The issue of extension of employment of Army Chief has been made clear by the Law Minister

Army Chief's term of extension of employment

اسلام آباد وفاقی حکومت نے جہاں ایک طرف سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں آرمی چیف کی مدت ملازمت طے کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل شروع کردیا ہے

وزیر قانون فروغ نسیم نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں دائر ریونیو پٹیشن واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی باوجود اس کے کہ پاکستانی آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020 پارلیمنٹ منظور کرلیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ریویو پٹیشن کے ساتھ ملحقہ دیگر درخواستیں واپس لی جاسکتی ہیں۔

Former US ambassador to Pakistan expresses concern over limited war in US and Iran

فروغ نسیم کے بیان کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں اب ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ بل کی منظوری کے بعد اس ریویو پٹیشن کا کیا ہوگا؟ جبکہ کچھ قانون دانوں کا کہنا ہے کہ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد ریویو پٹیشن خود بخود غیر موثر ہوجائے گی کیونکہ عدالتی احکام کی روشنی میں حکومت قانونی عمل پورا کرلے گی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے نے بھی اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ عدالتی احکام پر عمل کرتے ہوئے بل پاس ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے ریویو پٹیشن کا واپس نہ لیا جانا سمجھ سے بالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ حکومتی حلقے ریاستی اداروں میں کشیدگی کے خواہاں ہیں اسی لیے وہ حکومت کو اس قسم کے مشورے دے رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہسپریم کورٹ نے احکامات اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان کی رضامندی سے جاری کیے تھے جنھوں نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ حکومت آرمی چیف کی مدت ملازمت کے سلسلے میں قانون سازی کرے گی۔

News :مزید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *