2019 was the second hottest year in history on the planet

2019 was the second hottest year in history on the planet

یورپی یونین کے موسمیاتی جائزہ کار ادارے نے کہا ہے کہ گذشتہ برس یعنی 2019 کرہ ارض پر ریکارڈ کیا جانے والا تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال تھا جبکہ گزرنے والی دہائی گرم ترین دہائی رہی۔

’کوپرنیکس کلائمنٹ چینچ سروس‘ (سی تھری ایس) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دہائی میں 2016 تاریخ کا گرم ترین سال تھا جبکہ 2019 میں ریکارڈ کیا گیا اوسط درجہ حرارت 2016 کے مقابلے میں محض ایک ڈگری کا سواں حصہ ہی کم تھا۔

یورپی سروس کے مطابق 2019 خاص طور پر براعظم یورپ کے لیے تاریخ کا گرم ترین سال رہا۔

کوپرنیکس کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دہائی کے آخری پانچ برس کرہ ارض پر ریکارڈ کیے گئے گرم ترین سال تھے۔

کوپرنیکس کے ڈائریکٹر جان نوئل تھیپو نے کہا: ’یہ بلا شبہ خوفناک علامات ہیں۔‘

2019 میں عالمی درجہ حرارت 1981 سے 2010 تک کے دوران ریکارڈ کیے گئے اوسط درجہ حرارت سے 0.6 سیلسیس زیادہ تھا۔ مزید براں گذشتہ پانچ سالوں کا درجہ حرارت صنعتی انقلاب کے دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.1 سیلسیس سے 1.2 سیلسیس زیادہ رہا ہے۔

سی تھری ایس کے سربراہ کارلو بونٹیمپو کا کہنا تھا: ’2019 غیر معمولی طور پر گرم سال رہا ہے۔ درحقیقت یہ ہمارے ریکارڈ میں تاریخ کا دوسرا سب سے زیادہ گرم سال تھا۔ جب کہ زیادہ تر انفرادی مہینوں میں تو گرمی کے کئی ریکارڈ ٹوٹے ہیں۔‘

2016 کے درجہ حرارت کو بڑھانے میں اس سال کے شدید ایل نینو کا بھی ہاتھ تھا۔ تاہم 2019 میں یہ حدت 2016 کے مقابلے میں محض 0.04 سیلسiس ہی کم تھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ درجہ حرارت میں بڑھتا ہوا رجحان جاری ہے۔

یورپی ادارے کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجہ ماحولیاتی کاربن کی کثافت کا بڑھنا ہے جو 2019 میں بھی جاری رہا اور دنیا بھر میں ریکارڈ بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔

اقوام متحدہ میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کی پیدا کردہ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں 2030 تک 7.6 فیصد تک کمی لانا ضروری ہے تاکہ حدت کے بڑھاؤ کو صنعتی انقلاب کے دور سے محض 1.5 سیلسیس زیادہ تک ہی محدود رکھا جائے تاہم فل وقت گیسوں کا اخراج اتنا زیادہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں لگتا۔

انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمنٹ چینچ (آئی پی سی سی) کا ماننا ہے کہ اگر عالمی حدت 1.5 سیلسیس تک بھی بڑھے تو بھی اس کے نمایاں منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر اس کی شدت 2.0 تک جا پہنچی تو اس کے خوفناک اثرات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ایک اندازے کے مطابق سیارے پر انسانی سرگرمیاں پہلے ہی درجہ حرارت میں 1.0 سیلسیس کے اضافے کا باعث بنی ہیں اور اگر موجودہ شرح سے انسانی سرگرمیاں ایسے ہی جاری رہیں تو 2030 سے ​​2052 کے درمیان درجہ حرارت 1.5 سیلسیس تک بڑھنے کا امکان ہے۔

برطانیہ کی حکومت کی پالیسی فی الحال 2050 تک زیرو کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہے۔

آئی پی سی سی کا کہنا ہے کہ 1.5 سیلسیس اور 2.0 سیلسیس اضافے کی حدت کے درمیان فرق تباہ کن خشک سالی، معدومیت اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرے کو کم کرے گا اور یہ کہ صحت، روزگار، فوڈ سکیورٹی، پانی کی فراہمی، انسانی تحفظ اور معاشی نمو کو ماحول سے متعلق لاحق خطرات کم شدت کے ہوں گے۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ اہم طور پر 1.5 سیلسیس اضافے سے نمٹنے کے لیے جن تبدیلیوں کی ابھی ضرورت ہوگی وہ 2.0 سیلسیس درجہ حرارت کے مقابلے میں کم شدت کے ہوں گی اور لوگوں کو ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے زیادہ وقت ملے گا۔

ایک ایسے وقت میں جب ماحولیاتی ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کو موسم کے مخصوص واقعات سے منسلک کرنے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں، 2020 کا آغاز ان قدرتی آفات سے ہوا ہے جن کا تعلق درجہ حرارت سے ہے، آسٹریلیا کے جنگلوں کی لگی آگ اور انڈونیشیا میں مہلک سیلاب ان آفات میں شامل ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی اسی طرح کی تباہ کاریوں میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔

یورپی کمیشن کی نئی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے ’گرین ڈیل‘ کو اپنی اہم پالیسی بتایا ہے جس کا مقصد 2050 تک یورپی یونین کو زیرو کاربن کے اخراج کی طرف لے کر جانا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ’وجود کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *