Naqibullah Mehsud had relations with Zardari’s daughter

Naqibullah Mehsud had relations with Zardari's daughter

نقیب اللہ محسود کے زرداری کی بیٹی سے تعلقات تھے “ امریکی صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ طوفان آ گیا

13 جنوری 2018 کو سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے نقیب اللہ محسود کو مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کر دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش اور لشکر جھنگوی سے ہے تاہم بعدازاں عدالت نے نقیب اللہ کے خلاف تمام مقدمات خارج کر دیئے تھے ۔راﺅ انوار آج کل عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور ان پر ماورائے عدالت قتل کا کیس بھی چل رہاہے
تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ کو قتل ہوئے دو سال بیت چکے ہیں تاہم آج ان کا ذکر ایک مرتبہ پھر سے سوشل میڈیا پر امریکی صحافی کی جانب سے کیا گیا اور انہوں نے ایسا دعویٰ کر دیا کہ سن کر ہر پاکستانی کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی تاہم اس پر ایک لمبی چوڑی بحث بھی شروع ہو گئی ہے ۔

سوشل میڈیا پر اس معاملے کا آغاز پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی چھوٹی صاحبزادی ” آصفہ بھٹو “ کی ٹویٹ سے ہوا ، انہوں نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” پر امن احتجاج کوئی جرم نہیں ہے ۔“ آصفہ بھٹو کے ٹویٹ پر امریکی صحافی ” سنتھیا ڈی ریچی “ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہ ” درست بات کی ، پر امن احتجاج جرم نہیں ہے لیکن جن علاقوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے بیش بہا کوششوں کے بعد امن قائم کیا ہو وہاں ہنگامہ برپا کرنا جرم ہے ۔“
ان کا کہناتھا کہ ” بہر حال اگلے الیکشن میں کیا پیپلز پارٹی سندھ میں پانی کے ذرائع پر روک لگائے گی کہ جب تک غریب ووٹر پیپلز پارٹی کو دفاتر میں جا کر ووٹ نہیں دیتے؟ جیساکہ کچھ رپورٹس کہتی ہیں یہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے ۔“

امریکی صحافی کے ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے سوشل میڈیا صارف ” فرخ کیانی “ نے نہایت ہی عجیب سوال کرتے ہوئے کہا کہ ” ان سے پوچھیں کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے پیچھے کیا جوہات تھیں “۔

فرخ کیانی کے ٹویٹ پر امریکی صحافی ” سنتھیا دی ریچی “ نے ایک مرتبہ پھر میدان سنبھالا اور جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” ہاں ، یہ ایک اور تنازعہ ہے ، کچھ رپورٹس کہتی ہیں کہ نقیب اللہ محسود کے آصف زرداری کی صاحبزادی کے ساتھ تعلقات تھے ۔“ ان کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ” اس کے بعد نتیجے کو الجھا کر غلط سمت دی گئی اور بلاآخر ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔“

Private TV channel has received a huge punishment for raising the voice of Kashmiris

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *