The crazy girl in love with the boy got emotional and climbed on the billboard

the-crazy-girl-in-love-with-the-boy-got-emotional-and-climbed-on-the-billboard

نئی دہلی بھارت میںلڑکے کے عشق میں مبتلا لڑکی جذبات کے ہاتھوں ایسی مغلوب ہوئی کہ بل بورڈ پر چڑھ گئی۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست مدھیاپردیش کے شہر اندور میں پیش آیا ہے۔ یہ لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ محبت کرتی تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی تاہم لڑکی کی والدہ اس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کی مخالفت کر رہی تھی۔

Shahbaz Sharif family money laundering case, indicted

ماں کی اس مخالفت پر لڑکی گزشتہ روز احتجاجاً بل بورڈ پر چڑھ گئی۔ لڑکی کو بل بورڈ پر چڑھ کر بیٹھے دیکھ کر لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کو بھی اطلاع کر دی گئی۔ تاہم لڑکی پولیس سمیت کسی کے بھی کہنے پر بل بورڈ سے نیچے نہ اتری۔ بالآخر جس لڑکے سے وہ محبت کرتی تھی، اسی کو بلایا گیا اور اس کے کہنے پر وہ نیچے اتر آئی۔

News:مزید

Corona has become a vaccine but it is impossible for it to come to Pakistan.

لندن  برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا ویکسین کو منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھنا ہوگا اس لیے بہت سے ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکہ کے ممالک تک یہ ویکسین نہیں پہنچ پائے گی۔

Govt Jobs Nov 2020 | Pakistan Railways Jobs 2020

روئٹرز کے مطابق ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فائزر اور بائیون ٹیک کی بنائی ہوئی ویکسین اگر منظور ہو بھی گئی تو کوئی ایسا جادو نہیں کرسکے گی کہ کورونا کو صفحہ ہستی سے مٹادے کیونکہ اس ویکسین کو منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کرنا ہوگا جو بہت سے ممالک کیلئے ناممکن ہے۔

How many deaths have been reported from Corona worldwide so far? Details come out

انڈیپنڈنٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے کم درجہ حرارت پر پولیو ویکسین کو محفوظ کیا جاتا ہے اور یہ منفی 2 سے منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بہت سے ممالک کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کورونا کی ویکسین کیلئے منفی 70 ڈگری درجہ حرارت مہیا نہیں ہوسکے گا۔

News:مزید

How many deaths have been reported from Corona worldwide so far? Details come out

Global pandemic corona virus، کورونا وائرس۔،COVID-19

نیویارک عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں 4 کروڑ 90 لاکھ 93 ہزار 659 افراد متاثر اور 12 لاکھ 40 ہزار 683 اموات ہو چکی ہیں۔کورونا سے صحتیاب افراد کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ 26 ہزار 249 ہو گئی ہے۔ اور ایک کروڑ 28 لاکھ 26 ہزار 727 ایکٹیو کیسز ہیں۔

عالمی وبا کورونا وائرس

تفصیلات کے مطابق امریکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں اموات کی تعداد 2 لاکھ 41 ہزار سے زائد اور متاثرہ افراد کی تعداد 99 لاکھ 26 ہزار 637 تک پہنچ چکی ہے۔بھارت کورونا کیسز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔جہاں اموات کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار 29 اور 84 لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

Zalmi Foundation contributes Rs10m to PM’s Corona Relief Fund

برازیل میں کورونا

برازیل میں کورونا سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 61 ہزار 779 اور 56 لاکھ 14ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔روس میں 17 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں ۔اور اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 887 تک پہنچ چکی ہے۔فرانس میں 16 لاکھ1 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 38 ہزار 37جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسپین میں 13 لاکھ 65ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں جبکہ 38 ہزار486 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ارجنٹائن میں بھی 12 لاکھ 17ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں ۔اور 32 ہزار766 سے اموات ہوئی ہیں۔ کولمبیا میں 32 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ 11 لاکھ 17ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

دنیا میں کورونا سے پہلی ہلاکت 11 جنوری2020 میں چین میں رپورٹ ہوئی۔ 9 اپریل کو کورونا سے مجموعی اموات کی تعداد ایک لاکھ ہوگئی تھی۔ کورونا سے پہلی ایک لاکھ اموات ابتدائی 89 روز میں رپورٹ ہوئیں۔رواں سال 24 اپریل کو کورونا سے اموات کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اورایک سے2 لاکھ اموات کیلئے صرف 15دن کا وقت لگا۔ 13مئی تک دنیا بھر میں 3 لاکھ اموات رجسٹرڈ ہوئیں۔ اور 2سے3لاکھ اموات تک پہنچنے میں 19دن لگے۔

Another clash between Pakistan and India came from the game’s ground

خیال رہے پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر بھی شروع ہوچکی ہے۔ جس کے پیش نظر حکومت کی جانب سے شہریوں کو گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک اور دیگر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Attack with rockets near US Embassy

Attack with rockets near US Embassy

بغداد:عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹوں سے حملہ ہوا ہے جبکہ کئی راکٹ سفارتی کمپاونڈ میں امریکی سفارتخانے کے قریب گرے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغداد میں علیٰ الصبح سفاری زون میں راکٹ حملے کئے گئے ہیں جن میں سے کچھ راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب آگرے تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیاراکٹوں کا ٹارگٹ واقعی امریکی سفارتخانہ تھا یا کچھ اور۔

 تاحال کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔اے ایف پی کے مطابق اس کے نمائندے نے انتہائی سکیورٹی والے اس گرین زون میں متعدددھماکوں کی آواز سنی ہے۔اکتوبر دوہزار انیس سے اب تک یہ امریکی سفارتخانے پر یا اس کے قریب کیاگیاانیسواں حملہ ہے۔عراق میں امریکا کے پانچ ہزار دو سو فوجی موجود ہیں جن کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ وہاں صرف معاونت فراہم کرنے کیلئے موجودہیں۔

اس سے قبل آخری راکٹ حملہ دسمبر2019میں ہوا تھا جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلا ک ہوگیا تھا۔

ضرور پڑھیں: کرونا وائرس یورپ بھی پہنچ گیا، پہلا مریض ہلاک ، یہ کون سا ملک ہے؟

پیرس : کرونا وائرس نے ایشیا کے بعد اب یورپی ممالک کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے جہاں اس کی وجہ سے ہونے والی پہلی موت رجسٹرڈ ہوئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کی ہلاکت فرانس میں ہوئی ہے ، ایشیا سے باہر کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔ فرانس میں اب تک کرونا وائرس کے 11 کیسز سامنے آئے ہیں۔

فرانس کی وزارت صحت کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 80 سال تھی اور وہ چین سے سیاحت کیلئے فرانس آیا تھا جہاں 25 جنوری کو اس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ۔ اس وائرس کی وجہ سے گزشتہ کچھ روز سے اس کی حالت سخت خراب تھی اور اسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔

خیال رہے کہ چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے 1527 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ فلپائن، جاپان اور ہانگ کانگ میں بھی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، یہ پہلی بار ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے یورپ میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے۔

دوسری جانب مصر میں کرونا وائرس کا ایک مریض سامنے آیا ہے، جو براعظم افریقہ کا پہلا کیس ہے،اگر مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ متحدہ عرب امارات کے بعد دوسرا کیس ہے۔

مزید : اہم خبریں

Islamabad: Police arrest suspected suspects with fake travel documents

Islamabad: Police arrest suspected suspects with fake travel documents

ملائیشیا سے اسلام آباد پہنچنے والے شمشیر علی کے پاس جعلی ویزہ تھا۔. مسافر سوات کا رہائشی ہے اور پی کے895 سے اسلام آباد پہنچا تھا۔ دوران امیگریشن مسافر کا ویزہ جعلی نکلا تو ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق سیالکوٹ کا رہائشی کامران علی چین سے اسلام آباد پہنچا. تو اس نے امیگریشن حکام کے سامنے جنوبی کوریا کا ایمرجنسی پاسپورٹ پیش کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ یمیگریشن حکام نے شک ہونے کی بنیاد پر جب اس کی تلاشی لی تو اس کے قبضے سے تنزانیہ کا جاری کردہ پاسپورٹ بھی برآمد ہوا۔

ابتدائی تفتیش میں امیگریشن حکام کے سامنے یہ بات آئی ہے. کہ ملزم کامران علی نے 16 لاکھ روپے کے عوض کوریا اور تنزانیہ کی جعلی سفری دستاویزات حاصل کی تھیں۔ایف آئی اے نے ابتدائی پوچھ گوچھ کے بعد ملزمان شمشیر علی اور کامران علی کو انسداد انسانی سمگلنگ سیل منتقل کردیا ہے. جہاں ان سے مزید تفتیش و تحقیق کی جارہی ہے۔

:مزید

.شیخوپورہ میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران 3 ڈاکو ہلاک ہوگئے

شیخوپورہ میں چٹی کوٹھی روڈ پر مبینہ پولیس مقابلہ ہوا. جس کے نتیجے میں تین ڈاکو مارے گئے. جبکہ مقابلے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے. کہ ڈاکو شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے. کہ اس دوران پولیس آن پہنچی اور مقابلے کا آغاز ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرا میں لے لیا ہے۔

پولیس نے ہلاک ڈاکوؤں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیں۔ فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے۔

مزید : اہم خبریں

Finance Minister Sajid Javed resigns in cabinet reshuffle

Finance Minister Sajid Javed resigns in cabinet reshuffle

لندن برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کابینہ میں ردو بدل کا آغاز کردیا ہے جب کہ وزیر خزانہ ساجد جاوید نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انتخابات میں کامیابی کے بعد برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بڑے پیمانے پر کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ ان کی کابینہ میں شامل وزیر خزانہ ساجد جاوید نے اپنے مشیروں کو برطرف کرنے کے احکامات مسترد کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

اطلاعات کے مطابق ان کی جگہ خزانہ کے چیف سیکریٹری اور سات ماہ قبل ہی ہاؤسنگ کے جونیئر وزیر بننے والے رشی اسناک وزارت خزانہ کی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ساجد جاوید نے وزارتی امور میں مداخلت کی وجہ سے استعفی دیا اور کہا ہے کہ ’’عزتِ نفس رکھنے والا کوئی وزیر‘‘ ان حالات میں کام نہیں کرسکتا جب کہ انہیں دو ہفتے بعد آئندہ سال کا بجٹ پیش کرنا تھا۔

کنزرویٹو پارٹی کی حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ میں صنفی اعتبار سے توازن پیدا کرنے کے لیے اہم تبدیلیاں متوقع تھیں، تاہم وزیر تعلیم کرس اسکڈموراور پاکستانی نژاد وزیر ٹرانسپورٹ نصرت غنی کے علاوہ کابینہ میں شامل نمایاں خواتین وزرا کو بھی  برطرف کردیا گیا ہے۔

مزید 

احمدآباد: بھارتی حکومت کی کوشش ہے کہ اس ماہ امریکی صدر ٹرمپ کے دورے پر ان کی نظر بھارتی کی غربت اور کچی آبادی پر نہ پڑجائے اسی لیے شہر احمد آباد کی صفائی کی جارہی ہے اور کچی آبادی کے سامنے ایک طویل دیوار تعمیر کی جارہی ہے تاکہ صدر ٹرمپ کی نظر اس پر نہ پڑسکے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جب حکومتی افسران سے دیوار کے بارے میں پوچھا گیا تو حکام نے کہا کہ اس کی سیکیورٹی وجوہ ہیں ناکہ آبادی کو اوجھل رکھنے کے لیے دیوار اٹھائی جارہی ہے لیکن ٹھیکے دار نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ حکومتی چاہتی کہ جب صدر ٹرمپ یہاں سے گزریں تو ’’جھونپڑ پٹی‘‘ کسی کو نہ دکھائی دے۔

مزید : اہم خبریں

Hajj becomes more expensive

Hajj becomes more expensive

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2020 کی منظوری دے دی جس کے تحت حج کے زیادہ سے زیادہ اخراجات چار لاکھ 90 ہزار جبکہ کم سے کم چار لاکھ 80 ہزار مقرر کیے گئے ہیں، جو گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریب 54 ہزار روپے زائد ہیں۔

کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ان کی وزارت نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ حج کے اخراجات کو کم سے کم کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ اس بار حج کے اخراجات ناقابل برداشت حد تک بلند کیے جا رہے ہیں تاہم ہم نے اس کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

نور الحق قادری کے مطابق ملک کے شمالی ریجن سے سعودی عرب جانے والوں کے لیے حج کے سرکاری نرخ چار لاکھ 90 ہزار روپے ہوں گے، جس میں اسلام آباد، پشاور، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور رحیم یار خان شامل ہیں، جب کہ جنوب کے علاقوں کے لیے یہ اخراجات چار لاکھ 80 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں، جس میں کوئٹہ، کراچی اور سکھر شامل ہیں۔

گذشتہ برس شمالی ریجن کے لیے حج پیکج چار لاکھ 36 ہزار 975 روپے جبکہ جنوبی ریجن کے لیے یہ کوٹہ چار لاکھ 26 ہزار 975 روپے تھا جبکہ حج پالیسی 2018 کے تحت شمالی ریجن سے جانے والے عازمین حج نے دو لاکھ 80 ہزار روپے اور جنوبی ریجن سے تعلق رکھنے والے عازمین نے دو لاکھ 70 ہزار روپے جمع کرائے تھے۔

وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ’حج اخراجات میں جو اضافہ ہوا ہے وہ پی آئی اے اور سعودی ایئر لائن کے کرایوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ سعودی عرب میں منیٰ میں مزید اقدامات اور سہولیات اپ گریڈ کرنے کے لیے 300 ریال اور 210 ریال ہیلتھ انشورنس بھی عائد کی گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ایک لاکھ 79 ہزار 210 کا حج کوٹہ ملا ہے اور ممکن ہے کہ اس میں اضافہ بھی ہو جائے۔

نور الحق قادری نے مزید بتایا کہ 60 فیصد حجاج سرکاری سکیم جب کہ 40 فیصد پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج کا فریضہ انجام دیں گے اور پرائیویٹ کوٹہ سکیم کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ذاتی کوششوں اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کے بعد پاکستان کو ’روڈ ٹو مکہ‘ سکیم میں شامل کیا گیا ہے جس سے 70 سے 80 ہزار پاکستانیوں کو فائدہ ہو گا۔ ’کوشش کی جا رہی ہے کہ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں کو بھی ’روڈ ٹو مکہ‘ سکیم سے جوڑا جائے جس سے حجاج کو امیگریشن اور سامان کی اپنی رہائش گاہوں پر دستیابی ممکن ہو سکے گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس بار پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں عارضی حج کیمپ قائم کیا جا رہا ہے اور کوئٹہ سے بھی براہ راست پروازیں مکہ اور مدینہ کے لیے روانہ کی جائیں گی جب کہ دور دراز کے علاقوں کے لیے بھی بائیو میٹرک کا نظام بنایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حج پالیسی تاخیر سے پیش کی گئی تاہم اس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایت پر اس کو بہتر سے بہتر بنانا تھا۔ ’نئی حج پالیسی کے تحت 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو قرعہ اندازی کے بغیر حج کی اجازت دی گئی ہے۔‘

نور الحق قادری کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزارت مذہبی امور اور وزارت مالیات کو ملائیشیا کے حج ماڈل کو پاکستان میں متعارف کرانے کی ہدایات بھی دی ہیں۔

مزید : اہم خبریں

One day’s work salary is 93 thousand euros

One day's work salary is 93 thousand euros

جرمنی کے مشرق میں واقع وفاقی صوبے تھیورنگیا کے وزیر اعلی کو ایک دن کیلئے عہدے پر رہنے کے بدلے ایک لاکھ دو ہزار امریکی ڈالر کا معاوضہ ملا

برلن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 08 فروری2020ء) جرمنی کے مشرق میں واقع وفاقی صوبے تھیورنگیا میں5 فروری کو ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی کے صوبائی سربراہ ٹوماس کًیمیرِش کو نیا ریاستی وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا۔ ان کا انتخاب جرمنی کی داخلی سیاست میں ایک بحران کی وجہ بنا اور اس سیاسی زلزلے کے شدید جھٹکے ملکی دارالحکومت برلن تک محسوس کیے گئے تھے۔ناقدین کا ایک فیصلہ کن اعتراض یہ تھا کہ ترقی پسندوں کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کًیمیرِش نے وزیر اعلیٰ بننے، یعنی اپنے اقتدار میں آنے کے لیے ایک ایسی جماعت کی ارکان کی حمایت پر انحصار کیا، جس کی سیاست کے خلاف تقریباً تمام بڑی جرمن سیاسی جماعتیں جدوجہد کر رہی ہیں۔یہ بات اتنی پھیل گئی تھی اور کًیمیرِش کے تھیورنگیا کے سربراہ حکومت کے طور پر اس طرح انتخاب کی اتنی شدید مذمت کی جا رہی تھی کہ بدھ پانچ فروری کو ہی چانسلر میرکل نے بھی یہ مطالبہ کر دیا تھا کہ اس الیکشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

پھر نتیجہ یہ نکلا کہ تھیورنگیا کے نئے وزیر اعلیٰ بہت زیادہ سیاسی اور اخلاقی دباؤ کا سامنا نہ کر سکے اور اپنے انتخاب کے صرف ایک روز بعد جمعرات چھ فروری کی شام وہ اپنے عہدے سے مستعفی بھی ہو گئے۔ اس طرح ان کا انتخاب اور پھر استعفیٰ اس حوالے سے بھی جرمنی میں ایک تاریخی واقعہ ثابت ہوا کہ وہ صرف تقریباً 24 گھنٹے تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے تھے۔معاوضہ ترانوے ہزار یورو ملے، جو ایک لاکھ دو ہزار امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔

مزید : اہم خبریں

Not only Corona is also fighting conspiracy theories: Institutional Health

Not only Corona is also fighting conspiracy theories: Institutional Health

چین میں کرونا وائرس سے ہونے والے ہلاکتوں کی تعداد سال 2002-2003 کے دوران سارس وائرس سے ہونے والے ہلاکتوں سے بڑھ گئی ہے۔ اتوار کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق چین میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 800 سے بڑھ گئی ہے جب کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اب صورت حال ’مستحکم‘ ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سامنے آنے والے نئے اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ چین کے صوبے ہیوبی میں ’کچھ استحکام‘ دیکھنے میں آرہا ہے لیکن ادارے کی جانب سے تنبیہ کی گئی کہ ’ابھی کوئی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا‘ اور وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ مائیکل ریان کا کہنا ہے کہ: وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ’مستحکم صورت حال‘ حکام کی جانب سے لیے گئے ’حفاظتی اقدامات کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔‘

امریکی سفارت خانے کے مطابق چین میں کرونا سے ہلاک ہونے والا پہلا غیر ملکی شخص ایک ساٹھ سالہ امریکی تھا جو جمعرات کو ووہان کے علاقے میں ہلاک ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ووہان میں موجود ایک جاپانی شہری بھی کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہو چکا ہے۔

چینی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق چین میں ابھی تک کرونا کا شکار ہونے والے 2650 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جن میں سے 600 افراد ہفتے کو رو بہ صحت ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبرسیس نے کرونا کے حوالے سے پھیلائی جانے افواہوں کو طبی عملے کے کام میں رکاوٹ ڈالنا قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم صرف وائرس سے نہیں لڑ رہے بلکہ ہم ان شریر اور سازشی مفروضوں سے بھی لڑ رہے ہیں جو غلط معلومات پھیلا کر وائرس کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ‘

دوسری جانب فرانس میں موجود پانچ برطانوی شہریوں میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جنہیں یہ وائرس سنگاپور سے واپس آنے والے ایک برطانوی شہری سے منتقل ہوا ہے۔

Leading sports correspondent and author Roger Kahn passed

Finland's new prime minister, who leads the progressives in 2020

اسپورٹس کے معروف صحافی اور انگریزی زبان کی 20 بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنف، راجر کہن 92 برس کی عمر میں جمعرات کو نیو یارک شہر میں انتقال کر گئے۔

ان کی معروف تصنیف ’دی بوائز آف سمر‘ بروکلین کے ان نوجوانوں کی رومانوی داستان ہے جو بیس بال، ڈوجرز کے دلدادہ ہیں۔

یہ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ہے جس میں بیس بال کھیل اور ڈوجرز کلب سے وابستہ کھلاڑیوں کے کارناموں کی روداد تحریر کی، اس کی اشاعت کے بعد لاکھوں شائقین ان کے گرویدہ بن گئے۔ ان کی یہ معرکة الآرا کتاب 1972ء میں شائع ہوئی۔

کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ میرے والد سے میرا پیار اس لیے بڑھا کہ وہ بھی بیس بال ٹیم، ڈوجرز کے دلدادہ تھے۔

بقول ان کے، ’’ہر ایک کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لڑکپن جاتا رہتا ہے۔ لیکن، اس وقت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بڑے ہونے کی کیا ذمہ داریاں ہیں‘‘۔

وہ کہتے ہیں کہ سفر کرنا میری کمزوری تھی، اور میں نے بیس بال کی شاندار ٹیموں کے ساتھ سفر کیا اور خود زندگی کے سفر کو قریب سے پرکھا۔

اپنی یادداشت میں راجر کہن کہتے ہیں کہ ’دی بوائز آف سمر‘ دراصل لڑکپن بیتنے کی کہانی ہے۔ اس خیال کی باریکی بھانپنے کے دعوے دار، ڈان ہینلے نے، اس عنوان پر ایک نغمہ لکھا، جس میں ایک شخص اپنے ماضی کی یادوں میں جیتا ہے۔

یہ سال 1950ء کی دہائی کے اوائل کا عرصہ ہے، جسے کہن اپنی مشق سخن کی زینت بناتا ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب راجر کہن نیو یارک ہیرلڈ ٹربیون کے رپورٹر تھے۔ بیس برس بعد، بیس بال ٹیم کے تین کھلاڑی جیکی رابنسن، کارل فریلو اور روئے کمپنیلا بیمار پڑ جاتے ہیں۔

کتاب کے شائع ہونے کی دیر تھی کہ لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ساتھ ہی، ناقدین نے الزام لگایا کہ کہانی کو پرسوز بنانے کی خاطر کہن نے جذبات کا سہارا لیا ہے۔

کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے، روزنامہ نیو یارک ٹائمز سے وابستہ صحافی، کرسٹوفر لہمن نے لکھا ہے کہ ’’سب کچھ درست۔ لیکن اس کتاب نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے‘‘۔

سال 1948 میں کہن کاپی بوائے کے طور پر ٹربیون میں بھرتی ہوئے، اور چند برسوں بعد بیس بال کھیل کے رپورٹر بن گئے۔

چھبیس سال کی عمر میں وہ اخبار کے مقبول اسپورٹس رپورٹر بن چکے تھے، اور 1952ء میں ماہانہ 10000 ڈالر تنخواہ پر کام کرتے تھے۔

سال 1956 میں وہ نیوزویک میگزین کے اسپورٹس ایڈیٹر بنے، اور وہ ایوننگ پوسٹ، ایسکوائر، ٹائم اور اسپورٹس السٹریٹڈ کے لیے مضامین تحریر کیا کرتے تھے۔

مزید : اہم خبریں