News of Prime Minister’s salary increase: ‘I will not apologize’

News of Prime Minister's salary increase: 'I will not apologize'

وزیراعظم عمران خان کی تنخواہ میں اضافے کی خبر چلانے پر پیمرا کی جانب سے نجی ٹی وی چینل نیو کو دس لاکھ روپے جرمانے اور پروگرام کی میزبان بینش سلیم کو بھی معافی مانگنے اور خبر کی تردید کرنے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جمعہ کو نیو ٹی وی کی انتظامیہ کو دس لاکھ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا کیونکہ پیمرا کے مطابق نیو ٹی وی نے وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافے کی غلط خبر چلائی۔

وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافے کے حوالے سے خبر کو نیو ٹی وی کے پروگرام ’سیدھی بات‘ کی میزبان بینش سلیم نے زیر بحث لیا تھا۔

بینش سلیم نے بتایا کہ جب انہوں نے اس خبر کے حوالے سے اپنے پروگرام میں بات شروع کی تو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے رکن اور ممبر قومی اسمبلی ناصر موسیٰ زئی بھی بیٹھے تھے اور انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑھ رہی ہے تنخواہ تو ضرور بڑھنی چاہیے اور میں نے پورا پروگرام اسی ایشو پر کیا جس کے بعد پیمرا نے مجھے ایک نوٹس بھیجا کہ میں نے اپنے پروگرام میں یہ بات کی ہے اور پیمرا مجھ سے تردید اور معافی کا مطالبہ کرتی ہے۔

بینش کا کہنا تھا کہ ’مجھے صحافت میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے اور خبریں دینا ہمارا کام ہے کبھی خبر باؤنس ہو جاتی ہے اور کبھی کسی کو پسند نہیں آتی، اگر خبر کسی کو پسند نہیں آئی تو کیا صحافی اس پر معافی مانگیں؟‘

’میں معافی نہیں مانگوں گی البتہ میں نے اگلے دن اس کی تردید دی اور اس دن قومی اسمبلی میں پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں میں اضافے کی بحث اسمبلی کے ایجنڈے کا حصہ تھی اور اس دن کسی عوامی مسئلہ پر بات نہیں ہوئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے اس دن اپنے شو میں کہا کہ آج اسمبلی میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں اضافے کی بات ہوئی اور کیونکہ میں نے اپنے پروگرام میں اس سے ملتی جلتی خبر پر بات کی تھی کہ وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس پر  فردوس عاشق عوان  نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور مجھے ایک نوٹس آیا ہے اور ان کو اس خبر کی تردید چاہیے اور میری معافی چاہیے۔

’میں نے کہا کہ وہ بڑی ہیں اور حکومت کی نمائندگی کر رہی ہیں اور اگر ان کو لگتا ہے کہ میرے شو سے کسی کی دل آزاری ہوئی یا ان کو لگا کہ حکومتی بینچوں میں ہل چل مچ گئی ہے تو میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں اور یہ نیو ٹی وی کی ایکسکلوسیو خبر تھی تو میں اس خبر کو واپس لیتی ہوں۔‘

نیو ٹی وی کی انتظامیہ نے اس حوالے سے بتایا کہ خبر ذرائع سے حاصل ہوئی مگر ویسا نہیں ہوا اب وہ کس وجہ سے نہیں ہوا کوئی پریشر تھا یا کوئی اور وجہ، مگر خبر تو تھی۔

’ہم پیمرا کی جانب سے بھیجے گئے جرمانے کے نوٹس پر قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ہم نے اس خبر کی تردید اگلے ہی روز دی تھی اور ہمیں جو شوکاز نوٹس ملا اس کا جواب بھی پیمرا میں جمع کروایا۔‘

نیو ٹی وی کی انتظامیہ پیمرا نے اسے مسترد کر دیا ہے اور ’ہمیں دس لاکھ روپے کے جرمانے کا نوٹس بھیج دیا۔ ہم ہر متعلقہ فورم پر اسے چیلنج کریں گے۔ جس خبر کا ذکر پیمرا کر رہی ہے وہ سبھی ٹی وی چینلز پر چلی اور اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔‘

مزید : اہم خبریں

Leading sports correspondent and author Roger Kahn passed

Finland's new prime minister, who leads the progressives in 2020

اسپورٹس کے معروف صحافی اور انگریزی زبان کی 20 بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنف، راجر کہن 92 برس کی عمر میں جمعرات کو نیو یارک شہر میں انتقال کر گئے۔

ان کی معروف تصنیف ’دی بوائز آف سمر‘ بروکلین کے ان نوجوانوں کی رومانوی داستان ہے جو بیس بال، ڈوجرز کے دلدادہ ہیں۔

یہ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ہے جس میں بیس بال کھیل اور ڈوجرز کلب سے وابستہ کھلاڑیوں کے کارناموں کی روداد تحریر کی، اس کی اشاعت کے بعد لاکھوں شائقین ان کے گرویدہ بن گئے۔ ان کی یہ معرکة الآرا کتاب 1972ء میں شائع ہوئی۔

کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ میرے والد سے میرا پیار اس لیے بڑھا کہ وہ بھی بیس بال ٹیم، ڈوجرز کے دلدادہ تھے۔

بقول ان کے، ’’ہر ایک کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لڑکپن جاتا رہتا ہے۔ لیکن، اس وقت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بڑے ہونے کی کیا ذمہ داریاں ہیں‘‘۔

وہ کہتے ہیں کہ سفر کرنا میری کمزوری تھی، اور میں نے بیس بال کی شاندار ٹیموں کے ساتھ سفر کیا اور خود زندگی کے سفر کو قریب سے پرکھا۔

اپنی یادداشت میں راجر کہن کہتے ہیں کہ ’دی بوائز آف سمر‘ دراصل لڑکپن بیتنے کی کہانی ہے۔ اس خیال کی باریکی بھانپنے کے دعوے دار، ڈان ہینلے نے، اس عنوان پر ایک نغمہ لکھا، جس میں ایک شخص اپنے ماضی کی یادوں میں جیتا ہے۔

یہ سال 1950ء کی دہائی کے اوائل کا عرصہ ہے، جسے کہن اپنی مشق سخن کی زینت بناتا ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب راجر کہن نیو یارک ہیرلڈ ٹربیون کے رپورٹر تھے۔ بیس برس بعد، بیس بال ٹیم کے تین کھلاڑی جیکی رابنسن، کارل فریلو اور روئے کمپنیلا بیمار پڑ جاتے ہیں۔

کتاب کے شائع ہونے کی دیر تھی کہ لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ساتھ ہی، ناقدین نے الزام لگایا کہ کہانی کو پرسوز بنانے کی خاطر کہن نے جذبات کا سہارا لیا ہے۔

کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے، روزنامہ نیو یارک ٹائمز سے وابستہ صحافی، کرسٹوفر لہمن نے لکھا ہے کہ ’’سب کچھ درست۔ لیکن اس کتاب نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے‘‘۔

سال 1948 میں کہن کاپی بوائے کے طور پر ٹربیون میں بھرتی ہوئے، اور چند برسوں بعد بیس بال کھیل کے رپورٹر بن گئے۔

چھبیس سال کی عمر میں وہ اخبار کے مقبول اسپورٹس رپورٹر بن چکے تھے، اور 1952ء میں ماہانہ 10000 ڈالر تنخواہ پر کام کرتے تھے۔

سال 1956 میں وہ نیوزویک میگزین کے اسپورٹس ایڈیٹر بنے، اور وہ ایوننگ پوسٹ، ایسکوائر، ٹائم اور اسپورٹس السٹریٹڈ کے لیے مضامین تحریر کیا کرتے تھے۔

مزید : اہم خبریں

Imam Masjid’s wife ‘man’ came out 2 weeks after marriage, a story that will not make you laugh

Imam Masjid's wife 'man' came out 2 weeks after marriage, a story that will not make you laugh
شادی کے 2 ہفتے بعد امام مسجد کی بیوی ’مرد‘ نکل آئی، ایسی کہانی کہ آپ کی ہنسی نہ رکے

افریقی ملک یوگنڈا میں ایک امام مسجد اس وقت مصیبت میں پھنس گیا جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ اس نے 2 ہفتے قبل جس خاتون سے شادی کی ہے وہ دراصل ایک مرد ہے۔
امام مسجد شیخ متومبا کی کیا مپسی مسجد میں شب اللہ نبوکیرا نامی خاتون سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اسے شادی کیلئے پرپوز کردیا۔ خاتون نے ہاں کردی اور دونوں کی 2 ہفتے قبل شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد جب سہاگ رات کا وقت آیا ، شیخ متومبا نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو نئی نویلی دلہن نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ اس وقت تک جسمانی تعلق قائم نہیں کرے گی جب تک شیخ اس کے والدین سے نہ مل لیں۔

2 ہفتے تک تو سب ٹھیک ٹھاک چلتا رہا اور شیخ متومبا اس امید کے ساتھ زندگی گزارتے رہے کہ جلد ہی وہ اپنی بیوی کے والدین سے ملیں گے لیکن ایک پڑوسی کی اینٹری نے سارا راز ہی فاش کردیا۔ شیخ متومبا کے پڑوسی نے پولیس کو رپورٹ کی کہ اس نے شیخ کی بیوی کو اس کے گھر میں نقب لگاتے اور ٹی وی اور نقدی چراتے دیکھا ہے۔ پولیس نے امام مسجد کی بیوی کو گرفتار کرکے تلاشی لی تو یہ انکشاف ہوا کہ اس نے عورت ہونے کا ڈھونگ کر رکھا ہے اور نسوانی اعضا بنانے کیلئے کپڑوں کا سہارا لے رکھا ہے۔

شیخ متومبا نے بتایا کہ خالہ سے ملاقات کے بعد جب انہوں نے سہاگ رات منانے کی کوشش کی تو اس کی بیوی نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ اس کو ماہواری آگئی ہے، ’ میں نے 2 ہفتے تک انتہائی تحمل سے اپنی بیوی کی ماہواری ختم ہونے کا انتظار کیا۔‘

پولیس نے جب یہ خبر شیخ متومبا کو دی تو اس پر تو بجلیاں ہی گر پڑیں۔ امام مسجد نے پولیس کو بتایا کہ پہلے تو ان کی بیوی یہ کہہ کر جسمانی تعلق سے انکار کرتی رہی کہ پہلے والدین سے ملاجائے ۔ ’ ہم اس کی خالہ سے ملے جہاں میں نے دلہن کے حق مہر کے طور پر چینی کے 2 بیگ، 2 بکریاں، قرآن مجید کا ایک نسخہ اور کپڑے دیے۔‘

پولیس نے امام مسجد کی مرد بیوی سے جب تحقیقات کیں تو اس نے بتایا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہے اور اس کا اصل نام رچرڈ تموشیب ہے ، اس نے امام سے خاتون کا روپ دھار کر اس لیے شادی کی کیونکہ وہ کچھ پیسے اینٹھنا چاہتا تھا۔

The people voted for the new Pakistan Now the people are gone

Bottle to cool the beverage in a few minutes

Bottle to cool the beverage in a few minutes

سائنس داں جدت سے بھر پور چیزیں تیار کرنے میں سر گرداں ہیں۔ گزشتہ دنوں ’’میٹرکس ‘‘ نامی کمپنی نے ایک ایسی بوتل متعارف کروائی ہے جو اپنے اندر رکھے گئے مشروبات (سافٹ ڈرنک ) کو صرف چند منٹوں میں اتنا ٹھنڈا کرسکتی ہے کہ اسے پیتے ہی دانت بجنے لگیں ۔اصل میں یہ بوتل نہیں بلکہ مشروبات ٹھنڈا کرنے والا ایک آلہ ہے جسے ’’جونو ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ماہرین کے مطابق یہ اتنا مختصر ہے کہ درمیانی جسامت والی میز کے ایک کونے میںآسانی سے سما سکتا ہے ۔

اس آلے کا طر یقے کار بہت آسان ہے ۔اس کی اندرونی نالیوں میں انتہائی ٹھنڈا پانی ہر وقت گردش کرتا رہتا ہے ۔اندر رکھی مشروب کی بوتل کو جلد ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے تیزی سے گھمایا جاتا ہے ،جس کی وجہ سے مائع ،بوتل کی بیرونی دیواروں کے ساتھ لگ جاتا ہے ۔شربت کی ایک لیٹر والی بوتل بھی صرف دو سے تین منٹ میں انتہائی ٹھنڈی ہوجاتی ہے ۔

اس کا ڈیزائن بھی نہایت سادہ ہے اور اس میں صرف دو بٹن ہیں۔ایک کم ٹھنڈا کرنے کے لیے اور دوسرا زیادہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ۔اس کے ایک طر ف پتلی اور لمبی ایل ای ڈی پٹی نصب ہے جواندر رکھے مشروب کے گرم ہونے پر سر خ ہوجاتی ہے اور جب وہ مشروب مطلوبہ حدتک ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو ایل ای ڈیز کی روشنی نیلی ہو جاتی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی شربت کو براہ راست نہیں ڈالا جاسکتا بلکہ بوتل یا کین میں بند مشروب ہی اس میں رکھا جاسکتا ہے ۔اگر آپ کھلا شربت اس میں ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں تو اس میں علیحدہ سے ایک بوتل موجود ہے جو ا س آلے میں بالکل فٹ آجاتی ہے ۔

Stop using this Microsoft window or be prepared for this loss

imprisonment for harassment of Zaira Waseem

3 years imprisonment for harassment of Zaira Waseem

زائرہ وسیم کو ہراساں کرنے والے کو 3 سال قید

بالی ووڈ کی سابقہ اداکارہ زائرہ وسیم کو 2017 میں دوران پرواز جنسی طور پر ہراساں کرنے والے 41 سالہ نامور بزنس مین کو تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق  2017 میں زائرہ کی عمر 17 سال تھی ، ملزم ویکاس سچدیو کو بچوں کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 3 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

زائرہ نے ویڈیو میں بتایا کہ وہ  اس شخص کی ویڈیو بنانے کا ارادہ رکھتی تھیں  تاہم اندھیرے کے باعث وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں۔

یاد رہے کہ زائرہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی ایک اسٹوری میں یہ دعویٰ کیا تھا وسترا ائرلائن کی دہلی سے ممبئی جانے والی پرواز میں جب وہ سو رہی تھیں تو عقبی نشست پر بیٹھے شخص نے 5 سے 10 منٹ تک اپنے پاؤں سے نامناسب انداز میں اُن کی گردن اور کمر کو چھوا۔

کشمیر سے تعلق رکھنے والی سابقہ اداکارہ زائرہ وسیم نے مسافر کی جانب سے اس نامناسب حرکت کا نشانہ بننے کے بعد روتے ہوئے ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں اس لیے آواز اٹھا رہی ہوں کیونکہ کوئی ہماری مدد نہیں کرسکتا جب تک ہم خود اپنی مدد نہ کرلیں’۔

زائرہ کی جانب سے اس ردعمل کے بعد ائیرلائن کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کا آغاز ہوا تھا اور جلد ہی ملزم ویکاس سچدیو کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا سراغ ایئرٹکٹ سے لگایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ زائرہ نے گزشتہ سال مذہب کی خاطر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ زائرہ وسیم نے 2015 میں اداکار عامر خان کی بلاک بسٹر فلم ’دنگل‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

Jordanian princess became a pilot

how to make money online from facebook

how to make money online from facebook

فیس بک سے آن لائن پیسہ کیسے کمایا جائے

دقسمتی سے ہمارے یہاں نوجوانوں کی اکثریت انٹرنیٹ سے پیسہ تو کمانا چاہتی ہے لیکن اس بارے میں زبردست غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کا شکار ہے۔ ہمیں موصول ہونے والی اکثر ای میلز اور ایس ایم ایس پیغامات میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ایسے کون سے جادوئی طریقے ہیں جن سے وہ انٹرنیٹ سے پیسے کما سکتے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر افراد کا اصرار اس بات پر ہوتا ہے کہ انہیں بغیر کسی محنت کے یا صرف کلک کرنے سے ہونے والی کمائی کے طریقے بتائیں جائیں۔ ہم اپنے سابقہ کئی مضامین میں یہ بات بارہاکہہ چکے ہیں کہ انٹرنیٹ پر کمانے کے لئے بھی ویسے ہی محنت مزدوری کرنی پڑتی ہے جیسے عام زندگی میں پیسے کمانے کے لئے کی جاتی ہے۔

آپ نے پوچھا کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے فیس بک پیج سے پیسے کیسے کمائے جائیں۔ ہم عرض کردیں کہ شاید یہ ممکن بھی ہو لیکن یہ کافی غیر حقیقی ہے۔ ہر کاروبار کے لئے آپ کو کچھ نہ کچھ سرمائے کی ضرورت لازمی پیش آتی ہے۔ صرف فیس بک پیج پر ویڈیوز اپ لوڈ کرکے یا اچھی پوسٹس شیئر کرکے آپ پیسے نہیں کما سکتے یا کم از کم کسی جائز طریقے سے نہیں کما سکتے۔ فیس بک کی اپنی کمائی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ فیس بک پیج مالکان یا ویب سائٹ مالکان اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے اسے رقم دیں۔ آج سے چار یا پانچ سال پہلے صورت حال بہت مختلف تھی۔ تب آپ اپنے پیج پر کوئی پوسٹ لگاتے تھے تو پیج لائک کرنے والے بیشتر لوگوں تک وہ پوسٹ پہنچ جاتی تھی۔ لیکن اب ایسا بغیر پیسہ خرچ کئے ممکن نہیں۔ اختصار سے کہا جائے تو صرف فیس بک پیج پر اچھی اچھی پوسٹس لگانے یا ویڈیو شیئر کرنے سے کام نہیں بنے گا۔ فیس بک جو خود پیسے کمانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، وہ آخر کیوں آپ کو پیسے دے گا؟

بغیر کسی سرمایہ کاری کے فیس بک پیج سے پیسے کیسے کمائے جائیں

فیس بک پیج سے پیسے کمانے کے لئے آپ کو لازمی کچھ ترکیبیں لڑانی ہونگی۔ مثلاً آپ اپنا ایک آن لائن اسٹور بنا سکتے ہیں اور اس اسٹور پر کوئی چیز (کپڑے، جیولری وغیرہ) فروخت کے لئے پیش کرسکتے ہیں۔ پھر اپنے فیس بک پیج کی شہرت کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنی پوسٹس ، ویڈیوز یا تصاویر کے ذریعے اپنے اسٹور کی جانب راغب کرسکتے ہیں تاکہ وہ وہاں خریداری کریں۔ اس کے علاوہ آپ اپنی کسی ویب سائٹ کا فیس بک پیج بنا سکتے ہیں اور فیس بک پیج پر آنے والے قارئین کو اپنی ویب سائٹ کی جانب راغب کرسکتے ہیں جہاں اشتہار لگا کر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔

پیسے کمانے کی ایسی ہی کئی دوسری قابل عمل ترکیبیں ہوسکتی ہیں۔ ان تمام ترکیبوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ یہ بغیر محنت اور لگن کے بالکل بیکار ہیں اور وقت کا ضیاع ثابت ہوسکتی ہیں۔ انہیں قابل عمل بنانے کے لئے آپ کو کچھ نہ کچھ سرمایہ کاری ضرور کرنی پڑتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری صرف آپ کے پیسے ہی نہیں بلکہ وقت اور محنت کی شکل میں بھی درکار ہوتی ہے۔

900 RS increase per gold price in one day

Star Wars took over the US box office

Star Wars took over the US box office

ہالی ووڈ فلم ’’اسٹار وارز دا رائز آف اسکائی واکر‘‘ کا مسلسل تیسرے ہفتے بھی امریکی باکس آفس پرراج برقرار ہے ، فلم نے 5 ارب 22 کروڑروپے سے زائد کما کردیگرفلموں کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔

فلم ’’اسٹار وارز دا رائز آف اسکائی واکر‘‘ نے تیسرے ویک اینڈ پر5ارب 22 کروڑ روپے سے زیادہ کما کرپہلے پائیدان پرقبضہ برقرار رکھا ہے، مجموعی طورپر سائنس فکشن فلم دنیا بھر سے بہتر ارب انچاس کروڑ روپے سے زائد رقم بٹورچکی ہے۔

امریکیوں نے ثابت کردیا کہ وہ آج بھی اسٹاروارز سیریز کے دیوانے ہیں ۔

فلم جمانجی کے سیکوئیل نے بھی شائقین کو اپنے سحرمیں جکڑ رکھا ہے، ایکشن فلم’ جمانجی: دی نیکسٹ لیول‘نے 4 ارب 10 کروڑروپے سے زیادہ کمائے اوردوسرے نمبرپررہی۔

فلم ’لٹل ویمن ‘ نے 2 ارب 10 کروڑ روپے سے زیادہ کمائی کی اور تیسرے نمبرپررہی جبکہ فلم کو گولڈن گلوب ایوارڈ کے لیے بہترین فلم اوربہترین ہدایتکارہ کی دو کیٹیگری میں نامزد کیا گیا ہے ۔

Iran announces withdrawal from nuclear deal

باکو متنازعہ ٹک ٹاک ماڈل حریم شاہ نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز لیک ہونے والی آڈیو کال ان کی اور فیاض الحسن چوہان کی ہے۔

باکو متنازعہ ٹک ٹاک ماڈل حریم شاہ نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز لیک ہونے والی آڈیو کال ان کی اور فیاض الحسن چوہان کی ہے۔

باکو متنازعہ ٹک ٹاک ماڈل حریم شاہ نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز لیک ہونے والی آڈیو کال ان کی اور فیاض الحسن چوہان کی ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران فیاض الحسن چوہان کے ساتھ لیک ہونے والی کال کی تصدیق کرتے ہوئے حریم شاہ نے کہا کہ ان کی فیاض الحسن چوہان کے ساتھ بات ہوئی تھی ۔

مزیدحریم شاہ کے نام سے منسوب ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیخ رشید کی مبینہ ویڈیو لیک کر دی گئی

انہوں نے کہا کہ وزرا کی ویڈیوز کے حوالے سے انہوں نے کوئی دھمکی نہیں دی ، جہاں میری ضرورت پڑے گی وہاں میں سامنے آکر بات کروں گی، نہ میں کسی کی دھمکیوں میں آﺅں گی اور نہ میں کسی کو دھمکی دیتی ہوں۔

حریم شاہنے کہا کہ آپ لوگ میرے بارے میں جانتے ہی کیا ہو، جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ۔ مجھے اپنے وطن کے لوگوں کی اوقات پتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے اور کون کتنا حاجی نمازی ہے، ہم ظاہری لبادہ اوڑھ کر پاکیزگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مجھے پتا نہیں ہے کہ ہماری قوم کے لوگ کتنے بزدل ہیں؟

کامیابی کی داستان: کامیاب اور نوجوان سارہ پرویز نے ہمیں بتایا کہ اس نے صرف 1500 روپے سے ماہانہ 10 لاکھ سے بھی زائد رقم کیسے کمانا شروع کی

کراچی کی شہری نوجوان طالبہ جس نے ایک مرتبہ اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے یونیورسٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا اب ماہانہ ریکارڈ توڑ 10 لاکھ سے بھی زائد کماتی ہے اور بڑے مقاصد کو حاصل کرنا اس کا خواب ہے۔ خصوصی طور پر ہمارے رسالے کے لئے انٹرویو دیتے ہوئے، سارہ نے اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھایا۔

میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی جو بالکل بھی امیر کبیر نہیں تھے۔ میرے والدین نے اپنے کنبے کو پالنے کے لئے ہمیشہ بہت محنت کی۔ میں اور میری بہن محنت کرتے ہوئے بڑے ہوئے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس دنیا میں کچھ بھی حاصل کرنے کے لئے ہمیں بہت زیادہ پڑھنے اور اچھی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے والدین کا چھوٹا سا کاروبار تھا جو کہ ہمارے لئے بغیر کسی آمدن کے بہت دگرگوں حالت میں تھا اور ہمارے خاندان کو قرضے میں ڈبوتا جا رہا تھا۔۔

میں اپنے والدین کی مدد کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی۔ میں نے بطور لکھاری کام کیا، کئی اشتہاروں میں حصہ لیا، رات کی نشست میں کال سینٹر آپریٹر کے طور پر بھی کام کرنے کی کوشش کی اور یونیورسٹی میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔

میں نے کئی نوکریاں کیں لیکن پھر بھی ہم کسمپرسی کا شکار تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے حالات کبھی بھی نہیں بدلیں گے۔ لہذا، اپنے والدین کو بتائے میں نے یونیورسٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور اچھی تنخواہ کی حامل نوکری کی تلاش شروع کر دی۔

ایک دن، میں کسی آن لائن پلیٹ فارم پر کسی آسامی کے لئے دیکھ رہی تھی، کہ مجھے بائنری آپشنز کی تفصیلات ‘ بیان کرتا ایک آرٹیکل ملا۔ میں نے ان آپشنز کے بارے میں سنا رکھا تھا (میں نے اپنے یونیورسٹی کے ساتھیوں کو اس کے بارے میں باتیں کرتے سنا تھا) لیکن اس بارے میں کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں سوچا اور نہ ہی مجھے اس بات سے کوئی سروکار تھا کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں۔

میں نے اس بارے میں چھان بین کی تو مجھے YouTube پر کئی ٹیوٹوریل ویڈیوز ملیں۔ اس میں بہت واضح اور مرحلہ وار تفصیلی ہدایات تھیں کہ آن لائن پیسے کیسے کمائیں۔ اس کے علاوہ، ایسی بے شمار سائٹس تھیں جہاں لوگوں نے اپنے تجربات اور حکمت عملیاں شیئر کر رکھی تھیں، وہ نئے آںے والوں کے لئے مشورے اور بہتر پلیٹ فارم بھی تجویز کرتے۔

میں نے اسی وقت محسوس کیا کہ مجھے بھی اسے آزمانا چاہیئے۔ اس میں کوئی خطرہ تو تھا ہی نہیں اور میرے پاس سرمایہ کاری کے لئے کوئی بہت بڑی رقم بھی نہیں تھی اور میں اپنی پڑھائی ترک کر چکی تھی۔ تمام معلومات پڑھنے کے بعد میں نے Olymp Trade کا ٹریڈنگ پلیٹ فارم منتخب کیا۔ اس کی خصوصیات کے بارے میں رائے بہت اچھی تھی۔ اس کے علاوہ، یہ سہل، سمجھنے میں آسان اور نئے آنے والوں کے لئے بہت زیادہ تجویز کیا گیا تھا۔

میرے ابتدائی نتائج میری امیدوں سے بڑھ کر تھے۔ میں نے صرف 7 پاؤنڈ (تقریباً 1 ہزار) روپے لگائے اور ایک گھنٹے کے اندر 15 ہزار روپوں سے زائد کما لئے! میرے لئے یہ ایک حیران کن تھا! سچی بات تو یہ کہ، میں تھوڑی سی خوفزدہ بھی تھی اور فوری طور پر پلیٹ فارم سے پیسے نکلوا لیے۔ اب میں جانتی ہوں کہ یہ صرف بہت بڑی رقم کا ہاتھ سے نکل جانے کا ڈر تھا کیونکہ میں نے اس سے پہلے صرف ایک گھنٹے میں اتنی بڑی رقم نہیں کمائی تھی۔

میرا والٹ یہاں ہے:

اس کھٹن امتحان نے مجھے خود پر یقین اور کبھی ہار نہ ماننا سکھایا۔ اپنی زندگی میں ملنے والے ہر موقع کو استعمال کرنے کے لئے۔ خواب دیکھنے کے لئے، نئے مقاصد قائم کریں اور آگے بڑھیں اس بات سے قطع نظر کہ انہیں حاصل کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ آپ ہمیشہ درست حل پائیں گے!

 

دنیا کے وہ ممالک جہاں آج بھی کوئی ایئر پورٹ موجود نہیں

لندن  دنیا کے 5 ممالک ایسے ہیں، جہاں کوئی ائیرپورٹ نہیں۔ان میں سے ایک ملک اطالوی شہر روم کے مرکز میں واقع دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ویٹیکن سٹی ہے جو چاروں طرف سے دیواروں سے گھری ہے اور اٹلی کے اندر ایک خودمختار ریاست ہے، جس کا مجموعی رقبہ 109 ایکڑ ہے۔جو ائیرپورٹ سے محروم ہے، تاہم لوگ یہاں اطالوی دارالحکومت کے ذریعے آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کا پانچواں چھوٹا ترین ملک سان مرینو کے اردگرد بھی اطالوی سرزمین ہے اور یہاں کے 33 ہزار سے زائد باسی ائیرپورٹ سے محروم ہیں۔

ہوائی سفر کے لیے انہیں 9 میل دور اٹلی کے ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے کا رخ کرنا پڑتا ہے۔دنیا کا دوسرا چھوٹا ترین ملک مناکو بھی یورپ میں ویٹیکن کے قریب ہی واقع ہے اور وہاں تک پہنچنے کےلئے فرانس کے نائس انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے تیسرے اور چوتھے چھوٹے ممالک کے اپنے ائیرپورٹس ہیں، مگر پانچویں (سان مرینو، جس کا ذکر اوپر ہوچکا) اور چھٹے لیختینستائن (سوئٹزر لینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ملک) اس سے محروم ہیں، یہاں کے باسیوں کو اپنے دارالحکومت سے 24 میل دور سوئٹزرلینڈ کے ایک ائیرپورٹ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

ایسی قسمت کا سامنا یورپ کے ایک اور ملک انڈورا کے باسیوں کو بھی ہے، جس کے ایک طرف اسپین اور دوسری طرف فرانس موجود ہے اور یہاں کے 84 ہزار کے قریب افراد کےلئے کوئی ائیرپورٹ نہیں۔ حالانکہ یہاں ہر سال ایک کروڑ سے زائد سیاح آتے ہیں، جو یہاں اسپین یا فرانس سے کسی گاڑی کے ذریعے پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔آخری ملک فلسطینی علاقہ جات ہیں، جہاں کوئی ائیرپورٹ نہیں۔