Babar Azam Karachi Kings’ only hope

Babar Azam Karachi Kings' only hope

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو جتنا ٹیلنٹ کراچی اور لاہور سے ملتا ہے اتنا پورا ملک سے ملا کر بھی جمع نہیں ہو پاتا۔ روز اول سے بیٹنگ میں کراچی اور بولنگ میں لاہور نمایاں رہا۔

حنیف محمد سے لے کر ظہیر عباس اور جاوید میاں داد تک، ہر بڑے بلے باز کی نرسری ساحلی شہر کراچی رہا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں حکمرانی کراچی کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔

کراچی کنگز ٹیم تو کراچی کی ہے لیکن اس میں کراچی کا کوئی بلے باز شامل نہیں اور بولنگ میں بھی کوئی بڑا نام نظر نہیں آتا۔

ٹیم کے مالک سلمان اقبال پر ماضی میں اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے لیکن وہ ہمیشہ اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ صرف کراچی کی ٹیم ہے۔

وہ کنگز کو پورے پاکستان کی ٹیم قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ شہر کے کھلاڑیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث انھیں کراچی کی مکمل حمایت کبھی بھی نہیں مل سکی۔ کراچی میں آج بھی پشاور زلمی کا راج ہے۔

 کراچی کنگز کی امید :

ویسے تو کنگز میں کئی ٹی ٹوئنٹی سپیشلسٹ ہیں لیکن اس وقت دنیائے کرکٹ کے دمکتے ستارے بابر اعظم ہی ٹیم کی واحد امید ہیں۔

بیٹنگ میں ان کی موجودہ فارم اور رنز کی بھوک نے انھیں سب سے جدا رکھا ہوا ہے۔ ان کی بیٹنگ حملے اور دفاع کا حسین امتزاج ہے۔ وہ اچانک گیئر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر گیند پر رن لینے کے فن سے وہ ابتدا سے حریف کے لیے خطرناک بن جاتے ہیں۔

بیٹنگ کا بوجھ 

ایلکس ہیلز، شرجیل خان اور افتخار احمد کنگز کے تین اہم بلے باز ہوں گے۔ پابندی ہٹنے کے بعد پہلی دفعہ ایکشن میں دکھائی دینے والے شرجیل اپنے شاٹ سلیکشن کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہیں۔ اگر ان کا بیٹ چل رہا ہو اور قسمت کی دیوی مہربان ہو تو پھر یہ پاکستانی کرس گیل بن جاتے ہیں۔
تیز بیٹنگ کے لیے مشہور ایلکس ہیل کا بلا پچھلے کئی مہینوں سے خاموش ہے۔ افتخار بھی اچھی فارم میں ہیں وہ اور عماد وسیم آخری اوورز میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

 بولرز کا راج 

محمد عامر اور کرس جارڈن کی جوڑی کسی بھی اوپننگ پیئر کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہے۔ عامر ویسے بھی صرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کھیل رہے ہیں تو اپنی پوری طاقت سے بولنگ کریں گے۔

عامر یامین اور مکلیناگھن مڈل میں رنز روکنے کے لیے بولنگ کریں گے جبکہ عماد وسیم کی بولنگ فیصلہ کن ہوگی لیکن اصل ہتھیار لیفٹ آرم سپنر عمر خان ہوں گے جو ایمرجنگ پلیئر بھی ہیں۔ گذشتہ ایڈیشن میں متعدد بار وہ خطرناک بولنگ کرکے حریف ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کرچکے ہیں۔

کپتانی کا تاج 

کنگز نے گذشتہ سال کے کپتان عماد وسیم کو برقرار رکھا ہے۔ گذشتہ پی ایس ایل میں کراچی کنگز چوتھی پوزیشن پر رہی تھی حالانکہ اسے کئی بڑے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل تھیں لیکن ٹورنامنٹ میں اچھے آغاز کے باوجود ٹیم آخر میں مسلسل ہارتی رہی۔ اس سال ٹیم کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔
ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں میں وکٹ کیپر رضوان، سپنر بلال آصف، اسامہ میر علی خان اور ارشد اقبال شامل ہیں۔ ان میں فقط رضوان ہی ایسے ہیں جو تسلسل کے ساتھ کھیلیں گے، باقیوں کے ساتھ قسمت کھیلے گی۔
ٹیم کی کوچنگ آسٹریلین ڈین جونز کے ہاتھوں میں ہے جن کی ایک سرخ ڈائری مشہور ہے جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
اس ڈائری میں ہر کھلاڑی کا کٹھا چٹھا اور مستقبل کی منصوبہ بندی لکھی ہوتی ہے۔ وہ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ رہ چکے ہیں۔
سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم بولنگ استاد ہوں گے۔ یہ وسیم اکرم کی پی ایس ایل میں تیسری ٹیم ہے۔ اس سے قبل وہ اسلام آباد اور ملتان کے بولروں کو ٹپ دیتے نظر آئے تھے۔
ان سب کے ہوتے ہوئے کراچی اس سال مضبوط ٹیم نظر آتی ہے لیکن ہر جنگجو کی صلاحیتں صرف میدان میں کھلتی ہیں، اس لیے بڑے ناموں کی بڑی کارکردگی ہی کراچی کو وکٹری سٹینڈ پر پہنچا سکتی ہے۔
کراچی کی ٹیم گذشتہ سال غیر اخلاقی زبان اور اشاروں کی مرتکب پائی گئی تھی۔ لاہور قلندرز کے خلاف ایک میچ میں وسیم اکرم اور عماد وسیم پر لاہور قلندرز نے الزام لگایا تھا کہ انھوں نے میچ جیتنے کے بعد خواتین کی جانب اشارہ کرکے معنی خیز جملے کسے۔
اگر بابر اعظم اور بولرز اپنی سو فیصد کارکردگی دکھائیں تو اس مرتبہ کراچی کنگز کے ٹائٹل جیتنے کے امکانات 70 فیصد سے زائد لگتے ہیں۔
بہرحال کوئی کچھ کرے یا نہ کرے کراچی کنگز کا سارا درومدار بابر اعظم پر رہے گا۔
مزید : اہم خبریں

Lala shares photo of younger daughter Shahid Afridi’s fifth daughter born

Lala shares photo of younger daughter Shahid Afridi's fifth daughter born

کراچی : نامور پاکستانی کرکٹر بوم بوم آفریدی کے ہاں پانچویں بیٹی کی پیدائش ہو گئی جس پر کرکٹر نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر شاہد آفریدی نے اپنی دیگر بیٹیوں کے ہمراہ نئے مہمان کی تصویر شیئر کی ۔تصویر میں دیکھا جا سکتاہے کہ شاہد آفریدی اپنی پانچویں بیٹی کو ہاتھ میں اٹھائے بے حد خوش دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ان کی دیگر بیٹیاں بھی خوشگوار موڈ میں ہیں ۔تصویر کے ساتھ شاہد آفریدی نے پیغام میں لکھا ”مجھ پر اللہ کی بے پناہ رحمتیں اور برکتیں ہیں ،میری پہلے ہی چار بہت خوبصورت بیٹیاں ہیں اور اب اللہ نے مجھے ایک اور بیٹی سے نوازا ہے،میں اپنے تمام خیر خواہوں کے ساتھ یہ خبر شیئر کر رہا ہوں“۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ خوشخبری اپنے چاہنے والوں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہد آفریدی کی شادی نادیہ شاہد سے سال 2000 میں ہوئی تھی۔

ان کی اس سے قبل چار بیٹیاں اقصیٰ، عنشہ، اجوا اور اسمارہ ہیں۔

ویسے تو شاہد آفریدی اپنی ذاتی زندگی یا فیملی کے حوالے سے زیادہ بات کرتے نظر نہیں آتے البتہ سوشل میڈیا پر ان کی فیملی کے ساتھ کئی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال شاہد آفریدی کی سوانح حیات ’گیم چینجر‘ بھی سامنے آئی تھی۔

اس کتاب کے ذریعے شاہد آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ ‘میں نے معاشرتی اور مذہبی وجوہات کے باعث یہ فیصلہ کیا کہ میری بیٹیاں عوامی سطح کے کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گی اور ان کی والدہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا’۔

اس بیان کے بعد کھلاڑی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے باوجود شاہد آفریدی نے ٹوئٹ پر لکھا تھا کہ وہ والد ہونے کی حیثیت سے اپنی بیٹیوں کے لیے فیصلے لے سکتے ہیں۔

مزید : اہم خبریں

Government decides to celebrate Surprise Day nationwide February 27

Government decides to celebrate Surprise Day nationwide February 27

اسلام آباد: پاکستان نے27 فروری کو بھارت کے لیے شرمندگی اور ندامت کا دن بنادیا۔

بھارتکو اپنی فضائی جارحیت انتہائی مہنگی پڑی تھی ،27فروری کو ناپاک عزائم لیکرپاک فضائی حدود میں داخل ہونے والے بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کوگرفتارکرکے بھارتکوپیغام دیاکہ پاک فضائیہ سمیتپاکستان کی پاک افواج ہرقسم کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے، اس دن کو یادگار بنانے کیلیے حکومت نے 27 فروری کو پہلا سرپرائز ڈے کے طورپرمنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس آپریشن کے ہیرو پائلٹ حسن صدیقی اورونگ کمانڈرنعمان علی خاں سمیت فضائیہ کوخراج تحسین پیش کیا جاسکے، مہمان نوازی کی تعریف ابھی نندن نے اپنے وڈیوبیان میں بھی کی اور پاکستان کی افواج کے پیشہ وارانہ اور انکساری رویے کوبھی سراہا جبکہ اپنے بھارتی میڈیا اورحکومت کو تنقیدکا نشانہ بھی بنایا تھا، اگلے دن پاکستانحکومت نے واہگہ باڈر پراپنی روایتی ثقافتی تہذیب کو برقرار رکھتے ہوئے گرفتار ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کرکے دنیاکوامن آشتی کا پیغام بھی دیدیا۔

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 27 فروری صبح فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والےدو بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا جن میں سے ایک مگ 21 لڑاکا طیارہ پاکستانکی حدود میں گرا اور اس میں سواربھارتی فضائیہ کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو زندہ مگر زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

پاک فوج کے جوانوں نے ابھی نندن کو مشتعل ہجوم سے بچا کر گرفتار کیا اور بعدازاں طبی امداد اور چائے پلانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے اعلان پر واہگہ کے راستے بھارت کے حوالے کر دیا ۔

اب پاک فضائیہ کے کراچی میں واقع میوزیم میں ایک گیلری بنائی گئی ہے جس کا نام ‘آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” رکھا گیا ہے۔  اس گیلری میں گرائے گئے بھارتی طیاروں کے پرزے ، ابھی نندن کا مجسمہ، اس کی وردی ، چائے کا کپ اور پاک فضائیہ کے دونوں ہیروز کی تصاویر سمیت اس آپریشن سے جڑی دیگر چیزیں رکھی گئی ہیں۔

مزید : اہم خبریں

Fans are anxious to see the battle of Kings and Qalandars

Fans are anxious to see the battle of Kings and Qalandars

لاہور:  پی ایس ایل میں شائقین کراچی کنگز اور لاہور قلندرزکی جنگ دیکھنے کیلیے بے چین ہیں۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کا شمار روایتی حریفوں میں ہوتا ہے، ملک کے 2 بڑے شہر قومی کرکٹ کی 2 بڑی نرسریاں بھی ہیں، یہاں سے اُبھرنے والے عمران خان، جاوید میانداد، ماجد خان، ظہیر عباس، سعید انور، عبدالقادر، وسیم اکرم، یونس خان، شاہد آفریدی، معین خان اور راشد لطیف نے میدانوں پر راج کیا۔

موجودہ ستاروں بابراعظم، سرفرازاحمد، وہاب ریاض، شان مسعود، اظہر علی اور امام الحق کا تعلق بھی انہی دونوں شہروں سے ہے، مگر یہاں کی ٹیمیں گذشتہ 4 سیزنز میں کبھی فائنل میں رسائی حاصل نہیں کرسکیں۔

لاہور قلندرز تو پلے آف مرحلے کا حصہ بھی نہیں بن پائی، رواں سال کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کا پہلا ٹاکرا اتوار8 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم اور دوسرا 12 تاریخ کو نیشنل اسٹیڈیم میں ہوگا، باہمی 8میچز میں سے 5 میں کراچی کنگز اور 2 میں لاہور قلندرز نے کامیابی حاصل کی، ایک میچ برابر ہونے پر لاہور قلندرز نے سپر اوور میں فتح پائی۔

اس بار عماد وسیم کی زیر قیادت کراچی کنگز کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں دنیا کے نمبر ون بیٹسمین بابراعظم، جارح مزاج ایلکس ہیلز اور کیمرون ڈیلپورٹ کے ساتھ شرجیل خان کی خدمات حاصل ہیں، محمد عامر، عمید آصف، کرس جارڈن، مچل میکلنگن، عماد وسیم اور عمر خان جیسے بولرز کا ساتھ بھی ٹیم کومیسر ہوگا، سہیل اختر کی قیادت میں لاہور قلندرز کے بیٹسمین کرس لین، فخر زمان، محمد حفیظ، بین ڈنک اورسلمان بٹ بڑا اسکور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور عثمان شنواری پر مشتمل لاہور قلندرز کا بولنگ اٹیک بھی بڑا جاندار ہے، دونوں ٹیموں میں سخت مقابلوں کی توقع ظاہر کر دی گئی ہے۔

مزید : اہم خبریں

PM directs Sindh to control flour prices in Karachi

PM directs Sindh to control flour prices in Karachi

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی ہے کہ کراچی سمیت صوبے میں آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

 وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے جائزے، پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا سمیت چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز نے شرکت کی۔

صوبائی چیف سیکرٹریز نے وزیرِ اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب، خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت میں مجموعی طور پر آٹے، چینی، چاول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا اور بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ صوبہ سندھ میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی کہ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے۔

وزیرِ اعظم نے تمام صوبائی سیکرٹریز سے بنیادی اشیائے ضروریہ دودھ، گھی، تیل، پینے کے پانی، گوشت، مصالحوں، دالوں اور دیگر اشیاء میں ملاوٹ کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ وزیرِ اعظم نے اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کرنے والے عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں کی صحت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، دودھ، گوشت، دالوں جیسی روزمرہ کی اشیا میں ملاوٹ کسی صورت قابل قبول نہیں، ملاوٹ کے خلاف قومی سطح پر ایمرجنسی کانفاذ کرکے اس کا تدارک کیا جائے، ملاوٹ کے خاتمے  کے لئے ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔

  نے چاروں چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں ملاوٹ کے خلاف موثر حکمت عملی اور ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ ترتیب دیا جائے جسکا آئندہ ہفتے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔

وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ چیک کرنے کے لئے لیبارٹری غیر فعال ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فعالی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جائے۔

مزید : اہم خبریں

Islamabad High Court bans violence on children in schools

Islamabad High Court bans violence on children in schools

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سکولوں میں بچوں پر تشددپر پابندی عائد کردی اوروفاقی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد فوری روکنے کا حکم دیدیا

 اسلام آبادہائیکورٹ میں بچوں پر تشدداورجسمانی سزاپرپابندی کیلئے معروف گلوکار شہزادرائے کی درخواست پر سماعت ہوئی،معروف گلوکارشہزاد رائے عدالت میں پیش ہوئے،درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے سکولوں پر بچوں پر تشدد پر پابندی عائد کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا،درخواست میں سیکرٹری داخلہ ،قانون تعلیم ا ورانسانی حقوق کو فریق بنایا گیا ہے،آئی جی پولیس اسلام آبادکو بھی درخواست میں فریق بنایاگیا ہے ۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ وزارت داخلہ بچوں پر تشددکی روک تھام کے اقدامات کرے،وزارت داخلہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت بچوں پر تشددکے روک تھام کیلئے اقدامات کرے،عدالت نے کیس کی سماعت5مارچ تک ملتوی کردی گئی ۔
ضرور پڑھیں
اسلام آباد: سینئر صحافی حامد میر نے ٹوئٹر پر ایک آڈیو /ویڈیو میسج ری ٹویٹ کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا جیل سے فرار کے بعد آڈیو پیغام ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے 2017 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے سرینڈر کیا تھا

What conditions did the Chaudhry Brothers accept from the government?

What conditions did the Chaudhry Brothers accept from the government?

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے اتحادی جماعت مسلم لیگ ق سے مذاکرات کرکے انہیں حکومت کے ساتھ چلنے پر رضا مند کرلیا ہے۔

حکومتی ٹیم میں شامل وفاقی وزرا پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر جاکر ان سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات سنے۔

حکومتی ٹیم سے ملاقات میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ، وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہی، رہنما مسلم لیگ ق رافع چوہدری اور رکن اسمبلی کامل علی آغا بھی شریک ہوئے۔

مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم نے ق لیگی قیادت کو تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور ان کے مسائل حل کرنے کا ٹاسک وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو سونپا گیا ہے۔

حکومتی ٹیم کی جانب سے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر ق لیگ نے رنجشیں بھلا کر ایک ساتھ چلنے کا عندیہ دے دیا۔

اختلافات کے خاتمے کا اعلان

مذاکرات کے بعد مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ اور پرویز خٹک نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں ایک ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا مگر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیے بغیر ہی چلے گئے۔

وفاقی وزیر پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں جو دور کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعظم بھی اتحادی جماعتوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اتحاد پورے پانچ سال چلتا رہے گا۔

دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ان کے تحفظات دور ہوچکے ہیں اور گلے شکووں کے بعد ہم ایک بار پھر پہلے کی طرح ساتھ مل کر کام کریں گے تاہم جہاں ضرورت محسوس کریں گے خرابیوں کی نشاندہی بھی کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں مہنگائی پر قابو پانے اور عوامی مسائل حل کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

پرویز الہیٰ کا نئے معاملات کی طرف اشارہ

حکومتی کمیٹی کے روانہ ہونے کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں اس ملاقات میں بعض نئے معاملات کا علم ہوا ہے اور اس بارے میں جو طے کیا گیا ہے وہ جلد عوام کے سامنے لائیں گے، اس میں بڑی خبریں ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن کی امانت ان کے پاس محفوظ ہے اور وہ وقت آنے پر واپس کریں گے۔‘

حکومت اور اتحادی جماعت میں کیا شرائط طے ہوئیں؟

مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق ‎حکومتی کمیٹی سے مذاکرات میں اتحادی جماعت کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے، جس کے مطابق ق لیگی اراکین کے حلقوں میں خصوصی فنڈز کا فوری اجرا ہوگا تاہم اس بارے میں ایک ملاقات اسلام آباد میں بھی ہوگی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ طے شدہ فارمولے کے تحت پنجاب کے متعلقہ اضلاع میں سرکاری افسران کی تقرری ق لیگی قیادت کی مشاورت سے ہوگی جبکہ جن افسران پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، ان کو ہٹانے کے لیے حکومت مسلم لیگ ق سے مشاورت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق ایک شرط یہ بھی ہے کہ اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزرا کو اپنے متعلقہ اداروں میں ردوبدل سے متعلق مکمل اختیار حاصل ہوگا، تاہم پنجاب کی بیوروکریسی میں ردوبدل اور اضلاع میں ترقیاتی کاموں سے متعلق بھی ق لیگ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق مسلم لیگ ق وفاق میں دو وزارتوں کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور چوہدری پرویز الہیٰ کے مطابق ق لیگ اب مونس الہیٰ کے لیے وفاقی وزارت نہیں لینا چاہتی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں منظور کیے گئے مسلم لیگ ق کے مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وفاق میں پرویز خٹک اور اسد عمر نگرانی کریں گے۔

مزید : اہم خبریں

News of Prime Minister’s salary increase: ‘I will not apologize’

News of Prime Minister's salary increase: 'I will not apologize'

وزیراعظم عمران خان کی تنخواہ میں اضافے کی خبر چلانے پر پیمرا کی جانب سے نجی ٹی وی چینل نیو کو دس لاکھ روپے جرمانے اور پروگرام کی میزبان بینش سلیم کو بھی معافی مانگنے اور خبر کی تردید کرنے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جمعہ کو نیو ٹی وی کی انتظامیہ کو دس لاکھ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا کیونکہ پیمرا کے مطابق نیو ٹی وی نے وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافے کی غلط خبر چلائی۔

وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافے کے حوالے سے خبر کو نیو ٹی وی کے پروگرام ’سیدھی بات‘ کی میزبان بینش سلیم نے زیر بحث لیا تھا۔

بینش سلیم نے بتایا کہ جب انہوں نے اس خبر کے حوالے سے اپنے پروگرام میں بات شروع کی تو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے رکن اور ممبر قومی اسمبلی ناصر موسیٰ زئی بھی بیٹھے تھے اور انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑھ رہی ہے تنخواہ تو ضرور بڑھنی چاہیے اور میں نے پورا پروگرام اسی ایشو پر کیا جس کے بعد پیمرا نے مجھے ایک نوٹس بھیجا کہ میں نے اپنے پروگرام میں یہ بات کی ہے اور پیمرا مجھ سے تردید اور معافی کا مطالبہ کرتی ہے۔

بینش کا کہنا تھا کہ ’مجھے صحافت میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے اور خبریں دینا ہمارا کام ہے کبھی خبر باؤنس ہو جاتی ہے اور کبھی کسی کو پسند نہیں آتی، اگر خبر کسی کو پسند نہیں آئی تو کیا صحافی اس پر معافی مانگیں؟‘

’میں معافی نہیں مانگوں گی البتہ میں نے اگلے دن اس کی تردید دی اور اس دن قومی اسمبلی میں پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں میں اضافے کی بحث اسمبلی کے ایجنڈے کا حصہ تھی اور اس دن کسی عوامی مسئلہ پر بات نہیں ہوئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے اس دن اپنے شو میں کہا کہ آج اسمبلی میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں اضافے کی بات ہوئی اور کیونکہ میں نے اپنے پروگرام میں اس سے ملتی جلتی خبر پر بات کی تھی کہ وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس پر  فردوس عاشق عوان  نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور مجھے ایک نوٹس آیا ہے اور ان کو اس خبر کی تردید چاہیے اور میری معافی چاہیے۔

’میں نے کہا کہ وہ بڑی ہیں اور حکومت کی نمائندگی کر رہی ہیں اور اگر ان کو لگتا ہے کہ میرے شو سے کسی کی دل آزاری ہوئی یا ان کو لگا کہ حکومتی بینچوں میں ہل چل مچ گئی ہے تو میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں اور یہ نیو ٹی وی کی ایکسکلوسیو خبر تھی تو میں اس خبر کو واپس لیتی ہوں۔‘

نیو ٹی وی کی انتظامیہ نے اس حوالے سے بتایا کہ خبر ذرائع سے حاصل ہوئی مگر ویسا نہیں ہوا اب وہ کس وجہ سے نہیں ہوا کوئی پریشر تھا یا کوئی اور وجہ، مگر خبر تو تھی۔

’ہم پیمرا کی جانب سے بھیجے گئے جرمانے کے نوٹس پر قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ہم نے اس خبر کی تردید اگلے ہی روز دی تھی اور ہمیں جو شوکاز نوٹس ملا اس کا جواب بھی پیمرا میں جمع کروایا۔‘

نیو ٹی وی کی انتظامیہ پیمرا نے اسے مسترد کر دیا ہے اور ’ہمیں دس لاکھ روپے کے جرمانے کا نوٹس بھیج دیا۔ ہم ہر متعلقہ فورم پر اسے چیلنج کریں گے۔ جس خبر کا ذکر پیمرا کر رہی ہے وہ سبھی ٹی وی چینلز پر چلی اور اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔‘

مزید : اہم خبریں

The PML-N completed the BRT project in a record time: Shehbaz Sharif

The PML-N completed the BRT project in a record time: Shehbaz Sharif

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نا مکمل پشاور میٹرو کی لاگت تقریباً لاہور، اسلام آباد راول پنڈی اور ملتان بی آر ٹیز کی مجموعی لاگت کے برابر ہے، مسلم لیگ ن نے بی آر ٹی منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کیے گئے۔

شہباز شریف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ 27 کلو میٹر پر محیط لاہور بی آر ٹی پر 29.65 ارب لاگت آئی، جبکہ 27.6 کلو میٹر کا پشاور بی آر ٹی منصوبہ 90 ارب روپے سے زائد کا ہے اور کرپشن انکوائری سے بچنے کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے عدالتوں سے حکم امتناع لینے پر حیرانی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے بی آر ٹی منصوبوں کو ’جنگلہ‘ بس کہہ کر مذاق اڑایا گیا، تینوں بی آر ٹی منصوبوں پر کرپشن کے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات بھی لگائے گئے، جبکہ یہ منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کیے گئے۔

مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے شہریوں بالخصوص خواتین اور مزدوروں کو محفوظ سفری سہولیات میسر آئیں۔

:مزید پڑھیے

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے اکاؤنٹ سے چوہدری شوگر ملز کو پیسے بھجوائے جاتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران شہزاد اکبر نے صحافیوں کو بتایا کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹھیکے سے 56 کروڑ چوہدری شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے۔

صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ ’یہ خبر آپ کے لیے سرخی ہے۔‘

مزید : اہم خبریں

‘When the boat sinks PTI and Q-League will sink together’

'When the boat sinks PTI and Q-League will sink together'

پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ق کے صوبائی وزیر باؤرضوان نے گِلہ کیا ہے کہ اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ق لیگ کے ووٹوں پر ٹکی ہے تاہم ’ہمیں معاہدے کے باوجود وہ اہمیت نہیں دی جارہی جس کے ہم  مستحق ہیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر گذشتہ عام انتخابات میں ق لیگ اپنے امیدوار کھڑے کر دیتی تو پی ٹی آئی کے وہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی جو پانچ ہزار یا اس سے کم ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے وہ ناکام ہوسکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’چوہدری برادارن نے اپنی پارٹی کے امیدواوں کو  ناراض کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی۔ جن نشتوں پر ق لیگ نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ان پر سو فیصد ہمارے امیدوارکامیاب ہوئے۔‘

انھوں نے کہا کہ پنجاب میں بیشتر فیصلوں پر ق لیگ کو بطور اتحادی اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ ’پی ٹی آئی سے معاہدے کے تحت ق لیگ کو وفاق میں دو وزارتیں ملنا تھی لیکن ایک دی گئی جبکہ پنجاب میں جو دو وزارتیں ملیں وہ بھی بڑی مشکل سے ملیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنے مسائل اور عدم اعتماد کے باوجود وہ حکومت کا حصہ کیوں ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا: ’ہم نے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کو کئی بار اپنی  مشکلات اورمسائل سے آگاہ کیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم معاہدے کی پاسدار ہیں، لیکن ہم نے حکومت کو یہ شکایات پہنچا دی ہیں۔‘

باؤ رضوان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بحرانوں اور مشکلات سے بچنے کے لیے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ’ہماری بہتر تجاویز کو تنقید سمجھا جاتا ہے حالانکہ ق لیگ حکومت کی کامیابی کے لیے مشورے دیتی ہے۔‘

انھوں نے صوبے میں وزیر اعلیٰ عثمان بزادر کی ممکنہ تبدیلی پر ق لیگ اور ن لیگ میں کسی اتفاق کے سوال پر کہا: ’چوہدری برادران کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ن لیگی قیادت کے ہاتھوں بہت دفعہ ڈسے گئے ہیں، قرآن پر ہونے والے وعدے بھی پورے نہیں کیے جاتے، اس لیے اب ن لیگ سے اتحاد مشکل ہے اور اس کا کوئی امکان نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’پی ٹی آئی کا جو بھی رویہ ہو، ہم کابینہ یا اسمبلی کی حد تک اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہیں گے لیکن قیادت کے حکم  پرمعاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔‘

مزید : اہم خبریں