبولینس میںلے جائیں ،مجھے بکتر بند گاڑی میں ہسپتال لے کر گئے ،مجھے تکلیف دے کر انہیں خوشی ہوتی ہے،عدالت نے کہا شہبازشریف کو بٹھا دیاجائے،پہلے ہی ان کی کمر میں درد ہے۔

احتساب عدالت نے شہبازشریف فیملی منی لانڈرنگ کیس میں فردجرم عائد کردی، شہبازشریف نے صحت جرم سے انکار کردیا، شہباز شریف نے کہاکہ میں اپوزیشن لیڈر اور بڑی سیاسی جماعت کا صدر ہوں،یہ کیس بدنیتی پر بنایا گیا ہے جس سے انکار کرتا ہوں ، شہبازشریف نے کہاکہ اعلیٰ عدالتوںنے بھی نیب پر بہت سے سوالات اٹھائے ہیں یہ ادارہ پولیٹیکل انجینئرنگ کرنے والا ہے ،آج تک نیب ہمارے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا ۔

Govt Jobs Nov 2020 | Pakistan Railways Jobs 2020

نیب نے مختلف کیسز میں مجھے گرفتار کیا ،آج تک مجھ پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہ ہو سکی، میں نے قوم کے کھربوں روپے 10 سال میں بچائے ،مجھ پر لگائے گئے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں ،میں اس قوم کاقابل فخر سپوت ہوں ،ہم نے اس خطے میں پاکستان کو آگے لے ،ہم نے بھارت کو معاشی میدان میں شکست دینی ہے

مکمل بے قصور ہوں تمام الزامات سے انکار کرتا ہوں،اپنی بے گناہی کیلئے ثبوت عدالت کو پیش کریں گے،2009 میں لاہورہائیکورٹ نے چینی کی قیمت 40 روپے مقرر کی،فیصلے سے خاندان کو نقصان ہوا مگر چیلنج نہیں کیا،فاضل جج احتساب عدالت نے کہا کہ مجھے یہ فیصلہ یاد ہے، شہبازشریف نے کہاکہ یہ کیس سیاسی انتقام کی مثال ہے اب تو اعلیٰ عدالتوں سے بھی نیب کے خلاف فیصلے تواتر سے فیصلے آرہے ہیں ۔

How many deaths have been reported from Corona worldwide so far? Details come out

عدالت نے استفسارکیا کہ حمزہ شہباز آپ نے کچھ کہنا ہے ؟، حمزہ شہباز نے کہاکہ میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ہوں ، نیب نے ہمارے خلاف بدنیتی سے کیس بنایا ، نیب کے لگائے گئے تمام الزامات غلط ہیں ،تمام الزامات سے انکار کرتا ہوں ، بےگناہ ہوں اپنی بے گناہی ثابت کروں گا ، آج جس گاڑی میں لایا گیا اس کی بریک نہیں لگتی دوبارحادثہ ہوتے ہوتے بچا،ہمیں کمز درد کی شکایت ہے ایسی گاڑیوں میں لایا جاتا ہے،عدالت نے شہبازشریف فیملی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 26 نومبر تک ملتوی کردی،عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کو شہادت کیلئے طلب کرلیا۔

News:مزید

PTI leader arrested for forcible release

PTI leader arrested for forcible release

قصور پی ٹی آئی رہنما سردار محمد حسین ڈوگر کو ملزم چھڑوانا مہنگا پڑ گیا، پولیس نے ڈی پی او کی ہدایت پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا

Rumors of a petrol shortage in the city of Quaid have dissipated

روزنامہ دنیا کے مطابق تھانہ صدر سے ملحقہ چوکی نور پور پولیس کو 15 پر اطلاع ملی کہدو پارٹیوں کے درمیان جھگڑا ہو رہا ہے جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر شریف نامی شخص کو گرفتار کرلیا ۔تاہم پی ٹی آئی کے مقامی رہنما سردار محمد حسین ڈوگر اور دیگر افراد ڈنڈے لیکر پہنچ گئے اور راستے میں ہی زیر حراست ملزم محمد شریف کو فرار کروا دیا۔ پولیس تھانہ صدر نے مقدمہ درج کرکے سردار محمد حسین کو گرفتار کرلیا اور اسے حوالات میں بند کردیا۔ذرائع کے مطابق رات گئے تک تحریک انصاف کے مقامی رہنما صدر قصور بار مہر سلیم ایڈووکیٹ و دیگر پولیس افسروں کے ساتھ صلح کی کوشش کرتے رہے

Waziristan politics in Karachi: JUI and PTM face to face

Waziristan politics in Karachi: JUI and PTM face to face

کراچی کی وہ پختون آبادیاں جہاں جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل اکثریت میں آباد ہیں، گذشتہ کئی مہینوں سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

 جمعیت علمائے اسلام(ف) کراچی کے مضافات میں ان کچی آبادیوں کے محسود قبائلیوں خصوصاً نوجوانوں میں پشتون تحفظ موومنٹ  (پی ٹی ایم) کی مقبولیت کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔

دونوں سیاسی گروہ اپنے اجتماعات میں باقاعدگی سے جنوبی اورشمالی وزیرستان سے منتخب اپنے اراکین پارلیمنٹ کی شرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔

باقاعدگی سے منعقد ہونے والی پی ٹی ایم کی سرگرمیاں کراچی کے مضافات میں محسود قبائل تک ہی محدود ہیں جن میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن بھی شرکت کرتے ہیں۔

ان اجتماعات میں پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما شمالی وزیرستان سے منتخب آزاد ایم این اے محسن داوڑ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایم پی اے میرکلام وزیر بھی چند ماہ قبل شرکت کرچکے ہیں۔ حال ہی میں نو فروری کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پرایک ہال میں منعقدہ پی ٹی ایم کے پروگرام میں پاکستان پیپلزپارٹی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ غنوی بھٹو نے بھی خصوصی طورپرشرکت کی۔

دوسری جانب گذشتہ چند ماہ سے جے یوآئی (ف) جنوبی وزیرستان کی قیادت کی ایما پرجماعت کی جانب سے کراچی میں آباد محسود قبائل پرخصوصی توجہ دے رہی ہے۔

جنوری میں جنوبی وزیرستان سے منتخب جے یوآئی (ف) کے ایم این اے مولانا جمال الدین اورایم پی اے مولانا عصام الدین قریشی نے کراچی میں پانچ دن انہی آبادیوں میں جماعت کی سرگرمیوں میں گزارے۔

اس کے علاوہ کراچی کی سطح پر محسود اوربرکی قبائلیوں کے اموردیکھنے کے  لیے ’حلقہ محسود رابطہ کمیٹی برائے کراچی‘ کے نام سے ایک علیحدہ تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔ ملک عنایت اللہ محسود کی سرپرستی میں محسود اور برکی قبائل کے علمائے کرام اس کمیٹی کے اراکین ہیں۔

کراچی کے مضافات میں واقع سہراب گوٹھ اور اس پاس کی محسود آبادیاں وہی علاقے تھے جہاں جنوری 2018 میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں جنوبی وزیرستان کے رہائشی نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ احتجاج کراچی سے خیبرپختونخوا کے علاقوں ٹانک اورڈی آئی خان پہنچا اوروہاں سے منظورپشتین کی قیادت میں نقیب اللہ محسود کے  لیے انصاف مانگنے کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والے جلوس میں ہی پی ٹی ایم کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔

سہراب گوٹھ میں مقیم محسود قبائلی رہنما ہاشم محسود نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں جون2009  میں تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے سبب کراچی منتقل ہونے والے محسود قبائل کئی سالوں تک بڑی مشکلات سے دوچار رہے۔  ان میں سب سے اہم مسئلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً پولیس کا محسود قبائلیوں کوطالبان شدت پسندوں کے نام پرہراساں کرنا تھا۔

’یہ شکایات اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ پولیس انہیں پیسے لے کر چھوڑ دیتی یا پھر انہیں جعلی مقابلوں میں مار دیا جاتا۔ البتہ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہونے والی تحریک کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔‘

ہاشم محسود کے مطابق ان ساری پریشانیوں میں سیاسی جماعتوں خصوصاً جے یوآئی (ف)، عوامی نیشنل پارٹی اوردیگر  نے خاموشی اختیارکیے رکھی جسے محسود قبائل نے بڑی شدت سے محسوس کیا۔

البتہ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد جاری احتجاج کے سبب جہاں کراچی میں پولیس کی جانب سے بے جا گرفتاریوں اورجعلی مقابلوں کاسلسلہ رک گیا، وہی پی ٹی ایم کی شکل میں محسود نوجوانوں کوایک نئی سیاسی قوت مل گئی۔

سہراب گوٹھ میں ہی مقیم ایک صحافی کے مطابق ’کراچی میں پی ٹی ایم کے حامیوں کی اکثریت محسود قبائلی نوجوان ہیں جو آپریشن کے سبب کراچی  منتقل ہونے پرمجبورہوئے تھے، جبکہ تین چار دہائیوں سے آباد قبائلیوں کی پی ٹی ایم کی جانب دلچسپی نہ ہونے کے برابرہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی حمایت کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ’تحریک کے پانچ بنیادی مطالبات بنیادی طورپرجنوبی وزیرستان کے انہی قبائل کے آبائی علاقوں کے مسائل سے متعلق ہیں۔‘

تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں جے یوآئی (ف) کے گڑھ سمجھے جانے والے جنوبی وزیرستان اورشمالی وزیرستان کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور2018 کے عام اور2019 کے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں مذہبی جماعت کو پی ٹی ایم کی جانب سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

2018 کے عام انتخابات میں جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سے بالترتیب پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ علی وزیراورمحسن داوڑ جے یوآئی (ف) کے امیدواروں سے جیت گئے، جبکہ جنوبی وزیرستان کی دوسری نشست پر پی ٹی ایم کا امیدوارنہ ہونے کے سبب جے یوآئی (ف) کے مولانا جمال الدین دوبارہ منتخب ہوئے۔

اسی طرح 2019 میں منعقد ہونے والے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے کی ایم پی اے کی نشست پرجے یوآئی (ف) کے مولانا عصام الدین قریشی بھی پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ امیدوار سے سخت مقابلے کے بعد جیتے۔

کراچی کے ایک اور صحافی منیراحمد شاہ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جے یوآئی (ف) کی کامیابی میں کراچی میں رہائش پذیر ووٹرز اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ قومی وصوبائی نشستوں پر جے یو آئی کو اتنے ہی مارجن سے کامیابی ملی جتنے ووٹر وہ کراچی سے لے جانے میں کامیاب رہی۔

’انتخابات کے موقعے پر کراچی میں رہائش پزیر جنوبی وزیرستان کے ووٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے خصوصی طور پر بسوں میں لے جانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔‘

Attack with rockets near US Embassy

Attack with rockets near US Embassy

بغداد:عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹوں سے حملہ ہوا ہے جبکہ کئی راکٹ سفارتی کمپاونڈ میں امریکی سفارتخانے کے قریب گرے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغداد میں علیٰ الصبح سفاری زون میں راکٹ حملے کئے گئے ہیں جن میں سے کچھ راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب آگرے تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیاراکٹوں کا ٹارگٹ واقعی امریکی سفارتخانہ تھا یا کچھ اور۔

 تاحال کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔اے ایف پی کے مطابق اس کے نمائندے نے انتہائی سکیورٹی والے اس گرین زون میں متعدددھماکوں کی آواز سنی ہے۔اکتوبر دوہزار انیس سے اب تک یہ امریکی سفارتخانے پر یا اس کے قریب کیاگیاانیسواں حملہ ہے۔عراق میں امریکا کے پانچ ہزار دو سو فوجی موجود ہیں جن کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ وہاں صرف معاونت فراہم کرنے کیلئے موجودہیں۔

اس سے قبل آخری راکٹ حملہ دسمبر2019میں ہوا تھا جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلا ک ہوگیا تھا۔

ضرور پڑھیں: کرونا وائرس یورپ بھی پہنچ گیا، پہلا مریض ہلاک ، یہ کون سا ملک ہے؟

پیرس : کرونا وائرس نے ایشیا کے بعد اب یورپی ممالک کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے جہاں اس کی وجہ سے ہونے والی پہلی موت رجسٹرڈ ہوئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کی ہلاکت فرانس میں ہوئی ہے ، ایشیا سے باہر کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔ فرانس میں اب تک کرونا وائرس کے 11 کیسز سامنے آئے ہیں۔

فرانس کی وزارت صحت کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 80 سال تھی اور وہ چین سے سیاحت کیلئے فرانس آیا تھا جہاں 25 جنوری کو اس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ۔ اس وائرس کی وجہ سے گزشتہ کچھ روز سے اس کی حالت سخت خراب تھی اور اسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔

خیال رہے کہ چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے 1527 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ فلپائن، جاپان اور ہانگ کانگ میں بھی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، یہ پہلی بار ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے یورپ میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے۔

دوسری جانب مصر میں کرونا وائرس کا ایک مریض سامنے آیا ہے، جو براعظم افریقہ کا پہلا کیس ہے،اگر مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ متحدہ عرب امارات کے بعد دوسرا کیس ہے۔

مزید : اہم خبریں

Finance Minister Sajid Javed resigns in cabinet reshuffle

Finance Minister Sajid Javed resigns in cabinet reshuffle

لندن برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کابینہ میں ردو بدل کا آغاز کردیا ہے جب کہ وزیر خزانہ ساجد جاوید نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انتخابات میں کامیابی کے بعد برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بڑے پیمانے پر کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ ان کی کابینہ میں شامل وزیر خزانہ ساجد جاوید نے اپنے مشیروں کو برطرف کرنے کے احکامات مسترد کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

اطلاعات کے مطابق ان کی جگہ خزانہ کے چیف سیکریٹری اور سات ماہ قبل ہی ہاؤسنگ کے جونیئر وزیر بننے والے رشی اسناک وزارت خزانہ کی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ساجد جاوید نے وزارتی امور میں مداخلت کی وجہ سے استعفی دیا اور کہا ہے کہ ’’عزتِ نفس رکھنے والا کوئی وزیر‘‘ ان حالات میں کام نہیں کرسکتا جب کہ انہیں دو ہفتے بعد آئندہ سال کا بجٹ پیش کرنا تھا۔

کنزرویٹو پارٹی کی حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ میں صنفی اعتبار سے توازن پیدا کرنے کے لیے اہم تبدیلیاں متوقع تھیں، تاہم وزیر تعلیم کرس اسکڈموراور پاکستانی نژاد وزیر ٹرانسپورٹ نصرت غنی کے علاوہ کابینہ میں شامل نمایاں خواتین وزرا کو بھی  برطرف کردیا گیا ہے۔

مزید 

احمدآباد: بھارتی حکومت کی کوشش ہے کہ اس ماہ امریکی صدر ٹرمپ کے دورے پر ان کی نظر بھارتی کی غربت اور کچی آبادی پر نہ پڑجائے اسی لیے شہر احمد آباد کی صفائی کی جارہی ہے اور کچی آبادی کے سامنے ایک طویل دیوار تعمیر کی جارہی ہے تاکہ صدر ٹرمپ کی نظر اس پر نہ پڑسکے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جب حکومتی افسران سے دیوار کے بارے میں پوچھا گیا تو حکام نے کہا کہ اس کی سیکیورٹی وجوہ ہیں ناکہ آبادی کو اوجھل رکھنے کے لیے دیوار اٹھائی جارہی ہے لیکن ٹھیکے دار نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ حکومتی چاہتی کہ جب صدر ٹرمپ یہاں سے گزریں تو ’’جھونپڑ پٹی‘‘ کسی کو نہ دکھائی دے۔

مزید : اہم خبریں

PM directs Sindh to control flour prices in Karachi

PM directs Sindh to control flour prices in Karachi

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی ہے کہ کراچی سمیت صوبے میں آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

 وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے جائزے، پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا سمیت چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز نے شرکت کی۔

صوبائی چیف سیکرٹریز نے وزیرِ اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب، خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت میں مجموعی طور پر آٹے، چینی، چاول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا اور بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ صوبہ سندھ میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی کہ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے۔

وزیرِ اعظم نے تمام صوبائی سیکرٹریز سے بنیادی اشیائے ضروریہ دودھ، گھی، تیل، پینے کے پانی، گوشت، مصالحوں، دالوں اور دیگر اشیاء میں ملاوٹ کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ وزیرِ اعظم نے اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کرنے والے عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں کی صحت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، دودھ، گوشت، دالوں جیسی روزمرہ کی اشیا میں ملاوٹ کسی صورت قابل قبول نہیں، ملاوٹ کے خلاف قومی سطح پر ایمرجنسی کانفاذ کرکے اس کا تدارک کیا جائے، ملاوٹ کے خاتمے  کے لئے ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔

  نے چاروں چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں ملاوٹ کے خلاف موثر حکمت عملی اور ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ ترتیب دیا جائے جسکا آئندہ ہفتے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔

وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ چیک کرنے کے لئے لیبارٹری غیر فعال ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فعالی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جائے۔

مزید : اہم خبریں

Former MNA Jamshed Dasti who was arrested last week received the good news

Former MNA Jamshed Dasti who was arrested last week received the good news

ملتان: سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی ضمانت منظور کرلی گئی۔ملتان میں پولیس نے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو تیل چوری کے مقدمے میں6فروری کو گرفتار کیاتھا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے گرفتار ہونے والے سابق ایم این اے جمشید دستی کو خوشخبری مل گئی، نجی ٹی وی کے مطابق جمشید دستی کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ضمانت ملنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی نے کہا کہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں ان کی پیروی کروں گا۔

یاد رہے کہ 6فروری بروز جمعرات کو مظفر گڑھ پولیس نے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو تیل چوری کے مقدمے میں ملتان سے گرفتارکیا تھا ۔ان پر آئل ٹینکر عملے کو اغوا اور تیل چوری کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمے میں جمشید دستی کے 2 سابقہ گن مین پولیس اہلکار اور 5 دیگر ساتھی بھی نامزد ہیں۔

واضح رہے اس سے قبل بھی مظفرگڑھ میں نہرتوڑنے، ناجائزاسلحہ برآمدگی اور اشتعال انگیز تقریر کے الزامات کے تحت جمشید دستی کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

ضرور پڑھیں

ریاض:مسئلہ کشمیر پر جہاں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، یورپی یونین کی کمیٹیاں ، امریکا اور برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ و سینیٹ آواز اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں وہیں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کا رویہ پاکستان کی تشویش میں اضافہ کررہا ہے۔سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر پر اوآئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بدلے مسلم ممالک کا پارلیمانی فورم یا سپیکرز کانفرس اور فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ اجلاس بلانے کی پیشکش کی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ اس سے مسئلہ کشمیرکی اہمیت کم ہوجائے گی۔

مزید : اہم خبریں

What conditions did the Chaudhry Brothers accept from the government?

What conditions did the Chaudhry Brothers accept from the government?

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے اتحادی جماعت مسلم لیگ ق سے مذاکرات کرکے انہیں حکومت کے ساتھ چلنے پر رضا مند کرلیا ہے۔

حکومتی ٹیم میں شامل وفاقی وزرا پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر جاکر ان سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات سنے۔

حکومتی ٹیم سے ملاقات میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ، وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہی، رہنما مسلم لیگ ق رافع چوہدری اور رکن اسمبلی کامل علی آغا بھی شریک ہوئے۔

مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم نے ق لیگی قیادت کو تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور ان کے مسائل حل کرنے کا ٹاسک وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو سونپا گیا ہے۔

حکومتی ٹیم کی جانب سے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر ق لیگ نے رنجشیں بھلا کر ایک ساتھ چلنے کا عندیہ دے دیا۔

اختلافات کے خاتمے کا اعلان

مذاکرات کے بعد مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ اور پرویز خٹک نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں ایک ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا مگر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیے بغیر ہی چلے گئے۔

وفاقی وزیر پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں جو دور کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعظم بھی اتحادی جماعتوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اتحاد پورے پانچ سال چلتا رہے گا۔

دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ان کے تحفظات دور ہوچکے ہیں اور گلے شکووں کے بعد ہم ایک بار پھر پہلے کی طرح ساتھ مل کر کام کریں گے تاہم جہاں ضرورت محسوس کریں گے خرابیوں کی نشاندہی بھی کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں مہنگائی پر قابو پانے اور عوامی مسائل حل کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

پرویز الہیٰ کا نئے معاملات کی طرف اشارہ

حکومتی کمیٹی کے روانہ ہونے کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں اس ملاقات میں بعض نئے معاملات کا علم ہوا ہے اور اس بارے میں جو طے کیا گیا ہے وہ جلد عوام کے سامنے لائیں گے، اس میں بڑی خبریں ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن کی امانت ان کے پاس محفوظ ہے اور وہ وقت آنے پر واپس کریں گے۔‘

حکومت اور اتحادی جماعت میں کیا شرائط طے ہوئیں؟

مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق ‎حکومتی کمیٹی سے مذاکرات میں اتحادی جماعت کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے، جس کے مطابق ق لیگی اراکین کے حلقوں میں خصوصی فنڈز کا فوری اجرا ہوگا تاہم اس بارے میں ایک ملاقات اسلام آباد میں بھی ہوگی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ طے شدہ فارمولے کے تحت پنجاب کے متعلقہ اضلاع میں سرکاری افسران کی تقرری ق لیگی قیادت کی مشاورت سے ہوگی جبکہ جن افسران پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، ان کو ہٹانے کے لیے حکومت مسلم لیگ ق سے مشاورت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق ایک شرط یہ بھی ہے کہ اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزرا کو اپنے متعلقہ اداروں میں ردوبدل سے متعلق مکمل اختیار حاصل ہوگا، تاہم پنجاب کی بیوروکریسی میں ردوبدل اور اضلاع میں ترقیاتی کاموں سے متعلق بھی ق لیگ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق مسلم لیگ ق وفاق میں دو وزارتوں کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور چوہدری پرویز الہیٰ کے مطابق ق لیگ اب مونس الہیٰ کے لیے وفاقی وزارت نہیں لینا چاہتی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں منظور کیے گئے مسلم لیگ ق کے مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وفاق میں پرویز خٹک اور اسد عمر نگرانی کریں گے۔

مزید : اہم خبریں