One day’s work salary is 93 thousand euros

One day's work salary is 93 thousand euros

جرمنی کے مشرق میں واقع وفاقی صوبے تھیورنگیا کے وزیر اعلی کو ایک دن کیلئے عہدے پر رہنے کے بدلے ایک لاکھ دو ہزار امریکی ڈالر کا معاوضہ ملا

برلن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 08 فروری2020ء) جرمنی کے مشرق میں واقع وفاقی صوبے تھیورنگیا میں5 فروری کو ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی کے صوبائی سربراہ ٹوماس کًیمیرِش کو نیا ریاستی وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا۔ ان کا انتخاب جرمنی کی داخلی سیاست میں ایک بحران کی وجہ بنا اور اس سیاسی زلزلے کے شدید جھٹکے ملکی دارالحکومت برلن تک محسوس کیے گئے تھے۔ناقدین کا ایک فیصلہ کن اعتراض یہ تھا کہ ترقی پسندوں کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کًیمیرِش نے وزیر اعلیٰ بننے، یعنی اپنے اقتدار میں آنے کے لیے ایک ایسی جماعت کی ارکان کی حمایت پر انحصار کیا، جس کی سیاست کے خلاف تقریباً تمام بڑی جرمن سیاسی جماعتیں جدوجہد کر رہی ہیں۔یہ بات اتنی پھیل گئی تھی اور کًیمیرِش کے تھیورنگیا کے سربراہ حکومت کے طور پر اس طرح انتخاب کی اتنی شدید مذمت کی جا رہی تھی کہ بدھ پانچ فروری کو ہی چانسلر میرکل نے بھی یہ مطالبہ کر دیا تھا کہ اس الیکشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

پھر نتیجہ یہ نکلا کہ تھیورنگیا کے نئے وزیر اعلیٰ بہت زیادہ سیاسی اور اخلاقی دباؤ کا سامنا نہ کر سکے اور اپنے انتخاب کے صرف ایک روز بعد جمعرات چھ فروری کی شام وہ اپنے عہدے سے مستعفی بھی ہو گئے۔ اس طرح ان کا انتخاب اور پھر استعفیٰ اس حوالے سے بھی جرمنی میں ایک تاریخی واقعہ ثابت ہوا کہ وہ صرف تقریباً 24 گھنٹے تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے تھے۔معاوضہ ترانوے ہزار یورو ملے، جو ایک لاکھ دو ہزار امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔

مزید : اہم خبریں

10 Important Information About Electric Vehicles

10 Important Information About Electric Vehicles

ایک جدید الیکٹرک کار ایک بار چارج کرنے کے بعد محتاط اندازے کے مطابق 200 سے 250 میل (400 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔

الیکٹرک کار سے متعلق چند بنیادی معلومات سوالوں اور جوابات کی شکل میں ہم اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

الیکٹرک کار کیا ہے؟

یہ ہائی برڈ گاڑیوں جیسی نہیں ہے جس میں ایک ہی وقت میں دو نظام موجود ہوتے ہیں بلکہ الیکٹرک کار صرف بیٹریز میں موجود توانائی سے چلتی ہے اور جب یہ توانائی ختم ہو جاتی ہے تو یہ گاڑی رک جاتی ہے۔

یہ ایک واشنگ مشین اور لیپ ٹاپ کے ملاپ جیسا ہے۔ آپ کی کار برقی توانائی سے چل رہی ہے جو طاقتور لیتھیم بیٹریز میں موجود ہے جیسا کے لیپ ٹاپ میں ہوتا ہے ۔ یہ توانائی ایک الیکٹرک موٹر کو بھیجی جاتی ہے جیسا کہ واشنگ مشین میں ہوتا ہے اور پھر آپ کی گاڑی اسی توانائی سے روڈ پر چلتی ہے۔

ایک چارج پر یہ کتنا فاصلہ طے کر سکتی ہے؟

یہ مختلف معاملات پر منحصر ہے لیکن ایک جدید الیکٹرک کار ایک بار چارج کرنے کے بعد محتاط اندازے کے مطابق 200 سے 250 میل (400 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ ان میں اکیا، ای نیرو اور ہیونڈائی کونا الیکٹرک شامل ہیں۔ درست انداز میں چلانے پر یہ فاصلہ 300 میل ہونا بھی ممکن ہے۔ یہ چند سال پہلے طے کیے جانے والے فاصلے سے دو یا تین گنا زیادہ ہے۔

اس حوالے سے معروف ترین ماڈل جن میں ٹیسلا کی گاڑیاں شامل ہیں وہ 400 میل (650 کلومیٹر)تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔ شہری علاقوں کی ضرورت کے حساب سے بنائی جانے والی سمارٹ الیکٹرک گاڑیاں 100 میل تک کا فاصلے طے کر سکتی ہیں۔

چارج ہونے کے لیے اسے زیادہ وقت درکار ہو گا؟

ایسا ہے بھی اور نہیں بھی۔ اس حوالے سے صرف ٹیسلا کو ہی استثنی حاصل ہے کیونکہ گھر پر چارج کے ساتھ ساتھ اس نے تیز چارجنگ کا ایک بڑا نظام قائم کر رکھا ہے۔

ان گاڑیوں کے زیادہ تر مالکان کو گاڑی گھر پر ہی چارج کرنی پڑے گی لیکن ان کو اس حوالے سے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے گھر میں بھی ایک چارجنگ پوائنٹ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ ہیونڈائی کونا کو گھر پر چارج کرنا چاہیں تو اس کے ریگولر چارجر سے اسے تقریبا نو گھنٹوں میں اسے فیصد چارج کیا جا سکتا ہے۔

ہنگامی حالت میں ایک تیز رفتار چارجر سے یہی چارجنگ کی مقدار 75 منٹ میں حاصل کی جا سکتی ہے۔ گھر پر چارجنگ کے لیے آپ کو شاید 24 گھنٹے بھی درکار ہوں کیونکہ بیٹریز بڑی ہونے کی وجہ سے گھریلو بجلی کی سہولیات شاید اسے جلد چارج کرنے کے لیے کافی نہ ہوں۔

کیا مستقبل میں اسے چارج کرنا آسان ہو جائے گا؟

جی ہاں۔ اس حوالے سے کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے۔ بیٹریز میں زیادہ توانائی سٹور کرنے کا ہدف کافی حد تک حاصل کیا جا چکا ہے۔

بیٹری پیک عمومی طور پر کار کے نچے حصے میں موجود ہوتا ہے۔ یہ کار کے فرش یا نشستوں کے نیچے ہو سکتا ہے۔ بیٹریاں گرم ہونے کی صورت میں وینٹلیشن اور واٹر کولنگ کا نظام بھی سامنے لایا گیا ہے جو اس معاملے میں کافی حد تک بہتری سمجھی جا رہی ہے۔

کیا الیکٹرک گاڑیاں ہائیڈروجن پر بھی چلتی ہیں؟

اس کا مختصر جواب ہے، ہاں۔ لیکن یہ پروٹوٹائپس سے زیادہ کچھ نہیں ہیں جن کے لیے ابھی چند ہی فلنگ سٹیشنز موجود ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن ایندھن کے سیلز توانائی کو انتہائی سطح تک استعمال کرتے ہیں اور ہائیڈروجن کو تیار کرنا کافی مشکل ہو سکتا ہے اگر ایسا کرنے کے لیے نان ری نیو ایبل توانائی کی بہت زیادہ مقدار کی ضرورت ہو۔

کیا الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہیں؟

جی ہاں۔ اگر آپ خریدنا چاہتے ہیں یا لیز کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کئی ہزار پاؤنڈز درکار ہوں گے۔ ہیونڈائی کونا جو کہ ایک ایس یو وی ہے اور ایک روایتی پٹرول انجن بھی رکھتی ہے اس کی قیمت 17 ہزار پانچ سو پانچ پاونڈز (35 لاکھ ستر ہزار پاکستانی روپے) تک ہے۔ اس کا ہائیبرڈ ورژن جس میں پٹرول یا برقی توانائی سے چلنے کی سہولت دونوں موجود ہیں، اس کی قیمت 22 ہزار چار سو پچانوے پاونڈز ہے۔ ہیونڈائی کونا کے لیے یہی قیمت 35 ہزار ایک سو پاؤنڈز تک جا پہنچتی ہے اور اگربرطانوی حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر دی جانے والی 35 سو پاؤنڈز کی گرانٹ کو شامل کریں تو یہ قیمت 32 ہزار چھ سو پاؤنڈز ہو جاتی ہے۔

آپ کے اخراجات کا انحصار آپ کے اس کار کے استعمال پر ہے۔ آپ ایک سال میں کتنے میل کا فاصلہ طے کرتے ہیں یا کیسے مقامات پر جاتے ہیں۔ دن میں 60 میل تک کا فاصلہ طے کرنا ایک استعمال کی ایک درمیانی حد ہو سکتی ہے اور چند سال بعد ایک گاڑی خود اپنے اخراجات ادا کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ زیادہ فاصلہ طے کرنے کے ایندھن کو تبدیل کرنا بھی بہتر رہتا ہے۔

الیکٹرک کار کے فوائد کیا ہیں؟

معاشی فوائد کے علاوہ یہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہے۔ ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے بیٹریاں کے لیے نایاب دھاتوں کا بندوبست کرنا، انہیں طویل فاصلے پر موجود کارخانوں تک بھیجنا اور انہیں تیار کرنے پر خرچ ہونے والی توانائی جیسے معاملات پر کئی بار بحث ہو چکی ہے۔ یقینی بات ہے کہ ایک ایسی گاڑی جو محفوظ توانائی سے چلتی ہے اس گاڑی کی نسبت بہتر ہے جو کسی اور قسم کے ایندھن کے جلنے سے چلتی ہے۔

لیکن ایک قابل قبول مفروضہ یہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیں کسی اور قسم کے انجن سے چلنے والی گاڑیوں سے زیادہ ماحول دوست ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ چاہے وہ ریل ہو یا بس نجی گاڑیوں سے زیادہ ماحول دوست ہیں۔

یہ یاد رہے کہ الیکٹرک گاڑیاں کسی بھی رفتار پر بہت خاموش رہتی ہیں۔ اپنی انتہائی رفتار پر یہ گاڑیاں بہت کم ہوا کا اخراج کرتی ہیں۔ آسان الفاظ میں انہیں ڈرائیو کرنا اور ان میں سفر کرنا بہترین ہے۔

اس کے نقصانات کیا ہیں؟

حیران کن طور پر یہ بہت کم ہیں۔ اگر آپ فلیٹ میں رہتے ہیں یا کسی بالائی منزل والے گھر میں تو اس کو چارج کرنا ناممکن یا بہت مشکل ہے۔ یہ مسائل الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر آپ نے ایک دن میں چار سو میل کا سفر کرنا ہے تو آپ یہ سفر دوران وقفہ لیے بغیر یا متبادل ایندھن کے بغیر نہیں کر سکتے۔ لوگوں کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے کا ایسا نظام جو زیادہ بڑے پیمانے پر چل رہا ہو اور منظم ہو اس کا استعمال بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

ہائیبرڈز کا کیا ہو گا؟

ہائیبرڈز الیکٹرک گاڑیاں نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے یہ ہائیبرڈز کہلاتی ہیں۔ ہائیبرڈ گاڑی ایک ایسی گاڑی کو کہا جاتا ہے جو روایتی ڈیزل یا پٹرول انجن کی حامل ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں الیکٹرک کار کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔

مشہور ہائبڑد ماڈلز جیسے ٹویوٹا پرئیس کے اندر الیکٹرک موٹر کے ساتھ ساتھ متبادل ایندھن کے لیے بھی انجن موجود ہے جو کہ گاڑی کی کارکردگی اور اخراجات دونوں پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

کیا الیکٹرک گاڑیاں کچھ زیادہ انوکھی چیز نہیں ہیں؟

اب تک ایسا ہی سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اگلے چند مہینوں میں ہم الیکٹرک گاڑیوں کی ایسی کھیپ دیکھیں گے جو مشہور ماڈلز سے تعلق رکھتی ہوں گی۔ آنے والے الیکٹرک گاڑیاں پہلے سے موجود چند متاثر کن گاڑیوں میں ایک اچھا اضافہ ہوں گی۔

نئی آنے والے گاڑیوں کی قیمت نسبتاً کم ہو گی۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اچھے سے تحقیق کرلیں گو کہ اب آپ الیکٹرک گاڑی کو خریدتے وقت پہلے سے زیادہ مثبت سوچ رکھتے ہوں گے۔

Bottle to cool the beverage in a few minutes

Bottle to cool the beverage in a few minutes

سائنس داں جدت سے بھر پور چیزیں تیار کرنے میں سر گرداں ہیں۔ گزشتہ دنوں ’’میٹرکس ‘‘ نامی کمپنی نے ایک ایسی بوتل متعارف کروائی ہے جو اپنے اندر رکھے گئے مشروبات (سافٹ ڈرنک ) کو صرف چند منٹوں میں اتنا ٹھنڈا کرسکتی ہے کہ اسے پیتے ہی دانت بجنے لگیں ۔اصل میں یہ بوتل نہیں بلکہ مشروبات ٹھنڈا کرنے والا ایک آلہ ہے جسے ’’جونو ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ماہرین کے مطابق یہ اتنا مختصر ہے کہ درمیانی جسامت والی میز کے ایک کونے میںآسانی سے سما سکتا ہے ۔

اس آلے کا طر یقے کار بہت آسان ہے ۔اس کی اندرونی نالیوں میں انتہائی ٹھنڈا پانی ہر وقت گردش کرتا رہتا ہے ۔اندر رکھی مشروب کی بوتل کو جلد ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے تیزی سے گھمایا جاتا ہے ،جس کی وجہ سے مائع ،بوتل کی بیرونی دیواروں کے ساتھ لگ جاتا ہے ۔شربت کی ایک لیٹر والی بوتل بھی صرف دو سے تین منٹ میں انتہائی ٹھنڈی ہوجاتی ہے ۔

اس کا ڈیزائن بھی نہایت سادہ ہے اور اس میں صرف دو بٹن ہیں۔ایک کم ٹھنڈا کرنے کے لیے اور دوسرا زیادہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ۔اس کے ایک طر ف پتلی اور لمبی ایل ای ڈی پٹی نصب ہے جواندر رکھے مشروب کے گرم ہونے پر سر خ ہوجاتی ہے اور جب وہ مشروب مطلوبہ حدتک ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو ایل ای ڈیز کی روشنی نیلی ہو جاتی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی شربت کو براہ راست نہیں ڈالا جاسکتا بلکہ بوتل یا کین میں بند مشروب ہی اس میں رکھا جاسکتا ہے ۔اگر آپ کھلا شربت اس میں ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں تو اس میں علیحدہ سے ایک بوتل موجود ہے جو ا س آلے میں بالکل فٹ آجاتی ہے ۔

Stop using this Microsoft window or be prepared for this loss

Stop using this Microsoft window or be prepared for this loss

Stop using this Microsoft window or be prepared for this loss
مائیکروسافٹ کی یہ ونڈو استعمال کرنا بند کردیں ورنہ اس نقصان کیلئے تیار رہیں

نامور کمپیوٹر کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے پرانے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 7 کو مزید اپڈیٹ فراہم کرنے اور سپورٹ دینے کا سلسلہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اب مائیکروسافٹ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ونڈوز 7 کی مزید سپورٹ نہیں ملے گی، لہٰذا جدید سافٹ ویئرز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اس ونڈوز کی تبدیلی ضروری ہے۔
اب کمپیوٹر پر ایک پاپ اب ونڈو سامنے آئے گی جس میں صارفین کو انتباہ جاری کیا جائے گا کہ وہ ایک دہائی پرانی اس ونڈوز کو چھوڑ کر نئی ونڈوز 10 کا استعمال شروع کریں۔

مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ ونڈوز 7 کمپیوٹرز میں چلتی رہے گی لیکن کمپنی ان کمپیوٹر صارفین کو سپورٹ، سافٹ ویئر اپڈیٹ اور سیکیورٹی فکسز نہیں دے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ونڈوز 10 استعمال کی جاتی ہے۔

مائیکروسافٹ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے صارفین میں 55 فیصد افراد ونڈوز 10 جبکہ 25 فیصد یعنی دوسری بڑی تعداد ونڈوز 7 استعمال کرتی ہے۔

علاوہ ازیں اگر کسی صارف کا کمپیوٹر سسٹم ونڈوز 10 کی صلاحیت کا حامل نہیں ہوگا تو ان کے لیے بھی یہ میسج سامنے آئے گا کہ وہ نیا کمپیوٹر خریدیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس اپریل سے ونڈوز میں ایک چھوٹا پاپ۔اپ میسیج سامنے آرہا ہے تاہم اب مائیکروسافٹ نے اس کا واضح اعلان اور فل اسکرین پاپ۔اپ سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے جسے نظرانداز نہ کیا جاسکے۔

سسٹم میں وائرسز اور مال ویئرز کا خطرہ بڑھ جائے گا

مائیکروسافٹ نے بھی اپنے ایک بیان میں صارفین کو واضح کیا ہے کہ اگر آپ ونڈوز 7 کا استعمال جاری رکھیں گے تو اس کی وجہ سے آپ کے سسٹم میں وائرسز اور مال ویئرز کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

اس نئی پاپ۔اپ ونڈو میں ’مزید پڑھیں‘، ’بعد میں آگاہ کریں‘ یا ’دوبارہ آگاہ نہ کریں‘ کے آپشنز موجود ہوں گے۔

برطانوی سائبر سیکیورٹی سینٹر نے اپنے شہریوں کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ ونڈوز 7 کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ای میلز، بینک اکاؤنٹس یا دیگر حساس معلومات تک رسائی نہ لیں کیونکہ اس کی وجہ سے ڈیٹا کے چوری ہونے کا خدشہ زیادہ ہے۔
مائیکروسافٹ کا میسج ونڈوز 7 کے اسٹارٹر، ہوم بیسک، ہوم پریمیئم، پروفیشنل اور الٹیمیٹ ایڈیشنز ورژنز پر دکھائی دے گا۔

Jordanian princess became a pilot

how to make money online from facebook

how to make money online from facebook

فیس بک سے آن لائن پیسہ کیسے کمایا جائے

دقسمتی سے ہمارے یہاں نوجوانوں کی اکثریت انٹرنیٹ سے پیسہ تو کمانا چاہتی ہے لیکن اس بارے میں زبردست غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کا شکار ہے۔ ہمیں موصول ہونے والی اکثر ای میلز اور ایس ایم ایس پیغامات میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ایسے کون سے جادوئی طریقے ہیں جن سے وہ انٹرنیٹ سے پیسے کما سکتے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر افراد کا اصرار اس بات پر ہوتا ہے کہ انہیں بغیر کسی محنت کے یا صرف کلک کرنے سے ہونے والی کمائی کے طریقے بتائیں جائیں۔ ہم اپنے سابقہ کئی مضامین میں یہ بات بارہاکہہ چکے ہیں کہ انٹرنیٹ پر کمانے کے لئے بھی ویسے ہی محنت مزدوری کرنی پڑتی ہے جیسے عام زندگی میں پیسے کمانے کے لئے کی جاتی ہے۔

آپ نے پوچھا کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے فیس بک پیج سے پیسے کیسے کمائے جائیں۔ ہم عرض کردیں کہ شاید یہ ممکن بھی ہو لیکن یہ کافی غیر حقیقی ہے۔ ہر کاروبار کے لئے آپ کو کچھ نہ کچھ سرمائے کی ضرورت لازمی پیش آتی ہے۔ صرف فیس بک پیج پر ویڈیوز اپ لوڈ کرکے یا اچھی پوسٹس شیئر کرکے آپ پیسے نہیں کما سکتے یا کم از کم کسی جائز طریقے سے نہیں کما سکتے۔ فیس بک کی اپنی کمائی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ فیس بک پیج مالکان یا ویب سائٹ مالکان اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے اسے رقم دیں۔ آج سے چار یا پانچ سال پہلے صورت حال بہت مختلف تھی۔ تب آپ اپنے پیج پر کوئی پوسٹ لگاتے تھے تو پیج لائک کرنے والے بیشتر لوگوں تک وہ پوسٹ پہنچ جاتی تھی۔ لیکن اب ایسا بغیر پیسہ خرچ کئے ممکن نہیں۔ اختصار سے کہا جائے تو صرف فیس بک پیج پر اچھی اچھی پوسٹس لگانے یا ویڈیو شیئر کرنے سے کام نہیں بنے گا۔ فیس بک جو خود پیسے کمانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، وہ آخر کیوں آپ کو پیسے دے گا؟

بغیر کسی سرمایہ کاری کے فیس بک پیج سے پیسے کیسے کمائے جائیں

فیس بک پیج سے پیسے کمانے کے لئے آپ کو لازمی کچھ ترکیبیں لڑانی ہونگی۔ مثلاً آپ اپنا ایک آن لائن اسٹور بنا سکتے ہیں اور اس اسٹور پر کوئی چیز (کپڑے، جیولری وغیرہ) فروخت کے لئے پیش کرسکتے ہیں۔ پھر اپنے فیس بک پیج کی شہرت کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنی پوسٹس ، ویڈیوز یا تصاویر کے ذریعے اپنے اسٹور کی جانب راغب کرسکتے ہیں تاکہ وہ وہاں خریداری کریں۔ اس کے علاوہ آپ اپنی کسی ویب سائٹ کا فیس بک پیج بنا سکتے ہیں اور فیس بک پیج پر آنے والے قارئین کو اپنی ویب سائٹ کی جانب راغب کرسکتے ہیں جہاں اشتہار لگا کر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔

پیسے کمانے کی ایسی ہی کئی دوسری قابل عمل ترکیبیں ہوسکتی ہیں۔ ان تمام ترکیبوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ یہ بغیر محنت اور لگن کے بالکل بیکار ہیں اور وقت کا ضیاع ثابت ہوسکتی ہیں۔ انہیں قابل عمل بنانے کے لئے آپ کو کچھ نہ کچھ سرمایہ کاری ضرور کرنی پڑتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری صرف آپ کے پیسے ہی نہیں بلکہ وقت اور محنت کی شکل میں بھی درکار ہوتی ہے۔

900 RS increase per gold price in one day

ایپل ‘ہیکر’ نے آئی کلاؤڈ بلیک میل پر جیل کو بخشا

ایک 22 سالہ شخص نے یہ دعوی کرکے ایپل کو بلیک میل کرنے کی کوشش کا اعتراف کیا ہے کہ اسے لاکھوں آئی کلاؤڈ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل ہے۔شمالی لندن سے تعلق رکھنے والے کریم البیارک نے دھمکی دی تھی کہ جب تک ایپل اسے ،000 100،000 (£ 76،000) مالیت کے آئی ٹیونز گفٹ کارڈز نہیں دیتا تب تک 319 ملین اکاؤنٹ مسح کردیں گے۔

لیکن ایک چھان بین میں پتا چلا ہے کہ البیرک نے ایپل کے سسٹموں پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔اسے دو سال کی معطل جیل کی سزا سنائی گئی ہے اور اسے بغیر تنخواہ کے 300 گھنٹے کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔مارچ 2017 میں ، البیارک نے ایپل کی سیکیورٹی ٹیم کو ای میل کیا ، جس نے دعوی کیا ہے کہ لاکھوں آئی کلاؤڈ اکاؤنٹس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔اس نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اسے دو کھاتوں میں بانٹتے ہوئے دکھائی دیا۔

اس نے دھمکی دی تھی کہ اکاؤنٹ کی معلومات بیچ دے گا ، اپنا ڈیٹا بیس آن لائن ڈال دے گا اور اکاؤنٹس کو دوبارہ ترتیب دے گا ، جب تک کہ ایپل اپنے آئی ٹیونز گفٹ کارڈ کی طلب ادا نہ کرے۔البیرک نے یہ بھی کہا کہ وہ 75،000 ڈالر کی کرپٹو کرنسی قبول کریں گے ، لیکن بعد میں اس میں اضافہ کرکے 100،000 ڈالر کردیا گیا۔دھمکی بھیجنے کے تقریبا دو ہفتوں بعد اسے شمالی لندن میں واقع اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایپل نے اپنے دعووں کی چھان بین کی لیکن وہ ثبوت نہیں مل سکے کہ اس کے نظام سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پایا کہ البیارک نے دیگر خدمات سے ای میل پتے اور پاس ورڈ اکٹھے کیے تھے ، جو پہلے ڈیٹا کی خلاف ورزی کے معاملے میں سامنے آچکے تھے۔تب اس نے اپنی قسمت آزمائی ، اگر کسی نے بھی اپنے آئی سی کلاؤڈ اکاؤنٹ کے لئے وہی صارف نام اور پاس ورڈ استعمال کیا ہو۔اس قسم کے حملے کو ، جس کو اسناد سے بھرنا کہا جاتا ہے ، اس عمل کو تیز کرنے کے لئے خودکار بنایا جاسکتا ہے۔البیرک نے تفتیش کاروں کو بتایا: “جب آپ کے پاس انٹرنیٹ پر طاقت ہے تو یہ شہرت کی طرح ہے اور ہر کوئی آپ کا احترام کرتا ہے۔”

بغیر معاوضہ کام کے 300 گھنٹے کے علاوہ ، انہیں چھ ماہ کا الیکٹرانک کرفیو بھی دیا گیا ہے۔این سی اے کے سینئر تفتیشی افسر انا اسمتھ نے کہا ، “البیرک کو غلط طریقے سے یقین تھا کہ وہ دو کھاتوں میں ہیک کرنے اور ایک بڑی ملٹی نیشنل کارپوریشن کو بلیک میل کرنے کی کوشش کے بعد انصاف سے بچ سکتا ہے۔”

YouTube admits error over Bitcoin video purge

YouTube BitCoin acknowledges the error on clearing the video

یوٹیوب نے یہ تسلیم کرنے کے بعد سیکڑوں کرپٹو کرنسی سے متعلق چینلز کو بحال کردیا ہے جس نے انھیں “غلطی سے” دور کردیا تھا۔

یوٹیوب بٹ کوائن ویڈیو صاف کرنے پر غلطی کا اعتراف کرتا ہے

یوٹیوبرز کی ایک لہر کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ان کے ویڈیوز اس پلیٹ فارم کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی میں ہیں۔یہ اقدامچھوٹے چینلز اور پبلشروں کو نشانہ بنانے کے لئے ظاہر ہوا۔ جنہوں نے بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کے مواد پر توجہ مرکوز کی۔اس کے بعد گوگل کی ملکیت میں ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم نے غلطی پر معذرت کرلی ہے۔لیکن کچھ کریپٹو بلاگرز نے شکایت کی ہے کہ ان کے ویڈیو کئی دن بعد بحال نہیں ہوئے ہیں۔

یوٹیوب پر 200،000 سے زیادہ صارفین کے پاس موجود کرس ڈن نے کہا ، “یہ ایک بہت بڑا ویک اپ کال ہے ، اور میں وکندریقرت متبادلوں پر تحقیق کر رہا ہوں۔”ویڈیو بنانے والے ابتدائی طور پر ٹویٹر پر اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کے took ، بہت سے معروف چینلز کے دعوے کے بعد کہ یوٹیوب ان کی شکایات کو نظرانداز کررہا ہے۔نوگیٹ نیوز کے بانی ، الیکس سینڈرز نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ واقعہ “واقعی خوفناک” لگتا ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ یوٹیوب اپنے صارفین کے ساتھ بات چیت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یوٹیوب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے “غلط کال” کی ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غلطی سے کوئی بھی مواد ہٹا دیا گیا ہے۔اس نے کہا ، “ہماری سائٹ پر ویڈیوز کے بڑے پیمانے پر ، بعض اوقات ہم غلط کال کرتے ہیں۔””جب ہمارے خیال میں یہ لایا جاتا ہے کہ کسی ویڈیو کو غلطی سے ہٹا دیا گیا ہے ، تو ہم اسے دوبارہ بحال کرنے کے لئے تیزی سے کام کرتے ہیں۔”

اس نے کہا کہ اس کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ، اور اصرار کیا گیا ہے کہ اس واقعے سے متاثرہ چینلز کو “کوئی جرمانہ نہیں” دیا جائے گا۔

Turbo C++ PROGRAMMING

کمپيوثر پروگامنگ سيکھں .ااب  نہايت آسان ۔۔۔آسان ترين ويڈيو ليکچر کيلے نيچے پلے بٹن پر کلک کريں۔۔

LEARN PROGRAMMING IN C++

Content of the Complete Course


(You can Get DVDs, Easy Notes and Short Cut Keys also available on Demand by sending SMS- or Calling at 0334 334 4464)
After Completing Course, you can also get Board – University Affiliated Recognized Certificate by giving Online Test.

Introduction to Programming

How to USE languages and its types

Using C++ (GUI )

How to start writing programs in C++

Basic modes of C++

Variables Introduction, using string constants, statements

Operators & types

Loops

Arrays

Structures

Functions

Classes

 

Website Development HTML Tutorial

ويب سائٹ اور  اہم بنيادی ايچ ٹی ايم ايل کے بارے ميں فری ويڈيو ليکچر

Content of the Complete Course


(You can Get DVDs, Easy Notes and Short Cut Keys also available on Demand by sending SMS- or Calling at 0334 334 4464)
After Completing Course, you can also get Board – University Affiliated Recognized Certificate by giving Online Test.

1. Introduction to Web Development

Using Basic Language Tools for Web Development
Introduction to HTML
HTML basic Tags
How to make Dynamic Web pages
Dreamweaver
Using PHP
How to use language pieces in PHP
How to use Web content management system
Using Different CMS for making website
Trouble Shooting

TEST & ISSUANCE OF VALID RECOGNIZED CERTIFICATE

 

 

Urdu writing in MS WORD

اردو قومی زبان ہونے کے علاوہ دنیا کی چند بڑی زبانوں میں شامل کی جاتی ہے۔ اس ویڈیو میں ہم نے اردو زبان کو دوسرے پروگراموں میں یعنی ایڈوب فوٹوشاپ میں ایکسپورٹ کرنا سکھایا ہے۔
ویڈیو لیکچر دیکھنے کے لیئے نیچے ویڈیو پر کلک کریں۔