Leading sports correspondent and author Roger Kahn passed

Finland's new prime minister, who leads the progressives in 2020

اسپورٹس کے معروف صحافی اور انگریزی زبان کی 20 بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنف، راجر کہن 92 برس کی عمر میں جمعرات کو نیو یارک شہر میں انتقال کر گئے۔

ان کی معروف تصنیف ’دی بوائز آف سمر‘ بروکلین کے ان نوجوانوں کی رومانوی داستان ہے جو بیس بال، ڈوجرز کے دلدادہ ہیں۔

یہ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ہے جس میں بیس بال کھیل اور ڈوجرز کلب سے وابستہ کھلاڑیوں کے کارناموں کی روداد تحریر کی، اس کی اشاعت کے بعد لاکھوں شائقین ان کے گرویدہ بن گئے۔ ان کی یہ معرکة الآرا کتاب 1972ء میں شائع ہوئی۔

کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ میرے والد سے میرا پیار اس لیے بڑھا کہ وہ بھی بیس بال ٹیم، ڈوجرز کے دلدادہ تھے۔

بقول ان کے، ’’ہر ایک کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لڑکپن جاتا رہتا ہے۔ لیکن، اس وقت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بڑے ہونے کی کیا ذمہ داریاں ہیں‘‘۔

وہ کہتے ہیں کہ سفر کرنا میری کمزوری تھی، اور میں نے بیس بال کی شاندار ٹیموں کے ساتھ سفر کیا اور خود زندگی کے سفر کو قریب سے پرکھا۔

اپنی یادداشت میں راجر کہن کہتے ہیں کہ ’دی بوائز آف سمر‘ دراصل لڑکپن بیتنے کی کہانی ہے۔ اس خیال کی باریکی بھانپنے کے دعوے دار، ڈان ہینلے نے، اس عنوان پر ایک نغمہ لکھا، جس میں ایک شخص اپنے ماضی کی یادوں میں جیتا ہے۔

یہ سال 1950ء کی دہائی کے اوائل کا عرصہ ہے، جسے کہن اپنی مشق سخن کی زینت بناتا ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب راجر کہن نیو یارک ہیرلڈ ٹربیون کے رپورٹر تھے۔ بیس برس بعد، بیس بال ٹیم کے تین کھلاڑی جیکی رابنسن، کارل فریلو اور روئے کمپنیلا بیمار پڑ جاتے ہیں۔

کتاب کے شائع ہونے کی دیر تھی کہ لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ساتھ ہی، ناقدین نے الزام لگایا کہ کہانی کو پرسوز بنانے کی خاطر کہن نے جذبات کا سہارا لیا ہے۔

کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے، روزنامہ نیو یارک ٹائمز سے وابستہ صحافی، کرسٹوفر لہمن نے لکھا ہے کہ ’’سب کچھ درست۔ لیکن اس کتاب نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے‘‘۔

سال 1948 میں کہن کاپی بوائے کے طور پر ٹربیون میں بھرتی ہوئے، اور چند برسوں بعد بیس بال کھیل کے رپورٹر بن گئے۔

چھبیس سال کی عمر میں وہ اخبار کے مقبول اسپورٹس رپورٹر بن چکے تھے، اور 1952ء میں ماہانہ 10000 ڈالر تنخواہ پر کام کرتے تھے۔

سال 1956 میں وہ نیوزویک میگزین کے اسپورٹس ایڈیٹر بنے، اور وہ ایوننگ پوسٹ، ایسکوائر، ٹائم اور اسپورٹس السٹریٹڈ کے لیے مضامین تحریر کیا کرتے تھے۔

مزید : اہم خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *