Pakistan’s most expensive wedding hit the FBR’s radar

pakistans-most-expensive-wedding-hit-the-fbrs-radar

لاہور ماسٹرٹائلز کے مالک کی صاحبزادی اور جلال اینڈ سنز کے مالک کے صاحبزادے کی شادی کی تصاویر اور ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے جسے انٹرنیٹ صارفین پاکستان کی مہنگی ترین شادی قرار دے رہے ہیں۔ماسٹر ٹائلز کے ڈائریکٹر شیخ محمود اقبال کی بیٹی کی شادی کی شاہانہ تقریب کاایف بی آر نے بھی نوٹس لیااور ماسٹر ٹائل کے ڈائریکٹر سے شادی کے اخراجات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ایف بی آر نے ماسٹر ٹائلز کے ڈائریکٹر شیخ محمود اقبال سے شادی کے مختلف اخراجات کیلئے کی گئی ادائیگیوں کی تفصیل بھی مانگی تھی۔

نجی نیوز چینل سٹی 42کے مطابق شادی میں ایونٹ پلاننگ،ڈیکوریشن سروسز فراہم کرنے والی “کے ایس سی کانسیپٹ”کمپنی کو کی گئی ادائیگی کی تفصیل بھی مانگی گئی تھی۔ایف بی آر نے مبین سٹوڈیو اینڈ عرفان احسن کو فوٹو گرافی کیلئے کی گئی ادائیگی کے ساتھ گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم کو شادی میں پرفارمنس پر ادائیگی کی تفصیل بھی مانگی تھی۔ایف بی آر نے 16نومبر تک تفصیلات جمع کروانے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

News:مزید

The crazy girl in love with the boy got emotional and climbed on the billboard

the-crazy-girl-in-love-with-the-boy-got-emotional-and-climbed-on-the-billboard

نئی دہلی بھارت میںلڑکے کے عشق میں مبتلا لڑکی جذبات کے ہاتھوں ایسی مغلوب ہوئی کہ بل بورڈ پر چڑھ گئی۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست مدھیاپردیش کے شہر اندور میں پیش آیا ہے۔ یہ لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ محبت کرتی تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی تاہم لڑکی کی والدہ اس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کی مخالفت کر رہی تھی۔

Shahbaz Sharif family money laundering case, indicted

ماں کی اس مخالفت پر لڑکی گزشتہ روز احتجاجاً بل بورڈ پر چڑھ گئی۔ لڑکی کو بل بورڈ پر چڑھ کر بیٹھے دیکھ کر لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کو بھی اطلاع کر دی گئی۔ تاہم لڑکی پولیس سمیت کسی کے بھی کہنے پر بل بورڈ سے نیچے نہ اتری۔ بالآخر جس لڑکے سے وہ محبت کرتی تھی، اسی کو بلایا گیا اور اس کے کہنے پر وہ نیچے اتر آئی۔

News:مزید

One day’s work salary is 93 thousand euros

One day's work salary is 93 thousand euros

جرمنی کے مشرق میں واقع وفاقی صوبے تھیورنگیا کے وزیر اعلی کو ایک دن کیلئے عہدے پر رہنے کے بدلے ایک لاکھ دو ہزار امریکی ڈالر کا معاوضہ ملا

برلن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 08 فروری2020ء) جرمنی کے مشرق میں واقع وفاقی صوبے تھیورنگیا میں5 فروری کو ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی کے صوبائی سربراہ ٹوماس کًیمیرِش کو نیا ریاستی وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا۔ ان کا انتخاب جرمنی کی داخلی سیاست میں ایک بحران کی وجہ بنا اور اس سیاسی زلزلے کے شدید جھٹکے ملکی دارالحکومت برلن تک محسوس کیے گئے تھے۔ناقدین کا ایک فیصلہ کن اعتراض یہ تھا کہ ترقی پسندوں کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کًیمیرِش نے وزیر اعلیٰ بننے، یعنی اپنے اقتدار میں آنے کے لیے ایک ایسی جماعت کی ارکان کی حمایت پر انحصار کیا، جس کی سیاست کے خلاف تقریباً تمام بڑی جرمن سیاسی جماعتیں جدوجہد کر رہی ہیں۔یہ بات اتنی پھیل گئی تھی اور کًیمیرِش کے تھیورنگیا کے سربراہ حکومت کے طور پر اس طرح انتخاب کی اتنی شدید مذمت کی جا رہی تھی کہ بدھ پانچ فروری کو ہی چانسلر میرکل نے بھی یہ مطالبہ کر دیا تھا کہ اس الیکشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

پھر نتیجہ یہ نکلا کہ تھیورنگیا کے نئے وزیر اعلیٰ بہت زیادہ سیاسی اور اخلاقی دباؤ کا سامنا نہ کر سکے اور اپنے انتخاب کے صرف ایک روز بعد جمعرات چھ فروری کی شام وہ اپنے عہدے سے مستعفی بھی ہو گئے۔ اس طرح ان کا انتخاب اور پھر استعفیٰ اس حوالے سے بھی جرمنی میں ایک تاریخی واقعہ ثابت ہوا کہ وہ صرف تقریباً 24 گھنٹے تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے تھے۔معاوضہ ترانوے ہزار یورو ملے، جو ایک لاکھ دو ہزار امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔

مزید : اہم خبریں

12 benefits of smiling keep smiling

12 benefits of smiling keep smiling

مجھے توکیا ہم سبھی کو روتا بسورتا منہ کتنا برا لگتا ہے ۔جبکہ برمحل مسکراہٹ اور خوشگوار موڈ ہر کسی کو بھاتا ہے ۔ہمیں تو پہلےمسکرانے کے دو تین فوائد ہی معلوم تھے لیکن جب ہم نے کئی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور ریسرچ کرنے کی زحمت گوارا کرہی لی تو سوچا کہ کیوں نہ اس پر ایک بلاگ ہی لکھ دیا جائے ، اب ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد آپ کو بھی مسکرانے کی کوئی نہ کوئی وجہ مل ہی جائے گی ۔

مسکراہٹ صرف اوپری احساسات کا نام نہیں ہے بلکہ اس سے ہمارے مسلز متحرک رہتے ہیں جن کی کم ازکم تعداد بھی 5 سے 53 تک ہوتی ہے ۔

مسکراہٹ چہرے کی قدر وقیمت میں اضافے کا باعث ہے ۔ اگر یہ کہیں کہ مسکرانے کی بالکل وہی اہمیت ہے جو کسی عمارت کے اندرایک کھڑکی کی ہوتی ہے تو بالکل غلط نہیں ۔ جب ہماراچہرہ ہنستا مسکراتا ہوتا ہے تو خود بخود ہی دوسرے لوگ ہماری طرف متوجہ ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب لوگ خوشی کے متلاشی ہوتے ہیں ۔مسکرانے سے ہمارے مسلز مضبوط ہوتے ہیں ۔
مسکراہٹ مثبت شخصیت کو ظاہر کرتی ہے ۔

مسکراہٹ سے یہ علم ہوتا ہے کہ ہم زندگی کو مثبت انداز سے دیکھنے کے عادی ہیں ، مشکلات کا مقابلہ حوصلے سے کرتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ کامیاب لوگ ہمیشہ اپنے رویےکو بہتربنانے اور لوگوں کیساتھ بہترین ڈیلنگ کے لئے مسکراہٹ کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں ۔

مسکراہٹ تنقید کا سامنا کرنے میں مددگار ہوتی ہے ۔

دنیا میں سچ پوچھیں تو کوئی آپ کو خوش نہیں دیکھ سکتا ماسوائے چند ایک لوگوں کے ۔ لیکن مسکراہٹ تنقید کا بہت اچھا جواب ہے ۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اب آپ ہرکسی کو گولی تو مارنے سے رہے اسلئے مسکراہٹ آپ پر کی جانے والی تنقید کا موثر اور ٹھوس جواب ہے ۔

مسکراہٹ آپ کو سماجی کردار ادا کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتی ہے ۔

مسکراہٹ سے آپکو سوشل ہونے میں بہت آسانی ہوتی ہے کیونکہ آُپ دنیا سےکٹ کر نہیں رہ سکتے ۔ آپ کو سماجی حیوان ہونے کے ناطے بات چیت تو کرنا پڑتی ہے ۔

مسکراہٹ پر کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔

مفت چیز کس کو پسند نہیں ہوتی ، بس تو مسکراہٹ بالکل فری ہے اور مسکراتا ہوا چہرہ بیش قیمت ۔
میڈیکل سائنس کے مطابق وہ قہقہ آپ کو ہمیشہ تندرست رکھتا ہے جو مسکراہٹ سے شروع ہو کیونکہ براہ راست قہقہ لگانے سے ہارٹ فیل بھی ہو سکتا ہے ۔ تو جناب آپ مسکرائیے ضرورلیکن ایک حد میں ،ایسا نہ ہوکہ مسلسل مسکرانے سے لوگ آپ کو ایک مضحکہ خیز شخصیت ہی سمجھ لیں ۔

Corona virus, US refuses to help China, Pak Air Force sends full luggage

Malala Yousafzai an irregular student

Malala Yousafzai an irregular student
Malala Yousafzai an irregular student

کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی دنیا بھر میں اپنے سماجی کاموں کی وجہ سے شہرت رکھنے کے ساتھ ساتھ کئی اعزازات اور ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں۔

لیکن دوسری جانب وہ دیگر سستی کی حامل طالبات کی طرح ہی اپنی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ایک غیر ملکی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق وہ ایک غیر منظم لڑکی ہیں۔
لِلی سنگھ سے بات چیت کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ جب ان کے والدین آکسفورڈ میں ان سے ملنے کے لیے آتے ہیں تو وہ ان کے کمرے کی حالت دیکھ کر اپنے بال نوچنے لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرے والدین مجھ سے ملنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ’کیا تم اپنا کمرے کو صاف ستھرا نہیں کر سکتیں؟ کیا تم اپنے بستر کی چادر تبدیل نہیں کر سکتیں؟ یہ سب کیا ہے؟‘

ملالہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کے کمرے کی حالت کو دیکھ کر اکثر کپڑوں اور جوتوں سے متعلق بھی سوالات شروع ہوجاتے ہیں۔

پاکستانی طالبہ نے کہا کہ ان کے والدین کہتے ہیں کہ ’کیا تم اپنے کپڑے اپنی الماری میں نہیں رکھ سکتی ہو؟ تمھارے جوتے زمین پر ایسے کیوں پڑے ہیں؟ کیا تم اپنے برتنوں کو نہیں دھو سکتیں؟‘

اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کی مقبول ترین نوجوان

اپنی اس عادت کے بارے میں 22 سالہ طالبہ کہتی ہیں کہ وہ اکثر سو کر دیر سے اٹھتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی کلاسز بھی چھوٹ جاتی ہیں جبکہ وہ اپنے اسائمنٹس جمع کروانے میں بھی دیری کردیتی ہیں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ (یو این) کے ایک جائزے کے مطابق کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ پاکستانی سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کی مقبول ترین نوجوان رہیں۔

جائزے میں لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں ملالہ کی کوششوں کا اعتراف کیا گیا جبکہ اس جائزے میں ملالہ پر قاتلانہ حملے سے لے کر عالمی اعزازت کے حصول تک کا ذکر کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ معروف امریکی فیشن میگزین ’ٹین ووگ‘ نے ملالہ یوسف زئی کو اپنے میگزین کے سر ورق کی زینت بناتے ہوئے انہیں سال 2019 اور 2010 کی دہائی کی بہترین نوجوان قرار دیا تھا۔

 

Tiktok disadvantages

فخرو بھائی ہمیشہ زندہ رہیں گے

The fakhro brothers will live forever

وہ اپنی مثال آپ تھے۔ اُن جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ وہ مجھے نہ ملتے تو شاید میری زندگی آج بہت مختلف ہوتی اور میں پاکستان سے باہر ہوتا لیکن یہ فخر الدین جی ابراہیم تھے جنہوں نے دو مرتبہ مجھے پاکستان نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا۔

7؍جنوری کو فخرو بھائی یہ دنیا چھوڑ گئے۔ آج ہمیں اپنے اردگرد ایسے بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جن کی اصل طاقت اُن کی شخصیت و کردار نہیں بلکہ اُن کا عہدہ ہے اور وہ اِس عہدے سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں لیکن فخرو بھائی نے اپنی زندگی میں پانچ اہم آئینی عہدوں سے استعفیٰ دیا۔

اُنہیں 1971میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان بنایا۔ ایک دن اُنہیں پتا چلا کہ حکومت نے اُن سے مشورے کے بغیر شریف الدین پیرزادہ کو ایک مقدمے میں اپنا وکیل بنا لیا ہے۔ فخرو بھائی نے اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

بعد ازاں شریف الدین پیرزدہ کو 1977میں جنرل ضیاء الحق نے اپنا اٹارنی جنرل بنایا اور اُنہوں نے بھٹو صاحب کی پھانسی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1981میں فخرو بھائی سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے پی سی او لانے کا فیصلہ کیا تو جسٹس انوار الحق بڑی مشکل میں پھنس گئے۔

اُنہوں نے نصرت بھٹو کیس میں ضیاء کے مارشل لا کو اِس بنیاد پر جائز قرار دیا کہ وہ 90دن میں الیکشن کرا دیں گے لیکن ہر ڈکٹیٹر کی طرح ضیاء اپنے وعدے سے مکر گئے اور چار سال کے بعد پی سی او لے آئے۔ جسٹس انوار الحق نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بلایا اور پوچھا کہ وہ پی سی او پر حلف لیں گے یا نہیں؟ فخر الدین جی ابراہیم سب سے جونیئر جج تھے، اُنہوں نے سب سے پہلے انکار کیا۔

دوسرے جسٹس درّاب پٹیل تھے۔ تیسرے خود جسٹس انوار الحق تھے۔ اِن تینوں نے پی سی او کا حلف لینے سے انکار کیا، باقی سب ججوں نے آئین سے وفاداری کے حلف کو فراموش کر دیا۔

فخرو بھائی کو گورنر سندھ بنایا

1988میں محترمہ بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو اُنہوں نے فخرو بھائی کو گورنر سندھ بنایا۔ اُنہوں نے بطور گورنر سیٹیزن پولیس لائزن کمیٹی بنائی لیکن زیادہ عرصہ پیپلز پارٹی کے ساتھ نہ چل سکے اور استعفیٰ دیدیا۔ 1996 میں فاروق لغاری نے محترمہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو برطرف کیا تو اپنی نگران حکومت میں فخرو بھائی کو بطور وزیر قانون و انصاف شامل کیا۔ یہ وہ دور تھا جب میں نے فخرو بھائی کو قریب سے دیکھا۔

نگران حکومت میں کچھ لوگ بروقت انتخابات کے بجائے احتساب کی طرف جانا چاہتے تھے۔ حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ انتخابات ایک سال بعد کرا لئے جائیں لیکن فخرو بھائی ڈٹ گئے۔

اُنہوں نے ملک معراج خالد کی نگران حکومت چھوڑ دی اور یہ حکومت بروقت انتخابات کرانے پر مجبور ہوئی۔ 2012میں فخر الدین جی ابراہیم نے مجھے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف اُنہیں چیف الیکشن کمیشنر بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر میں خاموش ہو گیا۔
فخرو بھائی نے اس دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بہت کوشش کی لیکن نواز شریف حکومت نے ساتھ نہ دیا لہٰذا وہ اس عہدے سے بھی مستعفی ہو گئے اور پھر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

وہ پاکستان سے صرف محبت نہیں کرتے تھے بلکہ پاکستان کی پرستش کرتے تھے۔ 1947میں پاکستان بنا تو وہ احمد آباد گجرات میں ’’ودیا پنتھ‘‘ کے طالبعلم تھے۔ یہ یونیورسٹی مہاتما گاندھی نے بنائی تھی اور وہ اس یونیورسٹی کے چانسلر بھی تھے۔

فخرو بھائی نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا ’’تُو بولتا کیوں نہیں؟‘‘ میں نے بڑے ادب سے کہا آپ اس چکر میں نہ پڑیں کیونکہ چیف الیکشن کمیشنر بڑا بے اختیار ہوتا ہے۔ الیکشن میں دھاندلی ہوگی اور آپ کا نام خراب ہوگا۔ یہ سن کر وہ خاموش رہے۔ میں نے کہا کہ مزید دوستوں سے مشورہ کر لیں۔ وہ مان گئے۔
حکومت اور اپوزیشن فخر الدین جی ابراہیم کے علاوہ کسی اور نام پر متفق نہ ہو سکے اور پھر فخرو بھائی کو جمہوریت اور پاکستان کے واسطے دیکر یہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ آخر وہی ہوا جس کا خدشہ میں نے ظاہر کیا تھا۔ 2013کے انتخابات میں دھاندلی کا شور مچ گیا۔

والدین کا خیال تھا کہ بیٹا ایل ایل بی کر لے تو پاکستان چلا جائے۔ فخرو بھائی نے ایل ایل بی کیا اور 1949میں پاکستان آ گئے۔ سندھ مسلم لا کالج کراچی سے ایل ایل ایم کیا اور ہمیں پڑھانا شروع کر دیا۔

1953میں سنٹرل جیل کراچی میں حسن ناصر سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے جیل میں بند
ڈیمو کریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کچھ طلبہ کی ضمانت کرائی۔

فخرو بھائی زندگی کے آخری دنوں تک حسن ناصر کو یاد کیا کرتے اور کہتے تھے کہ اگر پاکستانی معاشرہ حسن ناصر کی موت پر اٹھ کھڑا ہوتا تو کبھی لاپتا افراد کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔

نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما حسن ناصر کو 1961میں غائب کر دیا گیا تو فخرو بھائی نے جی جان سے ان کی بازیابی کیلئے قانونی جدوجہد کی لیکن حسن ناصر کو لاہور کے شاہی قلعے میں تشدد سے مار کر ان کی لاش غائب کر دی گئی۔

مارچ 2007میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی کی خبر میں نے جیو نیوز پر بریک کی تو مجھے فخرو بھائی کا فون آیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بیٹا سچ بولنے اور مزاحمت کا وقت آگیا ہے، اگر ہم نے مشرف کو یہاں نہ روکا تو وہ آئین کو بھی برباد کرے گا۔

نومبر 2007میں مشرف نے آئین معطل کر دیا۔ مجھ پر پابندی لگا دی گئی، ہمارے صحافی دوست شکیل ترابی کے بچوں کو اسکول میں گھس کر مارا گیا، پھر میرے بچوں پر حملہ ہوا۔

ایک یورپی ملک نے سیاسی پناہ کی پیشکش کی، ایک بڑی غیر ملکی میڈیا کمپنی نے نوکری کی پیشکش کی تو میں فخرو بھائی کے پاس پہنچا۔ انہیں سب پتا تھا کہنے لگے جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء کا مارشل لا زیادہ خطرناک تھا، زیادہ مشکل تھا، مشرف کی ایمرجنسی کا مقابلہ کرو، راہِ فرار مت اختیار کرو۔ میں نے کہا کہ میری وجہ سے بچوں کی جان کو خطرہ ہے۔

بولے، بچوں کو باہر بھیج دو۔ میں نے کچھ عرصہ کیلئے بچوں کو پاکستان سے باہر بھیج دیا اور مشرف کی پابندیوں کا سڑکوں پر مقابلہ کیا اور ایک دن فخرو بھائی نے صحافیوں کے جلوس میں شامل ہو کر ہماری حوصلہ افزائی کی۔ اُن کا جسم بوڑھا ہو چکا تھا ہمت جوان تھی۔

Imran Khan’s remarks were to be granted

Loved reading news, became an actress

Loved reading news, became an actress

ڈراما انڈسٹری میں اپنی اداکاری کا سکہ جمانے والی پاکستان کی نامور اداکارہ ’’صباحت بخاری‘‘ نے پی ٹی وی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سپر اسٹار بن گئیں۔ آج کل ہر دوسرے سیریل میں اپنے جوہر دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے جہاں ماں کے دِل چھولینے والے کردار بھی کئے وہیں منفی کردار بھی کیے۔

موسیقی کی شوقین حباحت نے گٹار اور پیانو بجانا صرف اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ اس میں ناخنوں کی قربانی دینا پڑتی تھی۔ اداکارہ بننے کے لیے ٹیچنگ، ٹیوشنز ، ایئر ہوسٹس ، ایکٹنگ ، نیوز اینکر ، انائونسر اور مارننگ شوز کی میزبانی سے لے کر پروڈکشن تک میں قسمت آزمائی۔ اُنہوں نے ’’جیو ٹی وی ‘‘ کے کئی اہم سیریلز میں بھی اپنی یاد گار اداکاری کے نقش چھوڑے ہیں جن میں ’’ماسی اور ملکہ ‘‘ اور ’’نیک پروین ‘‘ سر فہرست ہیں۔
اِن کے دیگر ڈراموں میں تیسرا پہر، شناخت، پاکیزہ، طائر لاہوتی، کنکر، تھوڑی سی بے وفائی، دیوانگی، دوسرا آسمان، بلبلے، مہربان ہاؤس، منی کی بٹیا، زرد زمانوں کا سویرا، محبت کھیل تماشہ ، قسمت کا لکھا، بے بی، چڑیوں کا چنبہ، سکھ جوڑا، زندگی مجھے تیرا پتہ چاہئے، راجو راکٹ، بیٹی جیسی، چاندنی، پیارے میاں بے چین وغیرہ میں اپنی اداکاری کے خوب جوہر دکھائے۔ صباحت ایک فلم ’’مان جاؤ ناں‘‘ میں بھی اپنی اداکاری کے جلوے دکھا چکی ہیں۔

ہنس مُکھ، خوش گفتار، نرم مزاج اور دوستانہ مزاج رکھنے والی پاکستان کی نامور اداکارہ سے گذشتہ دِنوں ہماری ملاقات ہوئی۔ اُن کی زندگی کے اُتار چڑھاؤ اور فنی مصروفیات سے متعلق ہمارے سوالات کے جواب میں جو کچھ اُنہوں نے کہا، وہ نذرِ قارئین ہے۔

اداکاری کا سکہ جمانے والی پاکستان کی نامور اداکارہ

٭… کیا اداکاری کا شوق بچپن سے ہے؟

صباحت بخاری …جی ہاں! یہ شوق بچپن ہی میں پروان چڑھا، شوبز کی دنیا میں آنے کے لیے والدین سے مار بھی بہت کھائی لیکن اپنے شوق سے باز نہ آئی۔

٭…آپ کافی عرصے سے اداکاری کر رہی ہیں لیکن اب تک ہیروئن کا کردار نہیں کیا، جب کہ ماں کے کردار خوب کیے؟
صباحت بخاری …ایسا نہیں ہے، میرا پہلا سٹ کام ڈرامہ 1995؁ء میں پی ٹی وی پر حیدرامام رضوی کے ساتھ تھا ، اس کا نام تھا ’’اب کیا ہوگا‘‘۔ اس میں ہیروئن ہی تھی۔ اس کے علاوہ ابتدائی دور میں ہیروئن کے کردار کافی کیے ہیں، البتہ ماں کے روپ میں کچھ زیادہ ہی اسکرین پر نظر آتی ہوں۔ ماں کے کردار کرتے ہوئے اب مجھے تقریباً 10برس ہوگئے ہیں۔

دراصل بات یہ ہے کہ، ہمارے معاشرے میں ’’ینگ مدرز‘‘ کا ٹرینڈ نہیں تھا لیکن جب ’’اسٹار پلس‘‘ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوا تو اس کے بعد یہاں بھی وہی ٹرینڈ شروع ہوگیا۔ مجھ سے پہلے ماں کے کردار ذہین آپا (مرحومہ) اور سینئرز اداکارہ کرتی تھیں۔ لیکن ’’ینگ مدرز ‘‘ کا رجحان شروع ہوا تو پھر مجھ جیسی خواتین کو یہ کردار ادا کرنا پڑے اور ہم اب تک کررہے ہیں۔
٭… کچھ اہل خانہ کے بارے میں بتائیں؟

صباحت بخاری …ہم دوبہنیں اور ایک بھائی ہے، شوبز میں میرے علاوہ کوئی بھی نہیں آیا البتہ میرے بیٹے کا موسیقی کی طرف کافی رجحان ہے۔ اسے اداکاری کا شوق نہیں، البتہ میرے ڈرامے ضرور دیکھتا ہے، اس کے علاوہ ایک ڈرامہ تھا ’’میرا سائیں ‘‘ اس کے سیزن ون میں میرے بیٹے نے فہد مصطفی کے بچپن کا رول کیا تھا۔

٭… سنا ہے آپ کو موسیقی کا شوق ہے؟

صباحت بخاری …بہت شوق تھا لیکن میں اُس فیلڈ میں کچھ کر نہیں سکی۔ گٹار اور کی بورڈ بجاتی تھی۔ اپنی تنخواہ سے کچھ پیسے جمع کرکے گٹار بھی خریدار لیکن بعد میں پتہ چلا کہ گٹار بجانے کے لیے ناخنوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اس لیے چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ اس دور میں موسیقی کو اچھا بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔
٭… ڈراموں کے معیار سے مطمئن ہیں؟

صباحت بخاری …جہاں تعداد زیادہ ہو جائے وہاں معیار کم ہو جاتا ہے۔ ڈراموں میں کونٹینٹ کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اِس دور میں اچھے رائٹرز کی کمی ہے، جو نوجوان رائٹر ہیں اُن میں بہت کم اچھا لکھتے ہیں، ہمیں تو اب ڈرامے کا اسکرپٹ پڑھنے کے بعد ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ تو ہم نے پہلے بھی پڑھا ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ڈراموں میں وہ دل چسپی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔

لاہور کی خاتون کی کہانی جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے مرد کا بھیس دھار کر زندگی گزار رہی ہے

لاہور میں ایک خاتون اپنی بچی کا پیٹ پالنے اور اسے تعلیم دلانے کے لیے مرد بن گئی۔ اس خاتون کی کہانی فیس بک پیج  پر پوسٹ کی گئی ہے۔اس خاتون کا نام فرحین ہے جس نے مردانہ روپ دھار رکھا ہے اور انارکلی میں ایک دکان چلاتی ہے۔فیس بک پوسٹ میں خاتون بتاتی ہے کہ ”میرا نام فرحین ہے۔ میں گزشتہ 8سال سے لاہور میں مقیم ہوں۔ میری ایک 9سال کی بیٹی بھی ہے اور ہم ماں بیٹی ایک ہاسٹل میں رہتی ہیں۔ ہم دونوں انارکلی بازار میں ایک دکان چلاتی ہیں لیکن تنگی حالات کی وجہ سے دکان بالکل خالی ہو چکی ہے۔ میں اوبر ٹیکسی بھی چلاتی ہوں لیکن مالی حالات جوں کے توں ہیں۔“

فرحین مزید کہتی ہے کہ ”مجھے کسی سے کوئی رقم نہیں چاہیے تاہم بدقسمتی سے مجھے ان دنوں مدد کی بہت ضرورت ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ پیسوں کی بجائے جنرل سٹورکا سامان کولڈ ڈرنکس، سگریٹ، ٹافیاں، بسکٹس وغیرہ کے ذریعے میری مدد کر دیں تاکہ میں اس سامان کو اپنی دکان پر فروخت کرکے حلال روزی کما سکوں۔ میری دکان کا نام علی جنرل سٹور ہے جو انارکلی بازار کے علی پلازہ میں مکی چائے والا کے قریب واقع ہے۔“ اپنے مردانہ حلیے کے بارے میں فرحین کا کہنا تھا کہ ”اگر میں مردانہ حلیہ نہ بناتی تو میرے لیے بازار میں کام کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔“

ilm

علم کے بغیر آج کل دنیا کا کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ اسلام میں بھی بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اس کی اہمیت سے صاف ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ملک اگر علم میں پیچھے رہ جائے تو تمام شعبوں میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں نے جتنا بھی عروج حاصل کیا اس دور میں دین اسلام میں اور دیگر علوم میں بہت ترقی نظر آرہی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ صرف دینی علوم میں ماہر بنے بلکہ دنیا کے تمام علوم میں مہارت حاصل کر کے ۔
دین کی ترویج کے ساتھ ساتھ اپنا عملی کردار دنیا کی ۔ ترقی میں ادا کریں

مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی وجوہات میں آج علوم و فنون ایک قدم پیچھے رہ جانا بھی ہے
آج ہم سب لوگ علم کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر کے
۔ ایک بار پھر ترقی اور دنیا میں عروج حاصل کر سکتے