How many deaths have been reported from Corona worldwide so far? Details come out

Global pandemic corona virus، کورونا وائرس۔،COVID-19

نیویارک عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں 4 کروڑ 90 لاکھ 93 ہزار 659 افراد متاثر اور 12 لاکھ 40 ہزار 683 اموات ہو چکی ہیں۔کورونا سے صحتیاب افراد کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ 26 ہزار 249 ہو گئی ہے۔ اور ایک کروڑ 28 لاکھ 26 ہزار 727 ایکٹیو کیسز ہیں۔

عالمی وبا کورونا وائرس

تفصیلات کے مطابق امریکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں اموات کی تعداد 2 لاکھ 41 ہزار سے زائد اور متاثرہ افراد کی تعداد 99 لاکھ 26 ہزار 637 تک پہنچ چکی ہے۔بھارت کورونا کیسز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔جہاں اموات کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار 29 اور 84 لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

Zalmi Foundation contributes Rs10m to PM’s Corona Relief Fund

برازیل میں کورونا

برازیل میں کورونا سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 61 ہزار 779 اور 56 لاکھ 14ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔روس میں 17 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں ۔اور اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 887 تک پہنچ چکی ہے۔فرانس میں 16 لاکھ1 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 38 ہزار 37جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسپین میں 13 لاکھ 65ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں جبکہ 38 ہزار486 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ارجنٹائن میں بھی 12 لاکھ 17ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں ۔اور 32 ہزار766 سے اموات ہوئی ہیں۔ کولمبیا میں 32 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ 11 لاکھ 17ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

دنیا میں کورونا سے پہلی ہلاکت 11 جنوری2020 میں چین میں رپورٹ ہوئی۔ 9 اپریل کو کورونا سے مجموعی اموات کی تعداد ایک لاکھ ہوگئی تھی۔ کورونا سے پہلی ایک لاکھ اموات ابتدائی 89 روز میں رپورٹ ہوئیں۔رواں سال 24 اپریل کو کورونا سے اموات کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اورایک سے2 لاکھ اموات کیلئے صرف 15دن کا وقت لگا۔ 13مئی تک دنیا بھر میں 3 لاکھ اموات رجسٹرڈ ہوئیں۔ اور 2سے3لاکھ اموات تک پہنچنے میں 19دن لگے۔

Another clash between Pakistan and India came from the game’s ground

خیال رہے پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر بھی شروع ہوچکی ہے۔ جس کے پیش نظر حکومت کی جانب سے شہریوں کو گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک اور دیگر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

PTI leader arrested for forcible release

PTI leader arrested for forcible release

قصور پی ٹی آئی رہنما سردار محمد حسین ڈوگر کو ملزم چھڑوانا مہنگا پڑ گیا، پولیس نے ڈی پی او کی ہدایت پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا

Rumors of a petrol shortage in the city of Quaid have dissipated

روزنامہ دنیا کے مطابق تھانہ صدر سے ملحقہ چوکی نور پور پولیس کو 15 پر اطلاع ملی کہدو پارٹیوں کے درمیان جھگڑا ہو رہا ہے جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر شریف نامی شخص کو گرفتار کرلیا ۔تاہم پی ٹی آئی کے مقامی رہنما سردار محمد حسین ڈوگر اور دیگر افراد ڈنڈے لیکر پہنچ گئے اور راستے میں ہی زیر حراست ملزم محمد شریف کو فرار کروا دیا۔ پولیس تھانہ صدر نے مقدمہ درج کرکے سردار محمد حسین کو گرفتار کرلیا اور اسے حوالات میں بند کردیا۔ذرائع کے مطابق رات گئے تک تحریک انصاف کے مقامی رہنما صدر قصور بار مہر سلیم ایڈووکیٹ و دیگر پولیس افسروں کے ساتھ صلح کی کوشش کرتے رہے

Rumors of a petrol shortage in the city of Quaid have dissipated

Rumors of a petrol shortage in the city of Quaid have dissipated
شہر قائد میں پیٹرول کی قلت کی افواہیں دم توڑ گئیں

شہر قائد میں پیٹرول کی قلت کی افواہیں دم توڑ گئیں، پمپس پر پیٹرول کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات کراچی میں نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سپلائی بند ہونے سے پیٹرول کی قلت کی افواہیں پھیل گئی تھیں، مختلف علاقوں میں پیٹرول پمپ بند ہونا بھی شروع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے پی ایس او کے پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت شہر کے پیٹرول پمپس معمول کے مطابق کھلے ہوئے ہیں اور پیٹرول کی قلت کی افواہیں دم توڑ چکی ہیں، افواہوں کے ساتھ شہر میں ایرانی پیٹرول کی کھلے عام فروخت بھی شروع ہو گئی تھی جہاں فی لیٹر پیٹرول 180 روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا۔
گزشتہ روز مضر صحت گیس کے واقعے کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ایس او نے آئل ٹرمینل بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، ترجمان پی ایس او کا کہنا تھا کہ کیماڑی ٹرمینل بند رکھنے کا فیصلہ عملے اور کنٹریکڑز کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے، اور پی ایس او کی اعلیٰ انتظامیہ صورت حال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ کمپنی کے 23 میں سے 22 آئل ٹرمینل مکمل طور پر فعال ہیں، اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات تسلی بخش مقدار میں دستیاب ہے، جب کہ کیماڑی ٹرمینل عارضی بند ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی متاثر نہیں ہوگی۔

Kabaddi World Cup final Pakistan beat India and won the title

Kabaddi World Cup final Pakistan beat India and won the title

لاہورمیں جاری کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں پاکستان نے بھارتی کھلاڑیوں کو پچھاڑ کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والا یہ فائنل مقابلہ بہت دلچسپ رہا۔ شائقین کے لیے سنسنی خیزی برقرار رہی۔

مقابلے کے دوران بھارتی ٹیم اورانتظامیہ کی جانب سے امپائرز کے فیصلوں پر احتجاج بھی کیا گیا۔

مقابلے کے دونوں ہاف میں ٹیمیں پوائنٹس ٹیبل پر ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرتی رہیں۔

بالآخر پاکستان نے بھارتی ٹیم کو 41 کے مقابلے میں 43 پوائنٹس سے شکست دیکر پہلی بار یہ ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

بھارتی ٹیم کبڈی ورلڈ کپ سرکل اسٹائل کے ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔

یاد رہے کہ بھارتی ٹیم چھ مرتبہ کبڈی ورلڈ کپ کی فاتح رہ چکی ہے اور یہ اس کی پہلی شکست ہے۔

دونوں روایتی حریف ٹیموں کو دو الگ پولز میں رکھا گیا تھا۔

میچ میں فتح کے بعد سٹیڈیم پرجوش نعروں سے گونج اٹھا اور کھلاڑیوں کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے کامیاب ریڈر بنیامین جبکہ ڈیفنڈر میں سجاد گجر شامل تھے۔

ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے جب کہ بھارتی ٹیم شکست کے بعد افسردہ ہوگئے اور ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

کبڈی ورلڈ کپ چیمپئن اور رنر اپ ٹیموں میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب چودھری سرور نے ٹرافیاں تقسیم کیں۔

دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ یہ کسی کی ہار جیت نہیں بلکہ کبڈی کی فتح ہے۔

یہ فائنل مقابلہ دونوں ٹیموں کے درمیان آج شام سات بجے لاہور میں شروع ہوا۔

کبڈی ورلڈ کپ 2020 کے دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان  ایران کو 30 کے مقابلے میں 52 پوائنٹس سے شکست دی اور فائنل میں پہنچا۔

پہلے سیمی فائنل میں بھارت نے آسٹریلیا کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ اس مقابلے میں بھارت نے 42  جب کہ آسٹریلیا نے 32 پوائنٹس اسکور کیے تھے۔

سینکڑوں شائقین ٹکٹوں کے باوجود پاکستان اور انڈیا کا فائنل نہ دیکھ سکے:

پاکستان کو عالمی کبڈی ٹورنامنٹ کی میزبانی ملی جس میں دنیا کی نو بہترین کبڈی ٹیموں نے حصہ لیا۔

ٹورنامنٹ 9 سے 16 فروری تک جاری رہا۔ فائنل اور دو سیمی فائنل سمیت بیشتر میچ پنجاب سٹیڈیم لاہور جب کہ دو دن فیصل آباد اور ایک دن گجرات میں بھی میچ  ہوئے۔

ابتدا میں شائقین کی عدم دلچسپی کے باعث کالجوں سے طلبہ کو بسوں پر لایا گیا تاکہ سٹیڈیم بھرا جا سکے۔

یہاں تک کہ دونوں سیمی فائنل میں بھی سٹیڈیم پوری طرح نہ بھر سکا لیکن فائنل میچ میں پاکستانی ٹیم اورروایتی حریف بھارت کی ٹیموں کے درمیان تھا تو اس وجہ سے شہریوں نے اس میچ کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سٹیڈیم کا رخ کیا۔

سینکڑوں شائقین سٹیڈیم فل ہونے کے باعث ٹکٹوں کے باوجود گیٹ سے داخل نہ ہوسکے۔

پولیس نے شائقین کے رش اور احتجاج پر انہیں واپس بھیجنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کیا جس پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان فائنل میچ دیکھنے کے لیے برطانیہ سے آئی ایم سی سی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی پہنچ گئے۔

شائقین کی بڑی تعداد نے فائنل میچ دیکھتے ہوئے خوب ہلا گلا اور نعرے بازی کی۔

ہوم گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کے حق میں زیادہ نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔

میچ میں سنسنی برقراررہی، پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان معمولی پوائنٹس کا فرق رہا۔

ایک موقعے پر جب پاکستان کے پوائنٹس کم تھے تو سٹیڈیم میں خاموشی چھا گئی۔

پھر پے در پے پاکستانی پہلوانوں نے بھارتی سورماؤں کو پچھاڑا تو بھارت کے36 پاکستان کے 37 پوائنٹ ہوگئے جس کے بعد سٹیڈیم کی فضا نعروں سے گونج اٹھی۔

آخری لمحات میں ایک ایک پوائنٹ اوپر نیچے ہوتا رہا جس سے غیر یقینی صورت حال دلچسپ مراحل میں جمی رہی۔

ایونٹ میں پنجابی کمنٹری نے بھی شائقین کا جوش وجزبہ بڑھائے رکھا۔

Another clash between Pakistan and India came from the game’s ground

Another clash between Pakistan and India came from the game's ground

لاہور: کبڈی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے ایران کو شکست دے دی، فائنل میچ اب روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان آج کھیلا جائےگا۔پنجاب اسٹیڈیم لاہور میں جاری کبڈی کے سیمی فائنل میں پاکستان نے ایران کو 30 کے مقابلے میں 52 پوائنٹس سے شکست دی جب کہ بھارت نے آسٹریلیا کو 32 کے مقابلے میں 42 پوائنٹس سے ہرایا۔ پاکستان نے ایران کے خلاف زبردست پرفارمنس دیتے ہوئے برتری ثابت کی۔

ہاف ٹائم پر پاکستان کو 17 کے مقابلے میں 29 پوائنٹس کی سبقت تھی۔ پاکستان کی جانب سے کپتان عرفان مانا، شفیق چشی، ملک بن یامین، مشرف جنجوعہ، وقاص بٹ، اکمل شہزاد ڈوگر نے ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار اداکیا۔قبل ازیں ایک اور سیمی فائنل بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا جس میں بھارتی کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کیا۔ ہاف ٹائم پر بھارت کو 14 کے مقابلے میں 28 پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی۔

اسٹیڈیم میں موجود تماشایوں کی بڑی تعداد نے دونوں ٹیموں کو عمدہ کھیل پر بھرپور داد دی۔ دوسرے ہاف میں بھی بھارتی ٹیم نے خوب داو¿ پیچ لگائے اور مدِمقابل ٹیم پر غلبہ برقرار رکھا۔فائنل جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا جب کہ رنر اپ کو 75 لاکھ روپے دئیے جائیں گے۔ اتوار کو شیڈول فائنل میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آمد متوقع ہے۔

ضرور پڑھیں: امریکی سفارتخانے کے قریب راکٹوں سے حملہ

عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹوں سے حملہ ہوا ہے جبکہ کئی راکٹ سفارتی کمپاونڈ میں امریکی سفارتخانے کے قریب گرے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغداد میں علیٰ الصبح سفاری زون میں راکٹ حملے کئے گئے ہیں جن میں سے کچھ راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب آگرے تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیاراکٹوں کا ٹارگٹ واقعی امریکی سفارتخانہ تھا یا کچھ اور۔

مزید : کھیل

Waziristan politics in Karachi: JUI and PTM face to face

Waziristan politics in Karachi: JUI and PTM face to face

کراچی کی وہ پختون آبادیاں جہاں جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل اکثریت میں آباد ہیں، گذشتہ کئی مہینوں سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

 جمعیت علمائے اسلام(ف) کراچی کے مضافات میں ان کچی آبادیوں کے محسود قبائلیوں خصوصاً نوجوانوں میں پشتون تحفظ موومنٹ  (پی ٹی ایم) کی مقبولیت کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔

دونوں سیاسی گروہ اپنے اجتماعات میں باقاعدگی سے جنوبی اورشمالی وزیرستان سے منتخب اپنے اراکین پارلیمنٹ کی شرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔

باقاعدگی سے منعقد ہونے والی پی ٹی ایم کی سرگرمیاں کراچی کے مضافات میں محسود قبائل تک ہی محدود ہیں جن میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن بھی شرکت کرتے ہیں۔

ان اجتماعات میں پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما شمالی وزیرستان سے منتخب آزاد ایم این اے محسن داوڑ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایم پی اے میرکلام وزیر بھی چند ماہ قبل شرکت کرچکے ہیں۔ حال ہی میں نو فروری کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پرایک ہال میں منعقدہ پی ٹی ایم کے پروگرام میں پاکستان پیپلزپارٹی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ غنوی بھٹو نے بھی خصوصی طورپرشرکت کی۔

دوسری جانب گذشتہ چند ماہ سے جے یوآئی (ف) جنوبی وزیرستان کی قیادت کی ایما پرجماعت کی جانب سے کراچی میں آباد محسود قبائل پرخصوصی توجہ دے رہی ہے۔

جنوری میں جنوبی وزیرستان سے منتخب جے یوآئی (ف) کے ایم این اے مولانا جمال الدین اورایم پی اے مولانا عصام الدین قریشی نے کراچی میں پانچ دن انہی آبادیوں میں جماعت کی سرگرمیوں میں گزارے۔

اس کے علاوہ کراچی کی سطح پر محسود اوربرکی قبائلیوں کے اموردیکھنے کے  لیے ’حلقہ محسود رابطہ کمیٹی برائے کراچی‘ کے نام سے ایک علیحدہ تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔ ملک عنایت اللہ محسود کی سرپرستی میں محسود اور برکی قبائل کے علمائے کرام اس کمیٹی کے اراکین ہیں۔

کراچی کے مضافات میں واقع سہراب گوٹھ اور اس پاس کی محسود آبادیاں وہی علاقے تھے جہاں جنوری 2018 میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں جنوبی وزیرستان کے رہائشی نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ احتجاج کراچی سے خیبرپختونخوا کے علاقوں ٹانک اورڈی آئی خان پہنچا اوروہاں سے منظورپشتین کی قیادت میں نقیب اللہ محسود کے  لیے انصاف مانگنے کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والے جلوس میں ہی پی ٹی ایم کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔

سہراب گوٹھ میں مقیم محسود قبائلی رہنما ہاشم محسود نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں جون2009  میں تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے سبب کراچی منتقل ہونے والے محسود قبائل کئی سالوں تک بڑی مشکلات سے دوچار رہے۔  ان میں سب سے اہم مسئلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً پولیس کا محسود قبائلیوں کوطالبان شدت پسندوں کے نام پرہراساں کرنا تھا۔

’یہ شکایات اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ پولیس انہیں پیسے لے کر چھوڑ دیتی یا پھر انہیں جعلی مقابلوں میں مار دیا جاتا۔ البتہ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہونے والی تحریک کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔‘

ہاشم محسود کے مطابق ان ساری پریشانیوں میں سیاسی جماعتوں خصوصاً جے یوآئی (ف)، عوامی نیشنل پارٹی اوردیگر  نے خاموشی اختیارکیے رکھی جسے محسود قبائل نے بڑی شدت سے محسوس کیا۔

البتہ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد جاری احتجاج کے سبب جہاں کراچی میں پولیس کی جانب سے بے جا گرفتاریوں اورجعلی مقابلوں کاسلسلہ رک گیا، وہی پی ٹی ایم کی شکل میں محسود نوجوانوں کوایک نئی سیاسی قوت مل گئی۔

سہراب گوٹھ میں ہی مقیم ایک صحافی کے مطابق ’کراچی میں پی ٹی ایم کے حامیوں کی اکثریت محسود قبائلی نوجوان ہیں جو آپریشن کے سبب کراچی  منتقل ہونے پرمجبورہوئے تھے، جبکہ تین چار دہائیوں سے آباد قبائلیوں کی پی ٹی ایم کی جانب دلچسپی نہ ہونے کے برابرہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی حمایت کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ’تحریک کے پانچ بنیادی مطالبات بنیادی طورپرجنوبی وزیرستان کے انہی قبائل کے آبائی علاقوں کے مسائل سے متعلق ہیں۔‘

تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں جے یوآئی (ف) کے گڑھ سمجھے جانے والے جنوبی وزیرستان اورشمالی وزیرستان کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور2018 کے عام اور2019 کے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں مذہبی جماعت کو پی ٹی ایم کی جانب سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

2018 کے عام انتخابات میں جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سے بالترتیب پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ علی وزیراورمحسن داوڑ جے یوآئی (ف) کے امیدواروں سے جیت گئے، جبکہ جنوبی وزیرستان کی دوسری نشست پر پی ٹی ایم کا امیدوارنہ ہونے کے سبب جے یوآئی (ف) کے مولانا جمال الدین دوبارہ منتخب ہوئے۔

اسی طرح 2019 میں منعقد ہونے والے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے کی ایم پی اے کی نشست پرجے یوآئی (ف) کے مولانا عصام الدین قریشی بھی پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ امیدوار سے سخت مقابلے کے بعد جیتے۔

کراچی کے ایک اور صحافی منیراحمد شاہ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جے یوآئی (ف) کی کامیابی میں کراچی میں رہائش پذیر ووٹرز اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ قومی وصوبائی نشستوں پر جے یو آئی کو اتنے ہی مارجن سے کامیابی ملی جتنے ووٹر وہ کراچی سے لے جانے میں کامیاب رہی۔

’انتخابات کے موقعے پر کراچی میں رہائش پزیر جنوبی وزیرستان کے ووٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے خصوصی طور پر بسوں میں لے جانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔‘

Babar Azam Karachi Kings’ only hope

Babar Azam Karachi Kings' only hope

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو جتنا ٹیلنٹ کراچی اور لاہور سے ملتا ہے اتنا پورا ملک سے ملا کر بھی جمع نہیں ہو پاتا۔ روز اول سے بیٹنگ میں کراچی اور بولنگ میں لاہور نمایاں رہا۔

حنیف محمد سے لے کر ظہیر عباس اور جاوید میاں داد تک، ہر بڑے بلے باز کی نرسری ساحلی شہر کراچی رہا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں حکمرانی کراچی کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔

کراچی کنگز ٹیم تو کراچی کی ہے لیکن اس میں کراچی کا کوئی بلے باز شامل نہیں اور بولنگ میں بھی کوئی بڑا نام نظر نہیں آتا۔

ٹیم کے مالک سلمان اقبال پر ماضی میں اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے لیکن وہ ہمیشہ اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ صرف کراچی کی ٹیم ہے۔

وہ کنگز کو پورے پاکستان کی ٹیم قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ شہر کے کھلاڑیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث انھیں کراچی کی مکمل حمایت کبھی بھی نہیں مل سکی۔ کراچی میں آج بھی پشاور زلمی کا راج ہے۔

 کراچی کنگز کی امید :

ویسے تو کنگز میں کئی ٹی ٹوئنٹی سپیشلسٹ ہیں لیکن اس وقت دنیائے کرکٹ کے دمکتے ستارے بابر اعظم ہی ٹیم کی واحد امید ہیں۔

بیٹنگ میں ان کی موجودہ فارم اور رنز کی بھوک نے انھیں سب سے جدا رکھا ہوا ہے۔ ان کی بیٹنگ حملے اور دفاع کا حسین امتزاج ہے۔ وہ اچانک گیئر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر گیند پر رن لینے کے فن سے وہ ابتدا سے حریف کے لیے خطرناک بن جاتے ہیں۔

بیٹنگ کا بوجھ 

ایلکس ہیلز، شرجیل خان اور افتخار احمد کنگز کے تین اہم بلے باز ہوں گے۔ پابندی ہٹنے کے بعد پہلی دفعہ ایکشن میں دکھائی دینے والے شرجیل اپنے شاٹ سلیکشن کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہیں۔ اگر ان کا بیٹ چل رہا ہو اور قسمت کی دیوی مہربان ہو تو پھر یہ پاکستانی کرس گیل بن جاتے ہیں۔
تیز بیٹنگ کے لیے مشہور ایلکس ہیل کا بلا پچھلے کئی مہینوں سے خاموش ہے۔ افتخار بھی اچھی فارم میں ہیں وہ اور عماد وسیم آخری اوورز میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

 بولرز کا راج 

محمد عامر اور کرس جارڈن کی جوڑی کسی بھی اوپننگ پیئر کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہے۔ عامر ویسے بھی صرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کھیل رہے ہیں تو اپنی پوری طاقت سے بولنگ کریں گے۔

عامر یامین اور مکلیناگھن مڈل میں رنز روکنے کے لیے بولنگ کریں گے جبکہ عماد وسیم کی بولنگ فیصلہ کن ہوگی لیکن اصل ہتھیار لیفٹ آرم سپنر عمر خان ہوں گے جو ایمرجنگ پلیئر بھی ہیں۔ گذشتہ ایڈیشن میں متعدد بار وہ خطرناک بولنگ کرکے حریف ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کرچکے ہیں۔

کپتانی کا تاج 

کنگز نے گذشتہ سال کے کپتان عماد وسیم کو برقرار رکھا ہے۔ گذشتہ پی ایس ایل میں کراچی کنگز چوتھی پوزیشن پر رہی تھی حالانکہ اسے کئی بڑے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل تھیں لیکن ٹورنامنٹ میں اچھے آغاز کے باوجود ٹیم آخر میں مسلسل ہارتی رہی۔ اس سال ٹیم کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔
ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں میں وکٹ کیپر رضوان، سپنر بلال آصف، اسامہ میر علی خان اور ارشد اقبال شامل ہیں۔ ان میں فقط رضوان ہی ایسے ہیں جو تسلسل کے ساتھ کھیلیں گے، باقیوں کے ساتھ قسمت کھیلے گی۔
ٹیم کی کوچنگ آسٹریلین ڈین جونز کے ہاتھوں میں ہے جن کی ایک سرخ ڈائری مشہور ہے جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
اس ڈائری میں ہر کھلاڑی کا کٹھا چٹھا اور مستقبل کی منصوبہ بندی لکھی ہوتی ہے۔ وہ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ رہ چکے ہیں۔
سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم بولنگ استاد ہوں گے۔ یہ وسیم اکرم کی پی ایس ایل میں تیسری ٹیم ہے۔ اس سے قبل وہ اسلام آباد اور ملتان کے بولروں کو ٹپ دیتے نظر آئے تھے۔
ان سب کے ہوتے ہوئے کراچی اس سال مضبوط ٹیم نظر آتی ہے لیکن ہر جنگجو کی صلاحیتں صرف میدان میں کھلتی ہیں، اس لیے بڑے ناموں کی بڑی کارکردگی ہی کراچی کو وکٹری سٹینڈ پر پہنچا سکتی ہے۔
کراچی کی ٹیم گذشتہ سال غیر اخلاقی زبان اور اشاروں کی مرتکب پائی گئی تھی۔ لاہور قلندرز کے خلاف ایک میچ میں وسیم اکرم اور عماد وسیم پر لاہور قلندرز نے الزام لگایا تھا کہ انھوں نے میچ جیتنے کے بعد خواتین کی جانب اشارہ کرکے معنی خیز جملے کسے۔
اگر بابر اعظم اور بولرز اپنی سو فیصد کارکردگی دکھائیں تو اس مرتبہ کراچی کنگز کے ٹائٹل جیتنے کے امکانات 70 فیصد سے زائد لگتے ہیں۔
بہرحال کوئی کچھ کرے یا نہ کرے کراچی کنگز کا سارا درومدار بابر اعظم پر رہے گا۔
مزید : اہم خبریں

Attack with rockets near US Embassy

Attack with rockets near US Embassy

بغداد:عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹوں سے حملہ ہوا ہے جبکہ کئی راکٹ سفارتی کمپاونڈ میں امریکی سفارتخانے کے قریب گرے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغداد میں علیٰ الصبح سفاری زون میں راکٹ حملے کئے گئے ہیں جن میں سے کچھ راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب آگرے تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیاراکٹوں کا ٹارگٹ واقعی امریکی سفارتخانہ تھا یا کچھ اور۔

 تاحال کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔اے ایف پی کے مطابق اس کے نمائندے نے انتہائی سکیورٹی والے اس گرین زون میں متعدددھماکوں کی آواز سنی ہے۔اکتوبر دوہزار انیس سے اب تک یہ امریکی سفارتخانے پر یا اس کے قریب کیاگیاانیسواں حملہ ہے۔عراق میں امریکا کے پانچ ہزار دو سو فوجی موجود ہیں جن کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ وہاں صرف معاونت فراہم کرنے کیلئے موجودہیں۔

اس سے قبل آخری راکٹ حملہ دسمبر2019میں ہوا تھا جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلا ک ہوگیا تھا۔

ضرور پڑھیں: کرونا وائرس یورپ بھی پہنچ گیا، پہلا مریض ہلاک ، یہ کون سا ملک ہے؟

پیرس : کرونا وائرس نے ایشیا کے بعد اب یورپی ممالک کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے جہاں اس کی وجہ سے ہونے والی پہلی موت رجسٹرڈ ہوئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کی ہلاکت فرانس میں ہوئی ہے ، ایشیا سے باہر کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔ فرانس میں اب تک کرونا وائرس کے 11 کیسز سامنے آئے ہیں۔

فرانس کی وزارت صحت کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 80 سال تھی اور وہ چین سے سیاحت کیلئے فرانس آیا تھا جہاں 25 جنوری کو اس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ۔ اس وائرس کی وجہ سے گزشتہ کچھ روز سے اس کی حالت سخت خراب تھی اور اسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔

خیال رہے کہ چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے 1527 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ فلپائن، جاپان اور ہانگ کانگ میں بھی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، یہ پہلی بار ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے یورپ میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے۔

دوسری جانب مصر میں کرونا وائرس کا ایک مریض سامنے آیا ہے، جو براعظم افریقہ کا پہلا کیس ہے،اگر مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ متحدہ عرب امارات کے بعد دوسرا کیس ہے۔

مزید : اہم خبریں

Lala shares photo of younger daughter Shahid Afridi’s fifth daughter born

Lala shares photo of younger daughter Shahid Afridi's fifth daughter born

کراچی : نامور پاکستانی کرکٹر بوم بوم آفریدی کے ہاں پانچویں بیٹی کی پیدائش ہو گئی جس پر کرکٹر نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر شاہد آفریدی نے اپنی دیگر بیٹیوں کے ہمراہ نئے مہمان کی تصویر شیئر کی ۔تصویر میں دیکھا جا سکتاہے کہ شاہد آفریدی اپنی پانچویں بیٹی کو ہاتھ میں اٹھائے بے حد خوش دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ان کی دیگر بیٹیاں بھی خوشگوار موڈ میں ہیں ۔تصویر کے ساتھ شاہد آفریدی نے پیغام میں لکھا ”مجھ پر اللہ کی بے پناہ رحمتیں اور برکتیں ہیں ،میری پہلے ہی چار بہت خوبصورت بیٹیاں ہیں اور اب اللہ نے مجھے ایک اور بیٹی سے نوازا ہے،میں اپنے تمام خیر خواہوں کے ساتھ یہ خبر شیئر کر رہا ہوں“۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ خوشخبری اپنے چاہنے والوں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہد آفریدی کی شادی نادیہ شاہد سے سال 2000 میں ہوئی تھی۔

ان کی اس سے قبل چار بیٹیاں اقصیٰ، عنشہ، اجوا اور اسمارہ ہیں۔

ویسے تو شاہد آفریدی اپنی ذاتی زندگی یا فیملی کے حوالے سے زیادہ بات کرتے نظر نہیں آتے البتہ سوشل میڈیا پر ان کی فیملی کے ساتھ کئی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال شاہد آفریدی کی سوانح حیات ’گیم چینجر‘ بھی سامنے آئی تھی۔

اس کتاب کے ذریعے شاہد آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ ‘میں نے معاشرتی اور مذہبی وجوہات کے باعث یہ فیصلہ کیا کہ میری بیٹیاں عوامی سطح کے کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گی اور ان کی والدہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا’۔

اس بیان کے بعد کھلاڑی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے باوجود شاہد آفریدی نے ٹوئٹ پر لکھا تھا کہ وہ والد ہونے کی حیثیت سے اپنی بیٹیوں کے لیے فیصلے لے سکتے ہیں۔

مزید : اہم خبریں

Government decides to celebrate Surprise Day nationwide February 27

Government decides to celebrate Surprise Day nationwide February 27

اسلام آباد: پاکستان نے27 فروری کو بھارت کے لیے شرمندگی اور ندامت کا دن بنادیا۔

بھارتکو اپنی فضائی جارحیت انتہائی مہنگی پڑی تھی ،27فروری کو ناپاک عزائم لیکرپاک فضائی حدود میں داخل ہونے والے بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کوگرفتارکرکے بھارتکوپیغام دیاکہ پاک فضائیہ سمیتپاکستان کی پاک افواج ہرقسم کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے، اس دن کو یادگار بنانے کیلیے حکومت نے 27 فروری کو پہلا سرپرائز ڈے کے طورپرمنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس آپریشن کے ہیرو پائلٹ حسن صدیقی اورونگ کمانڈرنعمان علی خاں سمیت فضائیہ کوخراج تحسین پیش کیا جاسکے، مہمان نوازی کی تعریف ابھی نندن نے اپنے وڈیوبیان میں بھی کی اور پاکستان کی افواج کے پیشہ وارانہ اور انکساری رویے کوبھی سراہا جبکہ اپنے بھارتی میڈیا اورحکومت کو تنقیدکا نشانہ بھی بنایا تھا، اگلے دن پاکستانحکومت نے واہگہ باڈر پراپنی روایتی ثقافتی تہذیب کو برقرار رکھتے ہوئے گرفتار ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کرکے دنیاکوامن آشتی کا پیغام بھی دیدیا۔

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 27 فروری صبح فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والےدو بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا جن میں سے ایک مگ 21 لڑاکا طیارہ پاکستانکی حدود میں گرا اور اس میں سواربھارتی فضائیہ کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو زندہ مگر زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

پاک فوج کے جوانوں نے ابھی نندن کو مشتعل ہجوم سے بچا کر گرفتار کیا اور بعدازاں طبی امداد اور چائے پلانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے اعلان پر واہگہ کے راستے بھارت کے حوالے کر دیا ۔

اب پاک فضائیہ کے کراچی میں واقع میوزیم میں ایک گیلری بنائی گئی ہے جس کا نام ‘آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” رکھا گیا ہے۔  اس گیلری میں گرائے گئے بھارتی طیاروں کے پرزے ، ابھی نندن کا مجسمہ، اس کی وردی ، چائے کا کپ اور پاک فضائیہ کے دونوں ہیروز کی تصاویر سمیت اس آپریشن سے جڑی دیگر چیزیں رکھی گئی ہیں۔

مزید : اہم خبریں